ماما دین محمد ہمارے گاوں کی جانی پہچانی شخصیت ہیں

ماما دین محمد ہمارے گاوں کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ اس وقت ان کی عمر ستر سال کے لگ بھگ ہو گی۔ میں ان کو تب سے جانتا ہوں جب میں دس سال کا تھا اور وہ تیس سال کے تھے۔ والد صاحب کے ساتھ گاوں آنا جانا رہتا تھا اور یوں ان سے ماقات رہتی تھی۔ وہ آزاد کسان تھے اور ہر چھوٹے بڑے کا کام کرتے رہتے تھے اور زندگی گزار رہے تھے۔ آج بھی وہ ماشاءاللہ اسی طرح مضبوط اور بلکل سیدھے ہیں۔ عینک بھی نہیں لگی۔ ان کی دو چیزیں بہت مشہور ہیں ایک تو وہ ایک وقت میں دس روٹی کھا جاتے ہیں روٹی وہ والی جو کسی زمانے میں وزنی اور بڑی روٹی ہوتی تھی۔ اور ان کے پاوں جو شاید لوہے کے لگتے تھے نیچے سے تلوے کٹے ہوے اور سخت اور سائز جو آج تک نہیں دیکھا۔ اپنے سائیز ک کھسہ بنواتے اور پہنتے تھے۔ وہ دین محمد سے ماما دینو ہو گئے ویسے تو لوگ چاچا کہلانا پسند کرتے ہیں لیکن گاوں کی خواتین نے بچوں کو ماما کہنا سکھا دیا اور یوں وہ سارے گاوں کے ماما دینو ہو گئے۔ بکل جاہل نہیں تھے کچھ دنیاوی تعلیم تھی اور قران پورا پڑھا تھا۔ وہ گاوں میں واحد آدمی تھے جو سارا دن بی بی سی ریڈیو سنتے تھے۔ اس وقت چھوٹا ریڈیو جسے ٹرانسسٹر کہتے تھے وہ ہوتا تھا۔ بی بی سی سننے کی وجہ سے بڑی سمجھدار اور نپی تلی گفتھو کرتے تھے لوگ ان کے پاس بیٹھ کر خبروں پر تبصرہ سنتے۔ جب ہم والد صاحب کے ساتھ گاوں جاتے تو ماما دینو ہمارے ساتھ وقت گزارتے۔ خیر اب وہ ستر سال کہ ہیں اور میں پچاس کا ابھی بھی جاتا ہوں تو میرے پاس آ جاتے ہیں۔
اس دفع مجھے جانا تھا تو اپنی شیونگ کٹ رکھتے ہوئے میں نے ایک باڈی لوشن ساتھ رکھا جو باہر سے بھابی لے کر آیں تھیں۔ کاسمیٹکس کی رینج تھی اس میں یہ باڈی لوشن بھی تھا اور برانڈڈ بہت خوبصورت چھوٹی سی بوتل تھی۔ میں انی سکن کی وجہ سے شیو کے بعد کولڈ کریم لگاتا لیکن اس دفع لوشن استعمال کا سوچا کہ بوتل بہت جاذب نظر اور اندر لوشن بھی اچھا لگ رہا تھا۔ مجھے لوشن وغیرہ کا کوئی تجربہ نہیں تھا کہ کبھی استعمال نہیں کیا زندگی میں۔
بہرحال میں گاوں پہنچا اور حسب توقع ماما دینو سلام کرنےآ گئے۔ ابھی بھی اسی طرح تگڑے اور چاک و چوبند رشک آتا تھا ان کو دیکھ کر۔ ماما دینو مرے ساتھ ہی رہتے اور میں بھی ان کے ساتھ بہتر محسوس کرتا کہ وہ پراٹوکول کا خیال کرتے اور بات کرنے کی تمیز اور تہزیب رکھتے۔ ماما دینو آجکل ٹی وی پر ٹاک شو اور خبریں دیکھتے ہیں لیکن ان کو وہ مزہ نہیں آتا جو بی بی سی سن کر آتا تھا۔ وہ کہتے ہیں اب تو شکلوں پر زیادہ زور ہے یا بے عزتی پر “گل کوئی نہیں اینا دے کول” یعنی ان کے پاس بات کوئی نہیں کرنے کو۔
میں روز صبح سات بجے اٹھ کر شیو کرتا۔ اور اپنا امپورٹڈ لوشن چہرے پر لگاتا اور خوش ہوتا۔ لیکن مجھے نہ جانے کیوں کچھ عجیب سا لگ رہا تھا لیکن چونکہ تجربہ نہیں تھا اس یے یہ خیال آیا کہ لوشن ایسے ہی ہوتے ہوں گے اور وہ بھی برانڈڈ ایمپورٹڈ۔ ایک دن اسی طرح میں صبح سات بجے مامادینو کی آواز پر اٹھ بیٹھا وہ روز مرے لیےناشتہ لاتے جو گاوں کی تازہ ٹھنڈی فزا میں کھانے کا مزہ آ جاتا جو کبھی شہر میں حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ناشتہ کرنے کے بعد میں نے حسب معمول شیو کی اور بعد میں چہرے پر لوشن لگایا تو اس دفع کچھ دل نے گواہی دی کہ بھائی نہیں ایسا نہیں ہو سکتا چیک تو کروں ہے کیا ۔میں سہی طریقے سے استعمال کر رہا ہوں کہ نہیں۔ میں نے عینک لگائی اور بوتل کو پڑھنے کو کوشش کی چھوٹی بوتل تھی چھوٹی لکھائی کچھ سمجھ نہ آے۔میں نے موبائیل کا کیمرہ آن کیا اور بوتل پر کیمرہ ڈال کر اسکو انلارج کر دیا جس سے پڑھنے میں آسانی ہو گئی۔ اب ادھر ادھر ٹامک ٹویاں مارتے ہوئے بوتل کے سامنے نظر پڑھی جہاں لکھا تھا کنڈیشنر اس کےساتھ بالوں میں استعمال کی ہدایت تھی۔ اف میں نے ایک دم ہاتھ زور سے سر پر مارا جس پر ماما دینو نے کہا لگتا کوئی بڑی گڑ بڑ ہو گئی ہے۔ میں نےماما دینو کو ہنستے ہوئے بات بتائی تو ماما دینو نے کیا کہا اس پر غور کریں۔
یہ تو بکل ایسے ہے جیسے ہماری عوام اور سیاستدان کا رشتہ۔
وہ کیسے میں نے پوچھا
ماما دینو نے کہا “جو سیاستدان نظر آ رہے ہوتے ہیں وہ اندر سے ہوتے نہیں۔ اور ہم ان کو پڑھتے نہیں کہ اسکے اندر کیا ہے۔ بس دیکھا بات اچھی لگی تو ووٹ دے دیا۔ جب حکومت میں آتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ جوتے والی چیز ہم نے سر پر بٹھا دی ہے۔ پتر 60 سال ہوگئے ان کو سنتے اور دیکھتے۔ کوئی روٹی کپڑا مکان کوئی اسلامی قانون کوئی ایشیا کا ٹایگر تے کوئی تبدیلی۔ بوتل کھولنے کے بعد نہ روٹی نہ کپڑا نہ اسلامی قانون نہ ایشیا کا ٹائیگر تو نہ دور دور تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ حکومت اور افسر شاہی صرف پیسے بنانے آتے ہیں اور ریٹائیرمنٹ کے بعد باہر۔ جب باہر ساری سہولت موجود ہے تو پاکستان کو بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ پتر یہ سب بند بوتلیں ہیں جو کھلتی ہیں تو اندر فریب اور راعیا کاری۔ ہم نے کبھی پڑھنے کی کوشش نہیں کی کہ اسکے اندر کیا ہے۔ اور نہ ہمیں پڑھنے دیا جاے گا۔ ”
میں ماما دینو کی بات پر سوچ رہا ہوں کہ کتنی چھوٹی سی بات سیے کیا بڑی بات نکال کر تجزیہ دیا ہے۔ واقعی ہم باشعور قوم ہوتے اور ہر ایک کو ووٹ دینے سے پہلے پڑھ لیتے تو آج ہم عوام سکون سے ہوتے۔