فرحت شیر خان۔بہترین صحافی – زندہ دل اور مخلص انسان

امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی فرحت شیر خان ایک ذہین قابل اور کامیاب انسان ہیں لیکن جو بات انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے وہ ان کی زندہ دلی اور خلوص ہے وہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں


ان کی خوشی غمی میں آن لائن شرکت کرتے ہیں ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں دوستوں کی ہمت افزائی کرتے ہیں اور ہمیشہ مسکراتے ہوئے پرانے دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہیں تاکہ سب چہروں پر مسکراہٹ بکھری ر ہے ۔


فرحت شیر خان پاکستان میں تھے تو نوائے وقت کراچی آفس کی رونق تھے اب پاکستان آتے ہیں تو کراچی پریس کلب میں رونق لگاتے ہیں نوائے وقت آفس کا دورہ بھی کرتے ہیں پرانے دوستوں ساتھیوں سے ملاقات کے ذریعے حال احوال ہو جاتا ہے ہمیشہ

بڑی اپنائیت سے ملتے ہیں اور سب کا بہت خیال رکھتے ہیں سب دوست ساتھی ان سے بھی بہت پیار کرتے ہیں یہ باہمی احترام اور عزت کا تعلق ہے ۔پرانی دوستیوں اور تعلقات کو برقرار رکھنا بلکہ مستحکم بنانا آسان کام نہیں ہوتا فرحت شیر خان کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ کسی کو نہ خود بھولتا ہے نہ کسی کو بھولنے دیتا ہے ۔

فرحت شیر خان نے کشمیر کا کیا بنے گا کتاب لکھ کر برسوں پہلے یہ سوال اٹھا دیا تھا
۔بیگم نصرت بھٹو اور فیسر غفوراحمد سمیت نامی گرامی شخصیات کو انہوں نے کتاب پیش کی اور سب نے اسے بہترین موضوع پر نہایت اہم کتاب قرار دیا ۔

وقت نے فرحت شیر خان کے چہرے پر نظر کا چشمہ موٹا کر دیا ہے اور داڑھی بڑھا دی ہے سر پر کیپ آگئی ہے لیکن طبیعت میں شائستگی اور مزاج میں شگفتگی برقرار ہے ۔


فرحت شیر خان نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی لہذا کراچی یونیورسٹی کا ذکر آ جائے تو وہ پرجوش ہو جاتے


ہیں پچھلے دنوں جب کراچی یونیورسٹی سے پڑھنے والے طارق خان کی اچانک وفات کی خبر آئی تو وہ بھی جذباتی ہو گئے اور انہوں نے تاریخ ان کی وفات پر پرانی یادیں بھی تازہ کی ۔
فرحت شیر خان کے دوست صرف صحافت میں ہی نہیں ہیں بلکہ سیاست اور وزن سمیت مختلف شعبوں میں ان کے دوست احباب کی بڑی تعداد ان کی قدردان ہے ۔
میرے ساتھ بھی فرحت شیر خان کا بہت اچھا وقت گزرا ہے اور بہت اچھی یادیں ہیں اللہ تعالی فرحت شیرخان کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے سلامت رکھے آمین
——–
تحریر سالک مجید- کراچی