ڈاکٹر کے گھر کا خرچہ بھی پیسے سے چلتا ہے دعا سے نہیں

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک خبر سوشل میڈیا پر بہت گرم تھی کہ ایک ڈاکٹر کو محض اس لئے ٹانگ میں گولی ماری گئی کہ اس نے ایک مریض کو ایک ایسی دوا نہیں دی جس کی اس کو ضرورت ہی نا تھی۔ اس ایک خبر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں اس وقت عدم برداشت کا کیا عالم ہے اور ایک ڈاکٹر کو یہاں کتنا تحفظ حاصل ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بچے کے پیدا ہوتے ہی ماں باپ بلکہ پورا خاندان یہ خواب دیکھنا شروع کر دیتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر اک قابل ڈاکٹر بنے گا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب انجنیئرنگ بھی ایک کم تر فیلڈ سمجھی جاتی تھی۔ غرض یہ کہ ڈاکٹر ہونا ایک قابل عزت بات تھی اور لوگ اس شعبہ کو قدر بلکہ رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ پھر ایک وقت آیا جب ملک میں بات منوانے کا ایک نیا ڈھنگ نکلا یعنی احتجاج! وہیں ڈاکٹری کے پیشے میں بھی نیا خون آیا، جب انھوں نے دیکھا کے یہاں ڈاکٹر پر کام کا بوجھ زیادہ ہے اس کی تنخواہ کم اور پیٹ کی بھوک زیادہ ہے، یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی ڈاکٹر کی کچھ عزت باقی تھی۔

جب نوجوان ڈاکٹر نے دیکھا کہ اس کے سینئر تو پھر بھی اپنی ’پرائیویٹ پریکٹس‘ سے کچھ نا کچھ زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہیں لیکن اس کا اس مہنگائی میں فقط چند ہزار کی روزی میں گزارا نہیں۔ کلینک کرنے کی نہ تو لمبی شفٹ کے بعد اس میں ہمت ہے نہ ہی وسائل تو پھر اس نے سوچا کیوں نا میں بھی اپنے حق کے لئے آواز اٹھا کر دیکھوں شاید شنوائی ہو جائے۔ پھر ’ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن‘ وجود میں آئی۔ وہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوا کہ میڈیا نے کہا کہ ”ڈاکٹر تو مسیحا ہے اس کا تو فرض انسانیت کی خدمت ہے اور بس، اگر کرے تو صحیح نہیں تو وہ تو قصائی ہے“ ۔

عوام نے بھی اس بات پر جی جان سے یقین کیا یہاں سے ڈاکٹر کے خلاف نفرت کا ایک ایسا سلسلہ چلا کہ بات اب اسلحے کے استعمال تک چلی گئی ہے۔ یہ سب بیان کرنے کا مقصد فقط یہ ہے کہ خدارا ڈاکٹر کو مسیحا کہنا چھوڑ دیں۔ ہم فقط انسان ہیں اور ہمارا پیشہ مقدس ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہماری کوئی بنیادی ضروریات زندگی نہیں۔ ہمارے گھر کا خرچہ بھی پیسے سے چلتا ہے دعا سے نہیں، ہمارا کام بھی ایک جاب ہے جیسے کسی بینکر یا انجنیئر کا کام ہوتا ہے۔

لیکن ہاں، ہم انسانی جان بچانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں مگر زندگی موت ہمارے نہیں اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں بے شک محبت نا دیں، لیکن عزت تو دیں۔ نہیں تو وہ دن دور نہیں جب آپ کو کہیں ڈھونڈنے پے بھی ڈاکٹر نہیں ملے گا اور آپ سسک کے جان دے دیں گے اور آپ کے پیارے یہ بھی نہ کہ پائیں گے ”ڈاکٹر نے زہر کا ٹیکا لگا کے مار دیا“ ۔ و ما علینا۔

عائشہ نصر