میراایک سوال ہے؟

شاہ زیب خانزادہ، حامد میر،سلیم صافی،انصارعباسی،امتیازعالم،ارشادبھٹی،سہیل وڑائچ،شہزاد اقبال ،منیب فاروق، جیو پاکستان کے عبداللہ سلطان،ہما،امیر شاہ،نیوزکاسٹر،وجیہ ثانی،مبشرہاشمی،محمدجنید،علینہ فاروق شیخ،اشعرعالم سے
کہ انہیں جوبھی شہرت ملی عزت ملی وہ میرشکیل الرحمان کی میہربانی اورجیو جنگ گروپ سےملی اور اس میں بھی کیاشک ہےکہ میرصحافت تین ماہ سےایک جھوٹےکیس میں پابندسلاسل ہیں،اوپر دئےگئےناموں میں سےکچھ کےاعمال اس کی وجہ ہیں وہ ناکردہ گناہوں کی سزابھگت رہےہیں اوراف تک نہیں کہامگرکیاآپ لوگوں کو توفیق ہوئی کہ وزیراعظم ہائوس کےسامنےصرف ایک دن کایاچندگھنٹوں کادھرنادیتے وزیراعظم سےملاقات کرنےجاتےاورپھرکہتے۔۔۔
جناب وزیراعظم بس بہت ہوچکا آپ کی انا پوری ہوگئی میر صاحب 3 ماہ سےبغیرکسی کیس کےآپ کی جیل میں ہیں آپ اپنےسرپرستوں سےجوچاہتےہیں منوالیتےہیں میرصاحب کی رہائی کاپروانہ بھی ہمیں لےکردیں ہم انہیں لئےبغیرنہیں جائیں گے،یہ کون نہیں جانتاکہ نوازشریف،مریم نوازکےبعدمیرشکیل الرحمان کوتوڑنےراہ وفا کامسافربنانے کی کوشش میں وہ ساری حدیں پارکرگئےہیں مگرہم سب کویہ یادرکھناچاہئےکہ مملکت خدادادمیں مدافعتی صحافت کایہ آخری استعارہ گرٹوٹ گیاتوپھرکم ازکم تم لوگوں کوکہیں پناہ نہیں ملےگی یہ جوتمھارےبھاری بھرکم ایجنڈے ہیں ان کاوزن میرشکیل جیسااعلی ظرف ہی برداشت کرسکتاہےاورکربھی رہاہے
اس لئے بھی ہم سب کوچاہئے کہ میر کوٹوٹنےبکھرنےسےپہلےبچالیں جیسےوہ تم سب معززین صحافت کوبچاتارہااوراس لڑائی میں اس نےاپنےآپ کوپہلےہی زخمی زخمی کرلیاہےرستےزخموں سےچورمیرکوقیدتنہائی میں رکھ کرجھنجھوڑاجارہاہےاگرآپ سب معززین قلم یک زباں ہوکرکھڑےہوجائیں تو
دیکھیں پھرکیسےمیرصاحب رہانہیں ہوتےآپ میں سےکچھ کی طاقت شہرت ان کےتعلقات اوراثرورسوخ سےکون واقف نہیں ہم توآپ کےسامنےطفل مکتب ہیں گرآپ کی ہوا بھی ہمیں چھوجائےتوہم سونےمیں تل جائیں، سرکار۔۔برا نہ منائیےگاچھوٹامنہ بڑی بات،
جب بھی آپ لوگوں پربراوقت آیامیرشکیل الرحمان سیسہ پلائی دیوارکی مانندڈٹ کرآپ کی ڈھال بن گئےچاہےاس کےعوض انہیں کتناہی مالی نقصان اورساکھ دائو پرلگانی پڑی بظاہرتووہ چپ ہیں اورہمیشہ کی طرح انتقام کے سارےتیراپنےسینےپرسہ رہےہیں مگرقیدتنہائی میں ضرورگنگناتےہونگے،
وفاجس سےکی بےوفاہوگیا
جسےبت بنایاوہ خداہوگیا
پوری برادری کے لئےیہ شرم کی بات ہے کہ تین ماہ سےوہ دل اورگردوں کامریض شوگر اورسماعت جیسی بیماریوں میں مبتلامیربغیر کسی جرم کےجیل میں ہےمگرراوی چین ہی چین لکھ رہاہے،
ہمیں صحافت کےرہبروں اورلیڈروں سےاب کوئی امیدنہیں ان بے چاروں کی اتنی کمزوریاں ہیں کہ ذرا سےپرپرزے نکالنےپرحکومت کے سرپرست دھول میں اٹی بیسیوں فائلوں میں سےکسی ایک کوجھاڑکر”فدوی“کوبھیج دیتے ہیں اور اسکے بعدقبرستان کاسناٹاچھاجاتاہے،
کچھ لوگ سمجھیں گےکہ میں چمچہ خوری اس لئےکرہاہوں کہ مجھےجنگ گروپ میں دوبارہ نوکری چاہئےتومیں خداکوحاضرناظرجان کرحلفیہ کہتاہوں مجھے جنگ میں بحیثیت رپورٹر دوبارہ نہیں جانابہت نوکری کرلی عمرکےاس حصہ میں اب ایسی ضروتیں باقی نہیں رہیں کہ میں مراجائوں،اورمیں انشااللہ اپنے عہد پرتادم مرگ قائم رہونگا،
میں یہ بھی حلفیہ کہتاہوں کہ میرشکیل الرحمان غدارنہیں وہ ملک دشمن نہیں میں ان کےبہت قریب ایک پوری دہائی رہاانہیں بہت قریب سےدیکھاوہ ایک انتہائی نفیس انسان اعلی پائےکےصحافی اورملک کےلئےہمیشہ فکرمندرہنے والےمحب وطن صحافی ہیں جوبھی ان سےناراض ہیں انہیں خداکاواسطہ دےکراپیل کرتاہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتےیہی میر شکیل ان کاماضی میں دست وبازو تھے اورانشااللہ مستقبل میں بھی رہیں گے،
میں کافی روزسےمیرصاحب کے لئے لکھناچاہتاتھامگران بڑے ناموں کی ناراضگی کےڈرسےرک جاتاتھاآج حوصلہ کرکےلکھنے بیٹھاہوں تومیری خاص طورپرمحترم حامدمیر،محترم سلیم صافی،محترم انصارعباسی،محترم امتیازعالم اورمحترم شاہزیب خانزادہ سےاپیل ہےکہ آپ لوگوں کی وجہ سے میر صحافت آزمائش میں ہیں یہ آپ اچھی طرح جانتےہیں؟
اورہم سب بلکہ پوری قوم آپ کی بے پناہ طاقت اوراثرورسوخ سےواقف ہے شدیدکشیدگی کےعالم میں محترم حامدمیرصاحب آئی ایس پی آر کاسربراہ آپ کےبیٹے کی شادی میں شرکت کرسکتاہےتوکیاایم ایس آرکےلئےآپ چیف صاحب سےنہیں مل سکتے ان کی تھوڑی کوہاتھ لگاکرالتجانہیں کرسکتے کہ 65 سال کےبوڑھےاورکئی خطرناک بیماریوں میں مبتلا قیدی سےکیاخوف؟
خداکےلئےاسےرہاکردیں ان سے کہئے حضور۔۔
میرشکیل کااندازصحافت مزاج صاحب پر گراں ضرورگزرتاہوگامگروہ 20 برس میں آپ کاکیابگاڑسکے وہ کوئی انقلاب نہیں لاسکے،
آپ کےماتھےپرشکنیں پڑجائیں تووزیراعظم یاتوپھانسی کےپھندےپرجھول جاتاہےیاجیل میں سڑرہاہوتاہےہمیں آپ کی طاقت کےسامنےسرتسلیم خم ہے،
پوری صحافی برادری کویقین ہےاگرآپ لوگ چلےجائیں گےتوکسی کی اناکی تسکین ہوجائےگی،اورشاید میرصاحب کی رہائی بھی ورنہ۔۔۔
میرے بعدوفاکادھوکاکسی اورسےمت کرنا
گالی دیگی دنیاء تجھ کوسرمیرا جھک جائےگا۔

(تحریر*آغاخالد)