پائلٹس کا دعوی ہے کہ انتظامیہ انھیں راستے سے ہٹا کر ریٹائرڈ ایئرفورس کے پائلٹس یا کنٹریکٹ پر پائلٹس لانا چاہتی ہے

تمام پائلٹس جن کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ان سب کے پاس سی پی ایل یعنی کمرشل پائلٹ لائسنس ہے اور ان میں سے اکثریت کے پاس اے پی ٹی ایل موجود تھا۔
16: ۔ پائلٹس کا دعوی ہے کہ انتظامیہ انھیں راستے سے ہٹا کر ریٹائرڈ ایئرفورس کے پائلٹس یا کنٹریکٹ پر پائلٹس لانا چاہتی ہے۔
1: پائلٹ بننے کے لیے عمومی طور پر کوئی قابلیت درکار نہیں ہوتی- امریکہ کی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی کہتی ہے کہ آپ کی عمر کم از کم 17 برس ہونی چاہیے اور آپ کو معلومات کا پرچہ دینا پڑتا ہے۔ جس کے بعد آپ کا میڈیکل لیا جاتا ہے اور یوں آپ کو سٹوڈنٹ پائلٹ لائسنس دیا جاتا ہے
2: دو سو گھنٹے کے پروازوں کے بعد آپ کو کمرشل پائلٹ لائسنس ملتا ہے- اس کے بعد آپ کو امتحانات پاس کرنے پڑتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ 1500 گھنٹے کی پروازیں مکمل کرنی پڑتی ہیں جن کی بنیاد پر سول ایوی ایشن اتھارٹی آپ کو ایئرلائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس (اے پی ٹی ایل) جاری کرتی ہے جس کی بنیاد پر آپ مسافر بردار طیاروں کو ایئرلائنز کے لیے اڑا سکتے ہیں۔
4: ڈگری کا تعلق ہر ایئرلائن کے ہیومن ریسورس قوانین کے ساتھ ہے اور بنیادی معاملہ اخلاقی اور دھوکہ دہی کا ہے نہ کہ تعلیم کی کمی کا۔
5: جعلی لائسنس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو پائلٹس اس فہرست کا حصہ ہیں انھیں طیاروں کے بارے میں نہیں پتا یا انھیں طیارے اڑانے نہیں آتے۔
6: سنہ 2012 سے قبل یہ تمام پائلٹس لائسنس کی بنیاد پر قابل اور درست تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب بھی ان کے پاس پاکستان سول ایوی ایشن کا جاری کردہ لائسنس ہے جو بالکل اصل اور مصدقہ ہے۔
7: پائلٹس سے زیادہ سول ایوی ایشن اور خصوصاً اس کا لائسنسگ کا شعبہ مشکوک ہے جس نے ان پائلٹس کو کسی بھی وجہ سے ان مبینہ طور پر مشکوک امتحانات کے نتیجے میں لائسنس جاری کیے۔
8: امتحانات سول ایوی ایشن کے دفتر میں سول ایوی ایشن کے کمپیوٹرز پر سول ایوی ایشن کی نگرانی میں سول ایوی ایشن کے نظام کے تحت لیے جاتے ہیں۔
انھیں چیک بھی سول ایوی ایشن کے لوگ کرتے ہیں نمبر بھی وہی لگاتے ہیں، پاس اور فیل بھی وہی کرتے ہیں اور پھر نتیجہ نکال کر لائسنس بھی سول ایوی ایشن ہی جاری کرتی ہے۔
9: سنہ 2012 میں پاکستان سول ایوی ایشن نے اچانک سے پائلٹس کے امتحانات کے نظام کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔
10: پہلے دو امتحانات کے نتیجے میں آپ کو لائسنس جاری کیا جاتا تھا۔ فلائنگ آوورز اور دوسرے لوازمات کے ساتھ۔ 2012 کے بعد اسے بدل کر آٹھ پرچوں پر مشتمل کر دیا گیا اور اس کے لیے بائیس ہزار سوالات کا ایک ڈیٹا بیس بنایا گیا جنھیں مکمل کرنے کے لیے مہینے اور کبھی سال لگ جاتا۔
11: نتیجتاً بہت سارے پائلٹ امتحانات میں فیل ہونا شروع ہوئے ۔ مگر اچانک سے اسی وقت کنٹریکٹ پر پائلٹس کی بھرتیاں بھی شروع ہوئیں۔ جسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔
12: 262 پائلٹس نہیں ہیں، اور اصل تعداد کم ہے۔
13: سول ایوی ایشن نے اس معاملے میں پائلٹس سے پیسے بٹورنے کے لیے انھیں ہراساں کرنا شروع کیا جس کے نتیجے میں چند پائلٹس عدالت میں گئے اور عدالت نے انھیں لائسنس جاری کروائے۔
14: چند پائلٹس اور سول ایوی ایشن کے دو سینیئر سابق افسران نے یہ الزام لگایا کہ سول ایوی ایشن میں چند افراد نے مال بنانے کے لیے یہ سارا سلسلہ شروع کیا
15: سب ہی چاہتے ہیں کہ اس بدنامی کے داغ ایک شفاف انکوائری کے ذریعے مٹائے جا سکیں۔
17: کیا وفاقی وزیر برائے ہوابازی سول ایوی ایشن میں بھی اس سارے معاملے پر ایک جامع تحقیقاتی کمیشن کا اعلان کریں گے جو ان لائسنسز کے جاری کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے گا؟