سید محترم ____الوداع

سید محترم ____الوداع
سید منور حسن، سادہ، سچے اور کھرے انسان تھے۔
——-

سہیل دانش
——
سچائی کے راستے کا مسافر اپنی منزل کو پہنچا۔این ایس ایف، جمعیت، جماعت اسلامی اور پھر امارت سے معزولی۔ سچ کے سفر میں بہت سی منزلوں سے گزرتا اپنی آخری منزل پر پہنچ گیا۔محنت، لگن اورا قامت دین کے لئے جدوجہد کی یادیں بکھیرتے خدائے بزرگ و برتر کے حضور پیش ہوگیا۔
سید منور حسن کی زندگی اور یادوں کے اوراق برادرم عارف الحق عارف نے ایسے پلٹے ہیں کہ گزری ہوئی باتیں اور یادیں اس قلندرانہ صفت انسان کی بڑائی اور با مقصد جدو جہد کی گواہی دے رہی ہیں۔ برادرم منصور ساحر کے دو اشعار نے ان کی شخصیت کا احاطہ کر لیا ہے۔
رو کے کہتے ہیں کہ کوہ دامن الوداع
تجھ پہ نازاں رہا یہ وطن الوداع
یار من یار حب الوطن الوداع
الوداع اے منور حسن الوداع
میرے خیال میں اس خوبی کے بعد بھی کسی خوبی کی گنجائش رہتی ہے کہ کسی شخص کے پاس بیٹھ کر چھوٹے سے چھوٹے شخص کو اپنے چھوٹے ہونے کا احساس نہ ہو۔ جسے اللہ نے مسکراہٹ کی کرامت دے رکھی ہو، اس سے بڑا ولی کون ہوگا۔ جس شخص میں اتنی پذیرائی کے بعد ”میں“ نہ ہو، اس سے بڑا صوفی کون ہو گا۔ایک دنیا جس شخص کے دروازے پر پڑی ہو اور وہ آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتا ہو، اس سے بڑا پیر کون ہو گا۔ جس شخص کو کبھی مرعوبیت چھو کر نہ گزری ہو، اس سے بڑا بزرگ کون ہو گا۔
سید منور حسن سے ملاقاتوں کی کئی یادیں ہیں اور اتنی ہیں کہ ایک کے بعد دوسری طلوع ہو رہی ہے۔ وہ سادگی، شرافت اور ایمانداری کا پیکر تھے۔ ایک بار محترم پروفیسر غفور صاحب کے گھر پر ملاقات ہوئی۔ پروفیسر صاحب اس وقت فیڈرل بی ایریا میں رہا کرتے تھے۔ان کا گھر بڑا سادہ تھا، ہاں ایک کمرے میں ائیر کنڈیشن لگا ہوا تھا۔ پروفیسر صاحب سے ہمارا بہت ہی پیار و محبت کارشتہ تھا۔ بڑی شفقت فرماتے تھے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جس کمرے میں ائیر کنڈیشن لگا ہوا تھا، یہ کمرہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے لئے مختص تھا۔ جب بھی مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ؒکراچی تشریف لاتے پروفیسر غفور صاحب ان کے میزبان ہوتے اور حضرت مودودی ؒ اسی کمرے میں قیام فرماتے تھے۔ پروفیسر غفورصاحب نے جناب منور حسن صاحب کا تعارف کرواتے ہو ئے کہا کہ ان سے کون واقف نہیں، یہ کراچی کا چہرہ ہیں۔ آج میں نے اپنے قابل احترام ایڈیٹر جناب نثار احمد زبیری کایہ تبصرہ پڑھا کہ سید منور حسن کی وفات سے کراچی غریب ہو گیا۔ یہ تبصرہ پڑھ کر مجھے محترم پروفیسر غفور صاحب کی وہ برسہا برس پرانی درج بالا بات یاد آ گئی۔
سید منور حسن صاحب شعلہ بیان مقرر تھے۔ انداز میں شائستگی، اسلوب میں پختگی اور ہر بات دلیل کے ساتھ کرتے۔ درویش صفت انسان تھے، چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے اور تکبر نام کی کوئی خصلت ان کی شخصیت کا حصہ نہیں تھی۔ صوم و صلوٰۃ کے اتنے پابند کہ کبھی نماز قضاء نہیں کی۔ سفر میں بھی اس بات کا خیال رکھتے کہ نماز کے وقت کسی ایسی جگہ پر پہنچ جائیں گے کہ نماز با جماعت ادا کر سکیں۔ انہیں یہ بھی علم ہوتا کہ کراچی، لاہور، ملتان، اسلام آباد اور پشاور کی کس مسجد میں نماز کتنے بجے ہوتی ہے۔ ہمیشہ جمعہ کی نماز کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ تنظیمی امور پر اتنی مہارت تھی کہ جمعیت کو انہوں نے کراچی کے تمام تعلیمی اداروں کی ہر دلعزیز تنظیم بنا دیا تھا۔ اتنے پر اعتماد اور سائستہ کہ تمام ساتھی ان کی ہر بات پر لبیک کہتے۔ ان کے بعض ساتھی سمجھتے تھے کہ منور صاحب کبھی کبھی غصے اور جنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن میرے خیال میں وہ اپنے موقف پر ڈٹ جانے والے انسان تھے۔ جس کو وہ حق و سچ سمجھتے اس پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتے، کیونکہ وہ ایک روشن ضمیر انسان تھے۔ یہی وہ مقناطیسی خوبی تھی کہ وہ لوگ بھی ان کے گرد جمع دیکھے جو اپنی ذات میں ارسطو بھی تھے اور فرعون بھی۔ آخر ایسا کیونکر ہے، میں سوچتا چلا گیا اور جواب تراشتا چلا گیا۔ تاویل پر تاویل کھڑی کرتا چلا گیا لیکن مجھے صرف ایک ہی جواب ملا، یہ تو ویسا ہی ہے جیسے نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنی شخصیت پر کوئی ماسک نہیں چڑھایا ہو ا تھا۔ بس سچائی اور بے غرضی کی ایسی حرارت تھی، جس طرح چائے کا گرم پیالہ آپ کے پاس سامنے رکھا ہو اور آپ اس کی گرمائش محسوس کر رہے ہوں۔وہ ایک ٹھنڈے سائے والے انسان تھے۔کوئی سیاسی مجبوری انہیں ریا کاری اور جھوٹ کے لئے سرینڈر نہ کر سکی۔
برادرم سجاد میر اور محترم ہارون رشید کے ساتھ جناب منور حسن صاحب سے ملاقاتوں کا اتفاق رہا۔ گفتگو اتنی مدہم اور میٹھی اور انداز اتنا والہانہ کہ کوئی مشورہ دیتے تو ایسے لگتے کہ جیسے مشورہ نہیں دے رہے چندے کی درخواست کر رہے ہیں۔
میں کبھی بھی جمعیت یا جماعت اسلامی سے وابستہ نہیں رہا لیکن میں بلا تردد یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اس جماعت نے ہمیں بڑے قیمتی ہیرے دیئے ہیں۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کی جماعت نے میاں طفیل، قاضی حسین احمد، پروفیسر غفور، فاروق اعظم، ستار افغانی، مولانا سراج، نعمت اللہ خان اور درجنوں ایسی نابغہ روزگار شخصیات پیدا کیں ہیں، جن پر آج کے دور میں ہم فخر کر سکتے ہیں۔جماعت اسلامی نے سیاسی میدان میں کبھی ایسی سیاسی اور قابل ذکر انتخابی کامیابیاں حاصل نہیں کیں لیکن اس کے رہنماؤں کی شخصی شرافت اور ایمانداری نے متعدد قابل تقلید مثالیں قائم کیں۔
سید مور حسن کی شخصیت کا احاطہ کرنا توآسان نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسے انسان تھے، جن کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ جن کے عمل اور گفتار میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ جن کا اندر اور باہر دو رنگا نہیں تھا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ عاشق رسول ﷺ تھے۔ وہ نفاذ نظام مصطفےٰ کے لئے ہر قربانی دینے کا عزم رکھتے تھے۔ نبی آخر الزمان ﷺ کا تذکرہ ہوتا تو عقیدت سے آنکھیں نم ہو جاتی تھیں۔ سچے کھرے اور پابند مسلمان تھے۔ آپ کو اپنی بنیاد پرستی پر فخر تھا۔ اپنی تاریخ، اپنے ارتقاء اور اپنے فلسفے پر ناز تھا۔ سید منور حسن کی سب سے بڑی آرزو یہ تھی کہ مسلمان اللہ کی زمین پر پورے قد کے ساتھ چلیں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ایسے سادہ، سچے اور کھرے انسان کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔ آمین