شرجیل انعام میمن -سیاست اور خدمت -ساتھ ساتھ

پاکستان کے مقبول سیاستدان شرجیل انعام میمن ایک ذہین اور کامیاب انسان ہیں انہوں نے سیاست کے مشکل میدان میں اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور کم عرصے میں کامیابی کے وہ زینے تیزی سے طے کیے ہیں جن پر چڑھتے چڑھتے عام سیاست دانوں کی اچھی خاصی عمر بیت جاتی ہے اور پھر بھی ان میں سے اکثر کو وہ شہرت اور مقبولیت اور پذیرائی حاصل نہیں ہو پاتی جو شرجیل میمن نے

دیکھتے ہی دیکھتے حاصل کرلی ۔یقینی طور پر زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے انسان کو ذہانت اور قابلیت کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ زبردست محنت کرنی پڑتی ہے اور کچھ رسک بھی لینے پڑتے ہیں کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے اپنے کیریئر کو شاندار کامیابیوں سے ہمکنار کرنے کے لئے خود کو کمفرٹ زون سے باہر نکالنا پڑتا ہے روایتی انداز کی محنت اور کام کرنے کے انداز اور لائف اسٹائل کو بدلنا پڑتا ہے اپنی فیملی لائف اپنی پرائیویسی اور آرام اور سکون کی قربانی دینا پڑتی ہے

سیاست میں تو سب کچھ قربانی ہی مانگتا ہے اور شرجیل انعام میمن نے اپنے کاروبار سے سیاست کا یہ سفر قربانیاں دینے کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے بعد ہی طے کیا ۔قدرت ان پر مہربان ہوئی وہ پہلے پیپلزپارٹی کے کارکن کی حیثیت سے سرگرم ہوئے پھر میڈیا میں ان کی اینٹری ہوئی اس کے بعد عملی سیاست میں آگے بڑھتے چلے گئے الیکشن لڑ کر سندھ اسمبلی تک پہنچے صوبے کے عوام نے ان پر بھروسا کیا ان کو ایک بار نہیں بار بار الیکشن میں جتوایا پارٹی قیادت نے ان کی صلاحیت ذہانت اور پوٹینشل کو دیکھ کر انہیں صوبائی کابینہ میں شامل کیا وہ بطور صوبائی وزیر تیزی سے ابھرے اور انہوں نے سیاسی مخالفین پر زبردست باونسرز اور یارکرز پھینکے۔ جس کی بدولت وہ جلد قومی سطح پر ڈسکس ہونے لگے وزیر اطلاعات بن کر وہ پارٹی کا میڈیا میں دفاع بھی کرنے لگے پارٹی اور حکومت کے ترجمان کا کام بھی سنبھال لیا اور سیاسی بیانیہ کو نہایت مؤثر طریقے سے آگے بڑھانے میں کامیاب رہے ان کی تیز رفتاری سے ترقی اور مقبولیت

پر جہاں ان کے قریبی دوست اور خیر خواہ بہت خوش تھے وہی ہر طرف ان کے مخالفین اور حاسدین بھی پیدا ہوتے گئے اور اکثر لوگ وہ تھے جنہیں خوف تھا کہ جیل انعام میمن کو اگر آج یہاں پر نہ روکا گیا تو نہ صرف آنے والے دنوں میں یہ ہمارا بوریا بستر گول کر دے گا بلکہ سیاسی منظرنامے پر ہر طرف اسی کی دھوم مچی رہے گی لہذا شرجیل انعام میمن کے بڑھتے قدم روکنے اونچی اڑان کو نیچے لانے کے لئے پر کاٹنے کا بندوبست کیا گیا پارٹی قیادت کو سیاسی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کے لئے شرجیل انعام میمن اور دیگر رہنماؤں کے خلاف زبردست منفی پروپیگنڈا اور میڈیا ٹرائل کیا گیا الزامات لگائے گئے مقدمات بنائے گئے اور کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی حیران کن بات یہ ہے کہ شرجیل میمن کو بیرون ملک جاتے وقت ایئر پورٹ پر انہیں روکا گیا ان کا نام ای سی ایل میں کب شامل کیا گیا جب وہ بیرون ملک سے اور جب وہ وطن واپس آنا چاہتے تھے تو ان کا نام ای سی ایل میں شامل تھا اور ان کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر انتہائی احمقانہ اور بزدلانہ طریقے سے گرفتار کرنے کی حرکت کی گئی پھر ان کے خلاف مختلف الزامات اور میڈیا ٹرائل کیا گیا اور گرفتاری کے بعد ان کی ضمانت میں بھی کافی عرصہ لگا مقدمہ جو کہ دو ہیں صرف ان کا وقت برباد ہوا جیل میں رہ کر بھی وہ 2018 کے الیکشن میں جیت گئے یہ کامیابی ان کے مخالفین اور انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی سازش کرنے والوں کے منہ پر ایک اور زور دار طمانچہ ثابت ہوا ۔

14 جون 1975 کو پیدا ہونے والے چالیس سالہ شرجیل انعام میمن پر ہسپتال میں اس وقت خود چیف جسٹس آف پاکستان نے چھاپہ مار دیا جب انہیں اسپتال میں کچھ غلط حرکتوں اور غیر قانونی کاموں کی شکایات موصول ہوئیں وہ اسپتال پہنچے اور جیل میمن کے کمرے سے کچھ بوتلیں ضبط کر کے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیجوائیں شبہ ظاہر کیا گیا کہ اسپتال میں شراب نوشی اور عیاشی کا سلسلہ جاری تھا لیکن یہ تمام الزامات بھی لیبارٹری رپورٹ میں غلط ثابت ہوئے ۔شرجیل میمن نے اس مشکل آزمائش میں سے بھی سرخرو ہو کر نکل آیا ۔
سندھ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور پھر مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے ڈگری حاصل کرنے والے شرجیل میمن کے والد کا نام انعام اللہ میمن ہے شرجیل نے اب اپنے والد کے نام پر انعام فاؤنڈیشن بھی قائم کر دی ہے جو سماجی بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے ہیلتھ کیئر اور ایجوکیشن کے شعبے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے ۔

انعام فاؤنڈیشن نے ایک عظیم الشان اقدام اٹھاتے ہوئے کراچی اور حیدرآباد میں کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے پلازمہ بینک بنانے کا اعلان کیا ہے جہاں کرونا وائرس کے تندرست ہونے والے افراد کا پلازمہ حاصل کر کے ان مریضوں کا علاج کیا جائے گا جنہیں اس پلازمہ کی ضرورت ہے ۔

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی کی نوجوان سیاسی کھیپ میں شرجیل انعام میمن سب سے زیادہ متحرک اور پاپولر سیاست دان ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے خود کو کم عرصہ میں پارٹی کے لیے ایک اثاثہ بنا لیا ہے پارٹی قیادت بھی ان پر بےحد اعتماد کرتی ہے اور ان کے ساتھیوں اور دوستوں کی بڑی تعداد بھی ان کو سرخرو پر مزید ترقی کرتا دیکھنا چاہتی ہے ۔
شرجیل میمن کے بیٹے راول بھی جلدی شہرت حاصل کر رہے ہیں شرجیل میمن نے راول فارم بھی قائم کر رکھا ہے جس کے انتہائی میٹھا اور لذیذ آم وہ ہر سال دوستوں کو دیتے ہیں اور ان کے تحفے ان کی محبت کی علامت ہیں ۔

شرجیل میمن پہلی مرتبہ جون 2008 کے ضمنی الیکشن میں سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس 62 تھرپارکر تھری سے کامیابی حاصل کرکے ایم پی اے بنے تھے 2011 میں انہیں سید قائم علی شاہ کی کابینہ میں وزیر اطلاعات مقرر کیا گیا نومبر میں انہوں نے استعفی دے دیا جون 2012 میں وہ دوبارہ کابینہ کا حصہ بنے اور وزیراعظم بن کر واپس آئے 2013 کے عام انتخابات میں انہوں نے پی ایس پچاس حیدرآباد سے کامیابی حاصل کی پھر وہ قائم علی شاہ کی کابینہ میں وزیر اطلاعات مقرر ہوئے جولائی 2015 میں کابینہ میں ردوبدل ہوا تو انہیں وزیر بلدیات بنایا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ آرکائیوز اور ورکس اینڈ سروسز کا قلمدان نہیں دیا گیا دسمبر 2015 میں جب وہ بیرون ملک تھے تو ان کو کابینہ سے الگ کر دیا گیا اکتوبر 2017 میں انہیں نیب نے گرفتار کیا اور فروری 2018 میں انہیں کرپشن کیس میں شامل کیا گیا 2018 کے الیکشن میں وہ پی ایس ایس 8 حیدرآباد تھری سے الیکشن جیت گئے ۔شرجیل میمن نے اپنے حلقے اور اپنی پارٹی کے لئے سیاسی طور پر نہایت متحرک اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں انہوں نے سیاست کو عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھانے کا فیصلہ کر رکھا ہے ان کے حلقے کے ووٹر عوام اور پارٹی قیادت ان پر گہرا اعتماد کرتی ہے

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

—-
Salik-Majeed-Khi-