پی آئی اے کے پائلٹس کو ایک وزیر نے اپنی نااہلی اور کوتاہی کو چھپانے کیلئے پوری دنیا میں بدنام کردیا

کراچی(نمائندہ خصوصی )
پاکستان کی موجودہ حکومت نے پاکستانی پاسپورٹ اور عوام ایک بار پھر دنیا بھر ذلت اتھاہ گہرائیوں میں پہنچا دیا ۔پوری دنیا کی ائیر لائنوں کو بنانے اور سیکھانےوالی پی آئی اے کے پائلٹس کو ایک وزیر نے اپنی نااہلی اور کوتاہی کو چھپانے کیلئے پوری دنیا میں بدنام کردیا جسکی وجہ پوری دنیا میں پاکستانی ماہر پائیلٹس کو گراونڈ کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے
تفصیلات کے مطابق تبدیلی سرکار ملک کی تباہی کے بعد قومی اداروں کی تباہی پر تل گئی پاکستانی وزیر ہوابازی کی جانب پی آئی اے طیارہ حادثے پر بغیر ثبوت کی جانے والی پریس کانفرنس کے بعد دنیا بھر کی وہ ائیر لائنز جو پاکستانی پائلٹس کو اپنے فضائی بیڑے کا حصہ بنانے پر فخر کیا کرتی تھیں وہ پاکستانی پائلٹس کو گراونڈ کر رہی ہیں ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سول ایوی ایشن اپنے کنٹرول ٹاور اسٹاف کی نااہلی چھپانے کیلئے حادثے کا سارا ملبہ پائلٹس پر ڈال چکی ہے موجودہ نااہل حکمرانوں نے روائتی طریقہ کار اپناتے ہو طیارے حادثے کو بھی سابق حکمرانوں پر ڈال کر خود کو بڑی الذمہ قرار دینا چاہتی ہے کیا پاکستانی پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ہیں؟؟؟؟اس سوال کے جواب ذرائع نے انکشاف کیا کہ پائلٹس کی جعلی ڈگریاں قرار دینے والے ایوی ایشن کے معاملات سے شاید لاعلم ہیں اور ملک کی بدنامی کی وجہ بن رہے ہیں۔
پہلی بات یہ کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی پائلٹس کو خود لائسنس جاری کرتی ہے، ہر سال یہ لائسنس رینیو کیا جاتا ہے، لائسنس دینے کا طریقہ کار اتنا کڑا اور خفیہ ہے کہ آخری منٹ میں تو کمپیوٹر کوڈ ملتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ لائسنس ملنا بھی کافی نہیں ہوتا، لائسنس ملنے کے فوری بعد پائلٹس کو جہاز چلانے کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اور جہاز کوئی رکشہ تو ہے نہیں کہ کسی نے جعلی لائسنس بنوا کر فوری طور پر چلانا سیکھ لیا۔
تیسری بات یہ کہ جہاز چلانے کے دوران پائلٹ کی مہارت پر نظر رکھی جاتی ہے، اس کو ریٹنگ ملتی ہے، جعلی لائسنس یافتہ کیسے اس پراسس سے گزر سکتا ہے!!
چوتھی بات یہ کہ پاکستان کے بیشتر پائلٹس غیرملکی اداروں کے تربیت یافتہ ہیں جن کے پاس عالمی لائسنس موجود ہیں، دنیا ان کی مہارت کو تسلیم کرتی ہے۔
پانچویں بات یہ کہ جعلی لائسنس کا معاملہ سامنے آنے پر 2019 میں پائلٹس خود عدالت گئے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے ثبوت مانگے جو ابھی تک نہیں دئیے گئے۔
ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے موجودہ نااہل حکمران اپنے پائلٹوں کو خود بدنام کررہے ہیں جو پاکستان ائیرلائن کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، ایسی باتوں سے دنیا میں ملک کی سبکی ہوتی ہے۔دوسری جانب اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کےدو شہید پائلٹس بھی مشکوک قرار دیتے ہوئے
وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے دو شہید پائلٹوں کو بھی مشکوک پائلٹوں کی فہرست میں شامل کر دیا، مشکوک پائلٹوں کی لسٹ میں حویلیاں۔ میں دو ہزار سولہ میں گرنے والے پی آئی اے کے دو شہید پائلٹوں کیپٹن صالح جنجوعہ اور احمد منصور جنجوعہ کے نام بھی شامل ہیں، واضح رہے کہ ابتداء میں ان پائلٹوں کو جعلی قرار دیاگیا تھا اب مشکوک قرار دیا جارہا ہے،ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ نااہل حکمران جس طرح پوری دنیا میں ملک و قوم کی بدنامی کا باعث بن چکے ہیں اسی طرح عالمی طاقتوں کی ایماء پر اب قومی اداروں کو بھی بدنام کرکے تباہ کرنا چاہتے ہیں