مرد کیوں بن جاتے ہیں ’جورو کے غلام‘ ؟

جب سے ہوش سنبھالا ہے اکثر عورتوں کی گفتگو میں یہی شکوہ سنتی آئی ہوں کہ فلاں لڑکے کی شادی کیا ہوئی سبھی کو بھول گیا۔ اس گفتگو کے دوران کچھ اس طرح کے جملے سنائی پڑتے ہیں ”نہ جانے اس عورت نے کیا کالا جادو کر دیا ہے کہ بس اسی کا ہو گیا ہے“ ، ”اپنی بیوی کے سوا کسی کی سنتا ہی نہیں“ ، ”وہ تو اپنی بیوی کا غلام بن گیا ہے“ وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ باتیں ہیں جو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ کیا واقعی مرد اتنے سادہ ہوتے ہیں کہ عورت کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں اور ان کے غلام تک بن جائیں؟

اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالیں تو ہم پاتے ہیں کہ سماج کے ہر وعظ و نصیحت کا رخ خواتین کی طرف رہتا ہے۔ انہیں تلقین کی جاتی ہے کہ وہ مرد یعنی اپنے شوہر کی پیروی کریں۔ یہاں تک کہ اسلام نے بھی مرد کو عورت کا ’حاکم‘ قرار دیا ہے۔ مذہب کے مطابق ایک فرمابردار بیوی ہی آخرت میں اچھے انجام کی حقدار ہوگی۔ برصغیر کے سماجی منظرنامے پر بھی نظر ڈالیں تو عورت کا مرد سے دب کر رہنا، اس کا حکم ماننا، یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں مار کھانا معمول کی بات سمجھا جاتا رہا ہے۔

مشرق کی عمومی نفسیات میں ایک عورت کا تصور ہی دبی کچلی، سہمی اور ایسی بے بس مخلوق کا ہے جو اپنا گھر بسائے رکھنے کے لیے مرد کا ہر ظلم اور زیادتی برداشت کرتی جاتی ہے اور اف تک نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے تحریک نسائیت کے نام پر عورت کو مرد کے مساوی حقوق دلانے، اسے خودمختار بنانے اور سماجی طور پر مضبوط کرنے کی جدو جہد برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ البتہ فیمنزم کی اس لڑائی سے الگ بھی تصویر کا ایک پہلو ہے۔ میرا سوال ہے کہ کیا سبھی عورتیں مظلومیت کی مثال ہوتی ہے؟

، کیا سب کی سب مرد کے ہاتھوں جبر کا نشانہ ہی بنائی جاتی رہی ہیں؟ ارے نہیں جناب۔ اس صنف نازک میں بھی بہت دم ہے۔ جہاں ایک مرد اپنی جسمانی طاقت کے ذریعے عورت پر قابو پانا چاہتا ہے، وہی بہت بار عورت اتنی طاقتور نہ ہوکر بھی مرد پر قابو پا جاتی ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں عورتیں مردوں پر اس قدر حاوی رہتی ہیں کہ اگر وہ آدھی رات کو کہیں کہ یہ دن ہے تو شوہر فوراً ایمان لے آتا ہے کہ ہاں دن ہے اور اگر وہ دن میں کہیں کہ یہ رات ہے تو شوہر اس سے اختلاف کے بجائے چادر اوڑھ کر سو رہتا ہے۔ اس قبیلے کے مرد حضرات کو اپنے یہاں بہت سے لقب عطا ہوئے ہیں جن میں زن مرید اور جورو کا غلام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔

ازدواجی زندگی میں یوں تو عورت اور مرد برابر کے حصے دار ہوتے ہیں، لیکن ایک دوسرے پر غالب آنے کے کھیل میں کسی ایک کی بالادستی قائم ہونی ہوتی ہے۔ کئی عورتیں شروع دن سے ایسے منصوبہ بند طریقے سے چلتی ہیں کہ مرد کا سر خم رہنا یقینی ہو جائے۔ سوال یہ کہ کیا واقعی ایک عورت مرد کے دل و دماغ پر اس قدر غالب آجاتی ہے کہ وہ اپنی سوچ سمجھ ہی کھو بیٹھتا ہے؟ سب تو نہیں البتہ کئی عورتیں مردوں کو قابو میں کرنے کا ہنر ضرور جانتی ہے۔ اس سلسلہ میں جو طریقہ کار استعمال کیے جاتے ہیں ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

پہلا طریقہ کار ہے ’ڈرامہ‘ ۔ اس قبیل کی خواتین اپنی بہترین اداکاری کے ذریعے اپنے فرضی جذبات کچھ اس انداز سے مردوں کے سامنے رکھتی ہیں کہ اچھا بھلا انسان بھی ان کے جھانسے میں آ جائے۔ ایسی عورتیں دوہری شخصیت کی مالک ہوتی ہیں۔ شوہر کے آگے کچھ اور اس کے گھر والوں کے لیے کچھ اور۔ اس اداکاری میں جہاں کہیں بھی ان کی چوری پکڑی جاتی ہے تو وہ اپنے آنسوؤں سے خود کو مظلوم بھی ثابت کر دیتی ہیں۔ ایسی عورتیں بات بات پر اموشنل بلیک میل بھی کرتی ہیں۔ کبھی مائیکے جانے کی دھمکی، کبھی پولیس کی دھمکی اور کبھی خودکشی کی دھمکی۔ ان دھمکیوں کو سن سن کر کبھی کبھی تو مرد کا ذہن بھی خودکشی کرنے کا بننے لگتا ہے۔

دوسری قسم ہے ضدی عورتیں کی۔ ان کے کہے کے مطابق اگر آپ نہیں چلے تو یہ آپ اور آپ کے گھر کا سکون غارت کر کے رکھ دیں گی۔ خود کو زبر رکھنے کے خواہش ان میں اس حد ہوتی ہے کہ اپنی ضد میں کھانا پینا چھوڑ خود کو ایک جگہ قید تک کر لیتی ہے۔ آخرش مرد کو اپنے دماغ کو پھٹنے بچانے اور گھر کے سکون کے خاطر جھکنا ہی پڑتا ہے۔

تیسرا حربہ ہے ہر غلط کام کا ذمے دار مرد کو ٹھہرانا۔ اس طرح وہ ان کو یہ احساس دلا رہی ہوتی ہیں کہ وہ اپنی عقل سے کوئی صحیح کام کر ہی نہیں سکتے۔ مرد کو دھیرے دھیرے اپنی بے عقلی پر یقین آ جاتا ہے اور وہ یہ مان لیتا ہے کہ عقل و تدبر میں ان کی بیگم بہت آگے ہیں اس لیے جو کچھ کیا جائے وہ ان کے مشورے بلکہ حکم سے ہی کیا جائے۔ یوں گھر اور باہر کے ہر اچھے برے فیصلے عورت کے ہاتھ میں آ جاتے ہیں۔

چوتھے حربے میں عورتیں خود کو مظلوم اور مرد کو جابر اور ظالم ظاہر کرتی ہیں۔ گھر کے ہر چھوٹے بڑے کام کو وہ خود پر زیادتی سے تعبیر کرتی ہیں اور ان مظالم کی فہرست بار بار دہراتی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ وقتاً فوقتاً یہ طعنہ دینا نہیں بھولتیں کہ میری شادی تو ایک اونچے اور مالدار گھرانے میں ہونے جا رہی تھی جہاں نوکر چاکر اور مامائیں زمین پر پیر بھی نہ رکھنے دیتے۔ یا کچھ عورتیں یوں فرماتی ہیں کہ میں تو اس وقت کہیں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہیں ہوتی لیکن برا ہو میرے گھر والوں کا کہ مجھے یہاں پھینک دیا۔ اب ظاہر ہے کچھ مرد ان طعنوں پر بگڑ جاتے ہیں تو کچھ نیک دل ایسے بھی تو ہوتے ہوں گے کہ وہ بیوی کو اتنے برے حالات میں رکھنے کا مجرم جان کر دل ہی دل میں نادم ہو جائیں اور تلافی کے طور پر عورت کی ہر جائز اور نا جائز باتوں کو ماننا شروع کر دیں۔

آخری اور سب سے کارآمد حربہ اس اصول پر مبنی ہے کہ کسی پر حاوی ہونے یا اسے زیر کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اسے احساس کمتری میں مبتلا رکھو اور ہر ممکن طریقہ سے شرمندہ کرو۔ بات بات پر اس کی کسی چھوٹی بڑی بیماری جیسے شوگر یا بی پی تک کا طعنہ دینا، اس کے معاشی حالات پر ہر ساعت ماتم کرنا، اس کے گھر والوں کے کسی کمزور پہلو کا بار بار ذکر کرنا، کسی کے زیادہ وسائل پر بار بار رشک کرکے دکھانا، مرد کو کسی اور کی وجاہت کی مثالیں دینا یا پھر یہ کہنا کہ فلاں صاحب کی طرح رہا کرو۔ یہ سب روزمرہ کی عام سی باتیں ہیں لیکن مرد کے باطنی وجود کو بری طرح گھائل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ صنف نازک اور نصف بہتر کے یہ غائبانہ تیر مرد کو اس طرح ادھ مرا کر دیتے ہیں کہ وہ خود اعتمادی سے محروم ہوتا جاتا ہے اور بیگم کا اعتماد بڑھتا چلا جاتا ہے۔

چلتے چلتے عرض کر دوں کہ اس تحریر سے یہ نتیجہ نکالنے کی زحمت نہ کی جائے کہ میں خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم سے صرف نظر کر رہی ہوں۔ ہمارے سماج میں خواتین کو جس زیادتی اور تفریق کا شکار ہونا پڑتا ہے اس میں کلام نہیں لیکن میں نے جو باتیں عرض کیں وہ بھی ہمارے سماج کی سچائی کا ایک پہلو ہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ جب ہم زیادتی کی مخالفت کریں تو یہ سمجھ کر آنکھیں نہ پھیر لیں کہ فلاں تو مرد ہے

صائمہ خان، اینکر پرسن دور درشن، دہلی