باپ کی عظمت کو سلام

اِن سے ملیں یہ ہیں، سی ایس ایس کا امحتان پاس کر کے، فارن سروس میں جگہ حاصل کرنے والی روبیل کینڈی اور ان کے والد جان کینڈی جو ایف بی آر میں بطور ڈرائیور نوکری کرتے ہیں۔
جان کینڈی کہتے ہیں کہ افسروں کے ساتھ بطور ڈرائیور ڈیوٹی کرتے ہوئے ہمیشہ میرے دل میں خیال آتا کہ کاش میری بیٹی بھی افسر بنے اور آج وہ خواب پورا ہوگیا۔

یہ ان نوجوانوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو کہتے ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر ہمیں نوکری نہیں ملتی۔ ایک دو واقعات کے علاوہ عموعی صورتحال اب قدرے مختلف ہے۔

کاش اس ہی طرح کے خواب باقی خاکروب اور نچلے طبقے کے لوگ بھی اپنے بچوں کو دینا شروع کر دیں، لیکن ہمارے ہاں ایک ٹرینڈ ہے ، تھوڑا ہے اس ہی پھر گزارہ ہو رہا ہے لہذا آگئے کی نہیں سوچنا بس صبح نوکری کر لی، دن سو کر گزار لیا یہ ہی ہماری اکثریت نوجوانوں کی سوچ ہے ۔

میں عقیدے کا تھوڑا کمزور شخص ہوں اور شاید رہوں گا اسلئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر وقت مذہب کے نشے میں دھت رہ کر آپ کی کامیابی کے خواب شاید خواب رہیں گئے۔ اس کیلئے آپکو محنت، لگن اور سوچ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ میری نظر میں روبیل سے زیادہ اس کامیابی کا سہرا اس کے باپ کے سر ہے، جس نے اپنی بیٹی کو خواب اور سوچ دی۔