خان صاحب ! کشمیری بےوقوف نہیں

تحریر: اے حق – لندن
——
جمعرات کا دن تھا اور پاکستان کے صادق و امین وزیر اعظم قومی اسمبلی میں تقریر کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ” کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ ملک کی بدحالی ‘ تباہ ہوتی معیشت اور اس کے ذمہ داران کے علاوہ امریکہ کے پاکستان پر عدم اعتماد کے ذکر کے ساتھ ہی مسئلہ کشمیر کا بھی ذکر فرمایا ۔ وزیر اعظم نے کشمیر پر چند منٹ کی گفتگو میں اپنی خوب تعریفیں کیں کہ میں نے امریکہ میں جا کر لیڈروں،میڈیا ،ٹرمپ کو سمجھایا کہ انڈیا ‘ آر ایس ایس’کی تھیوری پر چل رہا ہے۔ اس سے امریکہ اور مغرب کے میڈیا میں انڈیا کے خلاف باتیں ہونے لگیں۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد آج پہلی بار پاکستان کو انڈیا کے مقابلے میں باہر بہتر میڈیا ملتا ہے۔جب ہم یو این کے ٹور سے واپس آئے اور ہمارا کام تھا کہ ہم اس کو اور آگے لے کر جاتے،تو یہاں ایک ڈرامہ شروع ہو گیا کہ حکومت جا رہی ہے،کنٹینر آ گئے،پورا ایک مہینہ جو ”پیک” جانا چاہئے تھا کشمیر ایشو کووہ نیچے چلا گیا۔ کشمیر ایشو آج دنیا میں ادھر پہنچ گیا ہے نریندر مودی کی دو لیجسلیشن سے،اب ہمارا کام ہے کہ ہم پورا پلان کریں کہ ہم اسے آگے لے کر جائیں۔انڈیا ہمیں اس طرح دبانا چاہتا ہے کہ جس طرح انہوں نے انڈیا میں مسلمانوں کو دبایا ہوا ہے۔ اب انڈیا نے آزاد کشمیر کو اپنے اندر شامل کیا ہوا ہے۔کشمیر اشو، میرا یہ خیال ہے،ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں، یہ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گیا ہے۔انڈیا آٹھ لاکھ فوج وہاں رکھ کران کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ غیر مستحکم ہے،اس نے کشمیریوں کو بالکل تنہا کر دیا ہے۔اب کو ئی بھی ” پرو انڈین” لیڈر شپ کشمیر میں چل ہی نہیں سکتی۔بندوق کے زور پہ وہ کتناچلے جائیں گے،اسی لاکھ لوگوں کو اس طرح دبا کے ،یہ غیر مستحکم ہے اور میرے خیال میں انشا اللہ ”کوورڈ” کے بعد جب یہ ختم ہوتی ہے تو ،یہ موومنٹ رک نہیں سکتی۔
ابھی ایک ہی دن قبل خواجہ سعد رفیق نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ جتنا بھی انکار کر لیں لےکن یہ بات حقیقت ہے کہ بدقسمتی سے ‘ ‘ فال آف کشمیر” ہو چکا ہے ، یہ ایک حقیقت ہے اور تاریخ میں یہ بوجھ آپ کے دور پہ رہے گا۔” وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے بعد پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ” آپ کشمیریوں سے پوچھیں، مقبوضہ کشمیر کے عوام سے پوچھیں کہ کیا آ پ کی فارن پالیسی کامیاب رہی ہے ؟ وہ آپ کو جواب دیں گے۔” ایک کشمیری کی حیثیت سے وزیر اعظم پاکستان کی اس تقریر پہ یہی تبصرہ مناسب ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان، کشمیریوں کو بے وقوف نہ سمجھیں، پاکستان اور کشمیر کے گہرے تعلقات کی جڑیں نہ کاٹی جائیں۔
وزیر اعظم عمران خان کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کو بلاشبہ غیر معیاری کہا جا سکتا ہے اور یہ تقریر ان کی شخصیت کا ایک تعارف بھی پیش کرتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وزیر اعظم عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی کمزوریوں اور خامیوں کی بہترین عکاسی کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کے عہدیدار مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے مظالم کی رننگ کمنٹری تک ہی محدود ہیں، پاکستان کی کشمیر کاز سے متعلق ذمہ داری کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں؟ اس بارے میں ان کی زبانیں خاموش ہیں۔ عالمی برادری اسی وقت مسئلہ کشمیر پر توجہ دے سکتی ہے کہ جب پاکستان کی طرف سے یہ باور کرایا جائے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو انڈیا میں مدغم کرنے کے اقدام و صورتحال اور نہتے کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی بدترین فوج کشی پر پاکستان خاموش تماشائی بن کرنہیں رہ سکتا۔
کشمیریوں کی مزاحمت 80 سے زائد سال کے حالات و واقعات کا ایک تسلسل ہے جو 1980کی دہائی میں نوجوانوں کے عزم آزادی سے تیز تر ہوا۔ انڈیا کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو کشمیریوں کی تحریک آزادی سے لاتعلق کر دیا جائے تا کہ اسے کشمیریوں کو دبانے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مسئلہ ، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں پاکستان کی حمایت کا نہیں بلکہ پاکستان انتظامیہ کی طرف سے سیاسی طور پربھی کشمیریوں کو اپنی مرضی سے چلانے کی ناقص پالیسی کا چلا آ رہا ہے۔ کشمیر پاکستان کی سلامتی اور بقا سے منسلک و مربوط معاملہ ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس معاملے میں کمزور، ناقص پالیسی، حکمت عملی اختیار کرنے سے خود پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچارہی نہیں کیا جا رہا بلکہ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
بلال نامی ایک نوجوان 1986ءمےں اےک چوک میں نصب بہت بڑے ٹاور پر جھنڈا لہرانے کیلئے چڑھا تو انڈین فوجیوں نے اس کو گولیوں سے بھون دیا جس سے وہ نوجوان کافی بلندی سے گر کر شہید ہو گےا ۔ اس وقت سے اب تک شہید ہونے والے ہزاروں کشمیری نوجوانوں نے یہ واضح کیا ہے کہ کشمیر کاز سے اخلاص کیا ہوتا ہے اور مزاحمت کس کس طرح کی جا سکتی ہے۔ کشمیرکی آزادی کی مزاحمت کرنے والوں اورشہدا کی قربانیاں دماغ رکھنے والی کشمیر کی شخصیات کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔اگر کشمیر کاز کے لئے متحرک شخصیات اس بات کا تعین کرنے سے قاصر ہیں کہ آئندہ کے طریقہ کار اور حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے کشمیر کی کون کونسی شخصیات کے اجلاس سے اس معاملے میں موثر پیش رفت ہو سکتی ہے! تو پھر یہ دیکھ لیا جائے کہ کیا پاکستان کی موجودہ انتظامیہ کی کچھ نہ کرنے کی اعلانیہ پالیسی کے پیچھے ہی میمنے کی طرح سر جھکا کر چلنا ہے؟