سوشانت کی خود کشی نے کھولے فلمی دنیا کے بد نما راز

اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کی اصل وجہ تو ابھی تک ایک معما ہی بنی ہوئی ہے، لیکن کئی ایسے راز ضرور ہیں، جن سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھتا جا رہا ہے۔ ان کے دوست اور احباب، ان کی خود کشی کی کوئی ٹھوس وجہ بتانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ سوشانت نے جو قدم اٹھایا، اس نے نا صرف دنیا کو ششدر کیا، بلکہ اپنے شائقین کے دل میں گھاؤ بھی کر دیا۔ اس سانحے نے پوری بھارتی فلم انڈسٹری کو، جیسے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کی موت کے بعد، جو رد عمل سامنے آئے ہیں۔ ان میں ایک فقرہ بہت تیزی سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اور وہ ہے (نیپا ٹزم ان بالی ووڈ) یعنی بالی ووڈ میں اقربا نوازی۔

فلمی دنیا میں اقربا پروی کے، رویے کو سوشانت کی خود کشی کی، وجہ مانتے ہوئے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ بعض لوگوں نے تو ایک ایف آئی آر تک لکھوا دی ہے۔ جس میں ہدایت کار کرن جوہر، اداکار سلمان خان، ہدایت کار ایکتا کپور، ہدایت کار ساجد ناڈیا والا، ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی، آدتیہ چوپڑا، بھوشن کمار، اور دنیش سمیت آٹھ فلمی ہستیوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ سوشانت کی خود کشی کے بعد ایک ویڈیو جاری کر کے، ان کی موت کا ذمہ دار، فلمی دنیا کی اقربا نوازی کو، قرار دینے والی اداکارہ کنگنا رناوت کا نام اس ’نالش‘ میں بطور گواہ درج کروایا گیا ہے۔

ذہن نشین رہے کہ، اپنے مذکورہ ویڈیو میں، کنگنا نے سوشانت کی خود کشی کو منصوبہ بند قتل سے تعبیر کیا تھا۔ اس معاملے میں ایک اور گواہ بنائے گئے، فلم اداکار اور ہدایت کار شیکھر کپور نے بھی، سوشانت کی خود کشی کے بعد، فلم انڈسٹری کے کچھ با اثر عناصر پر اشارتا تنقید کی تھی۔ انہوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ، مجھے اس اذیت کا علم تھا، جس سے تم (سوشانت سنگھ راجپوت) گزر رہے تھے۔ مجھے ان لوگوں کی بھی کہانی معلوم ہے۔ جنھوں نے تمہاری اس قدر حوصلہ شکنی کی، کہ تم میرے کاندھے پر سر رکھ کر، رو پڑے تھے۔ کاش میں تمہارے ساتھ ہوتا۔ فلمی شائقین کے لئے ایک اور جانی پہچانی شخصیت کمال راشد خان نے ٹویٹ کر کے بتایا، کہ کس طرح سوشانت سے سائن کی جا چکی فلمیں، یکے بعد دیگرے واپس لے لی گئیں اور یہی بات، ان کے ڈپریشن کی وجہ بنی۔

سوشانت کی خود کشی کے بعد، اقربا نوازی کے ولن کے طور پر جن جن کے نام آئے ہیں۔ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر، بہت کچھ سخت و سست لکھا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا شکوہ ہے کہ خان برادری اپنے آگے، کسی اور کو فلمی دنیا میں پنپنے ہی نہیں دیتیں۔ شکوہ کرنے والوں کو، سلمان خان پر زیادہ غصہ ہے۔ ’بھائی جان‘ پر الزام ہے کہ وہ جس سے چڑ جائیں، وہ انڈسٹری میں بس ایڑیاں ہی رگڑتا رہ جاتا ہے، اور اسے کام نہیں ملتا۔ سلمان خان تو خیر ایک فرد ہیں۔ کہا یہ بھی جاتا ہے، کہ پروڈکشن ہاؤس بھی فلمی اشراف کے لڑکے لڑکیوں کو ہی، لانچ کرتے ہیں۔ دھرما پروڈکشن اور یش راج پروڈکشن جیسے، بڑے بڑے بینرز نے فلمی گھرانوں کے، نوجوانوں کو بڑے اہتمام سے لانچ کیا، اور اس پہلو پر غور کرنے میں، اپنا وقت بالکل بھی ضائع نہیں کیا، کہ جن برخورداروں اور برخوردارنیوں کو موقع دے رہے ہیں، ان میں اداکاری کے جراثیم ہیں بھی یا نہیں؟

بھارتی فلم انڈسٹری میں بے چینی کی، جو چنگاری اندر ہی اندر سلگ رہی تھی۔ سوشانت کی خود کشی کے بعد وہ اضطراب کا جوالا بن کر دہک اٹھی ہے۔ فلم انڈسٹری سے ہی وابستہ افراد، اب ایک ایک کر کے اپنے دل کے داغ دکھا رہے ہیں۔ اب یہ آوازیں کھل کر آنے لگی ہیں، کہ فلم نگری میں ستارے بنتے نہیں، بنائے جاتے ہیں۔ اب یہ بات کھل کر کہی جا رہی ہے، کہ بھارتی فلم انڈسٹری کو، کچھ امیر گھرانوں نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے، جن کے اشاروں پر، یہ انڈسٹری کام کرتی ہے۔

یہی با اثر لوگ اس انڈسٹری میں، کام کرنے والوں کی تقدیر کے کاتب ہیں۔ فلمی دنیا میں دو قبیلے بن گئے ہیں۔ ایک ان کا جو فلمی کنبوں کے چشم و چراغ ہیں۔ جن کو لانچ کرنے کے لئے ہدایت کار آمادہ رہتے ہیں۔ جن کی الٹی سیدھی اداکاری کے باوجود، انہیں کوئی نہ کوئی ڈیبیو ایوارڈ، بھی مل ہی جاتا ہے۔ وہ فلموں کے دیس میں، مقامی ہیں مہاجر نہیں۔ یہ ان کا موروثی حق بنتا ہے، کہ انہیں گھر سے نکلتے ہی منزل مل جائے۔ وہ ان میں سے تھوڑی ہیں، جو ساری عمر سفر میں رہتے ہیں۔

دوسرا قبیلہ بلکہ گروہ، ان نوجوان لڑکے لڑکیوں کا ہے، جو چھوٹے شہروں، سے بڑے خوابوں کی گٹھڑی، سر پر رکھے مایا نگری میں اترتے ہیں۔ فلمی دنیا کی چکا چوند، انہیں کھینچ تو لاتی ہے لیکن اسی آس میں، عمر دراز کے شام و سحر، ماضی بنتے چلے جاتے ہیں، کہ اپنا نمبر آئے گا۔ ایسے حسرت زدہ سرپھروں سے، ممبئی کے گلی کوچے خوب واقف ہیں۔ جنہوں نے اپنے ٹیلنٹ کو پہچان لیے جانے کے، دن کا انتظار کرتے کرتے خود کو تباہ کر لیا۔ البتہ جب زندگی کی حقیقت کا احساس ہوا، تو ملال کرنے کے لئے سانسیں باقی نہیں بچی تھیں۔ کچھ کے حصے میں ناکامی آئی، جو ان سے زیادہ نصیب کے مارے تھے۔ وہ ناکامیوں کے نتیجہ میں پیدا کیفیت کو سنبھال نہ سکے۔ اور تنہائیوں کے ہو کر رہ گئے۔ چھوٹے چھوٹے رہائشی خانوں میں، کتنے ہی خواب دم توڑ گئے اور ناکامیوں کی وجہ سے، کتنی سسکیاں گونجتی رہیں، کسی کو خبر نہیں۔

فلم انڈسٹری میں یہ بات عام ہے، کہ جس کا کوئی گاڈ فادر نہیں، اس کا یہاں ٹھہر پانا مشکل ہے۔ سوشانت نے بھی، کچھ ایسی ہی باتیں، اپنے ایک انٹرویو میں کہی تھیں۔ ایک بار انہوں نے یہ بھی کہا تھا، کہ اقربا نوازی صرف بالی وڈ میں ہی نہیں، بلکہ ہر جگہ ہے۔ ہم اس کا کچھ نہیں کر سکتے، لیکن اگر آپ جان بوجھ کر، صحیح ٹیلنٹ کو سامنے نہیں آنے دیتے، تو یہ مشکل والی بات ہے۔ اس طرح تو ایک دن انڈسٹری کا پورا ڈھانچا ہی گر جائے گا۔

سوشانت جس مسئلہ کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اگر اس کا ادراک ہو جائے، تو ایسے لاکھوں کروڑوں خواب ہوں گے، جو ٹوٹنے سے بچ جائیں گے۔ کتنی ہی آرزوئیں ایسی ہوں گی، جو مرنے سے بچ جائیں گی۔ اگر آج ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں، تو اقربا نوازی ہر شعبے میں نظر آتی ہے۔ فلمی دنیا بھی چوں کہ، ہمارے سماج ہی کا حصہ ہے۔ اس لیے اس میں بھی، یہ رویہ پایا جانا حیران کن نہیں۔ فلمی دنیا کا معاملہ دیگر جگہوں کے ’نیپا ٹزم‘ سے مختلف اور گمبھیر ہے۔

یہاں واقعہ یہ نہیں، کہ باپ ہدایت کار ہے، تو بیٹے کو ہیرو کے طور پر لے رہا ہے۔ یا پھر چچا فلم بنا رہا ہے، تو بھتیجی صاحبہ کو ہیروئن کے طور پر، موقع مل رہا ہے۔ یہاں واقعہ قبائلی عصبیت والا ہے۔ اگر آپ فلمی دنیا کے چار چھے گھرانوں سے، تعلق رکھتے ہیں۔ تو آپ اشراف اور مقامی مانے جائیں گے۔ پھر بڑے ہدایت کار آپ کو، ذوق و شوق سے لانچ بھی کریں گے، پروڈیوسر آپ کی پہلی فلم ہونے کے باوجود، اس پر پیسہ بھی لگائیں گے، کوئی بڑا اداکار آپ کی فلم میں، اسپیشل اپیئرینس بھی دے دے گا، ایک آدھ بڑی ہیروئن آئٹم سانگ بھی کر دیں گی، فلمی ستاروں سے فیض یاب ہونے والے، فلم جرنلسٹ آپ کی فلم کو پرموٹ بھی کریں گے، ریویو میں اسٹار بھی زیادہ ملیں گے، اور کوئی نہ کوئی بیسٹ ڈیبیو ایوارڈ بھی، آپ کو عطا کر دیا جائے گا۔

یہ سب کرنے والوں کے آپ، سگے رشتے دار نہیں ہیں۔ اس لیے ان کی یہ نوازشات، اقربا نوازی نہیں، بلکہ اپنے اور باہر کی، قبائلی عصبیت کی وجہ سے ہوں گی۔ اگر آپ باہر والے ہیں، تو آپ میں لاکھ صلاحیت ہونے کے باوجود، آپ کو ایسی صورتحال سے دوچار کر دیا جائے گا، کہ یا تو آپ اپنے گھر کی راہ لیں، یا سوشانت جیسے انجام کی طرف بڑھ چلیں۔ ہاں کچھ ایسے اداکار ضرور ہیں، جو زیادہ ہی سخت جان ثابت ہوئے، اور لڑتے، ڈٹے رہے۔ یہ بات سہی ہے کہ نیپاٹزم عام انسانی رویہ ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ قبائلی تعصب نہ صرف یہ کہ ذہنی بیماری ہے بلکہ اخلاقی پستی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

صائمہ خان، اینکر پرسن دور درشن، دہلی