کیا ریاست مدینہ میں الگ الگ قانون ہیں؟

سپریم کورٹ کے حکم پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کراچی بھر میں آپریشن جاری ہے جس میں متعدد شادی ہال ۔۔۔۔کسٹمز آفیسرز کلب ۔۔۔واٹربورڈ آفسرز کلب ۔۔۔۔واٹر بورڈ شادی ہال ۔۔۔۔کے ڈی اے کے ایم سی ۔۔۔۔وائی ایم سی اے شادی ہالز ۔۔۔۔۔مسلم جمخانہ شادی ہالز ۔۔۔۔ختم کرائے جا چکے ہیں ۔۔۔۔لیکن ابھی تک کنٹونمنٹ ایریاز میں قائم شادی ہال اور شاپنگ مالز کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا شاہرائے فیصل پر سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے . پی اے ایف فیصل کنٹونمنٹ ایریا میں فیلکن شاپنگ مال کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے روزانہ لاکھوں افراد شاہراہ فیصل سے

گزرتے ہوئے یہاں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کا عملی مظاہرہ دیکھ رہے ہیں شہریوں کا سوال ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا جب ایمپریس مارکیٹ کی اصل شکل بحال کی جاسکتی ہے دیگر بڑی بڑی عمارتوں کو گرایا جاسکتا ہے اور تجاوزات کے خلاف اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بےدھڑک آپریشن جاری ہے باغ ابن قاسم میں غیر قانونی تعمیرات کو گرایا جاسکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ کنٹونمنٹ ایریاز میں ابھی تک سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل نہیں کیا جارہا ناظرہ شارع فیصل پر فلک شاپنگ مال غیر قانونی قرار دیا جاچکا ہے بلکہ راشد منہاس روڈ پر عسکری فور کے سامنے بنایا گیا جدید سنیما اور شادی ہال بھی غیرقانونی قرار پائے ہیں شہریوں کے سوالات حکومت کی جانب بڑھ رہے ہیں

یا

قانون سب کے لیے برابر ہے ؟

سپریم کورٹ کے احکامات قبول نہ کرنے اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن کب ہوگا ؟

شہریوں کا سوال

نیوز اپ ڈیٹس کے لئے وزٹ کرتے رہیے
پاکستان کی سرکردہ ویب سائٹ جیوے پاکستان ڈاٹ کام

اپنا تبصرہ بھیجیں