ایک نئی ایگریسیو اور پروگریسیو سیاسی جماعت بننے کے پیچھے دماغ سینئر سیاستدان افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر کا ہے

پشاور(نمائندہ خصوصی)پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)پارلیمانی سیاست میں قدم رکھنے کے لئے فائنل راؤنڈ میں داخل ہوگئی ہے ،پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین ماضی میں کئی بار تحریک کو غیر پارلیمانی مزاحمتی تحریک کے طور پر زندہ رکھنے کا بیان دے چکے ہیں ،پشتون تحفظ موومنٹ اسلام آباد 2018 دھرنے کے بعد چند جلسوں کے بعد پارلیمانی اور غیر پارلیمانی بحث میں اُلجھ گئی ہے۔

پی ٹی ایم واضح طور پر غیر پارلیمانی تحریک اور پالیمانی سیاسی جماعت کے سکول آف تھاٹس میں بٹ گئی ہے پی ٹی ایم ممبر جو ان تمام حالات سے متعلق فرسٹ ہینڈ معلومات رکھتا ہے انھوں نے بتایا کہ محسن داوڑ، علی وزیر اور ان کے ہم خیال ایک پروگریسیو سیاسی جماعت کے حق میں ہیں اور دوسری طرف ڈاکٹر سید عالم محسود، ثناء اعجاز اور چند دوسرے کور کمیٹی کے ارکان غیر پارلیمانی مزاحمتی تحریک کے زبردست حامی ہیں۔

دونوں ممبرز قومی اسمبلی کمیٹی اجلاسوں میں پارٹی بنانے کے حق میں زبردست دلائل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان میں اگر سیاست کرنی ہے تو اس دھرتی کے آئین کے تابع ہو کر مزاحمتی جماعتی سیاست شروع کرنا بہت ضروری ہے۔

دوسری جانب سید عالم اور ثناء اعجاز گروپ بھی کہتے ہیں کہ اگر ایک اور سیاسی جماعت کی بنیاد رکھنا تھا تو پھرشروع دن سے تحریک کا ساتھ دینے والوں کو بھی بتا دینا چاہئیے تھا کیونکہ پی ٹی ایم کا رومانس اور زور تو دو قوم پرست جماعتوں اے این پی اور پختونخوا میپ کے کارکنان کی وجہ سے ہے اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ پارلیمانی سیاست میں پھر چند نعروں اور مطالبوں سے تحریک کے دوست پیچھے ہٹیں گے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلام آباد پریس کانفرنس سے پہلے دونوں پارلیمانی اور غیر پارلیمانی دھڑوں کا توازن برابر تھا مگر اب محسن داوڑ اور علی وزیر کے ساتھ ساتھ منظور پشتین بھی کسی حد تک پارلیمانی سیاست کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ 2سال کبھی پانچ سال کے بعد جماعتی سیاست کریں گے۔

ذرائع نے یہ بھی کہا کہ وزیرستان میں پشتین ہاؤس کا بننا بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پشتون تخفظ موومنٹ کے سرکردہ رہنماؤں نے پارٹی بنانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اگر چہ منظور پشتین نے کئی دفعہ پارلیمانی سیاست کی کھل کر مخالفت بھی کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایک نئی ایگریسیو اور پروگریسیو سیاسی جماعت بننے کے پیچھے دماغ سینئر سیاستدان افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر کا ہے