ارد شیر کاﺅس جی: امریکا یا بھارت کے لئے ان سے بہتر سفیر ممکن نہیں تھا

کاﺅس جی ایک دن ہمارے ہوم سیکرٹری بریگیڈئیر مختار شیخ صاحب سے ملنے آئے۔ ساتھ کے کمرے میں ہم موجود تھے۔ بورڈ پڑھا تو سیدھے اندر چلے آئے۔ وہاں سے پیغام بھجوایا کہ بریگیڈئیر کو بول جنرل کاﺅس جی آیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو جرنلسٹ کی بجائے عام آدمیوں کو مرعوب کرنے کے لیے جنرل بولتے تھے۔

کاﺅس جی سے ہم نے پوچھا کہ یہ کیا مکر ہے کہ خود کو جنرلسٹ سے جنرل بنا لیا۔ اس پر انکشاف کیا کہ چیف جسٹس مرحوم سجاد علی شاہ کو کراچی میں قتل کرنے کا منصوبہ بن گیا تھا۔ وہ پہلے تو سرکار کے بہت منظور نظر ہوتے تھے نسیم حسن شاہ کی ریٹائرمنٹ پر سنہ 1994 میں جسٹس سجاد سعود جان اور ان سے سینئر ایک جج پر ترجیح دے کر انہیں چیف جسٹس بنایا گیا تھا مگر جب وہ سندھ کے ایک جونئیر سیشن جج کو ہائی کورٹ کا جج بنانے پر رضامند نہ ہوئے تو حکومت ان سے ناراض ہوگئی۔ جسٹس شاہ کی کاﺅس جی سے بہت دوستی تھی۔ خود سجاد علی شاہ کے والد رجسٹرار روشن علی شاہ بھی لیاری کے تھے۔ کاﺅس جی کو پرانے تعلقات کی بنیاد پر علم ہو گیا کہ یہ سازش تیار ہوئی ہے تو جنرل جہانگیر کرامت کو فون کر دیا جنرل کرامت سے کوئی پرانا تعارف نہ تھا، ٹائم کم تھا۔ اس لیے یہ چمتکار کیا۔ ان کا اسٹاف افسر جانتا نہ تھا کہ اردشیر کاﺅس جی کون ہیں۔ حضرت نے چالاکی کی کہ انگریزی میں توپ چلائی کہ فیلڈ مارشل مانک شا کا بھائی جنرل کاﺅس جی بول رہا ہوں۔ دوسری طرف فون لینے والے نے گھبراہٹ میں کال اندر کردی تو تھوڑی دیر میں لیاری سے مطلوبہ ممکنہ قاتل چپ چاپ اٹھا لیے گئے۔

کمرے میں آن کر پہلے بریگیڈیئر مختار صاحب کے بارے ہم سے پوچھا کہ کیسے آدمی ہیں؟ کور کمانڈر سندھ جنرل طارق وسیم غازی نے ان سے ملنے کو کہا ہے۔ ہم نے کہا تھری۔ ڈی ہیں۔ Deep ,Decent and Dangerous۔ آئی ایس آئی میں جنرل شمس الرحمن کلو کے کرنل اسٹاف ہوتے تھے ہمارا بہت لحاظ کرتے ہیں۔ کہنے لگے Then you be around.۔ تھوڑی دیر بعد ہوم سیکرٹری کا نائب قاصد آیا کہ آپ کو یاد کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم واجپائی سے ملاقات کے لیے کاﺅس جی بھی اس وفد کا حصہ تھے جو جنرل مشرف کے ساتھ 15 اور 16 جولائی 2001 کو دہلی آگرہ چوٹی ملاقات کے لیے گیا تھا۔ واجپائی سے پہلے آئی کے گجرال بھارت کے وزیر اعظم تھے۔ کاﺅس جی کے پرانے مداح۔ جناح صاحب کی صاحبزادی دینا واڈیا بھی ان کی دوست تھیں۔ ہمیں شبہ ہوا کہ کاﺅس جی سے کچھ باتیں سن کر ایک رپورٹ اسلام آباد بھجوائی جائے گی۔ کاﺅس جی کچھ آف دی ریکارڈ باتوں سے یقیناً واقف ہوں گے۔ سوچا گیا ہو کہ فون پر یا ای میل کے ذریعے بھی کوئی بعد از چوٹی ملاقات کے معاملات زیر بحث رہے تھے۔ برگیڈئیر صاحب جنرل صاحب پرویز مشرف کے بہت پر اعتماد ساتھی تھے۔ آہستہ سے پوچھا کہ ملاقات سے واپسی کے وقت جنرل صاحب کچھ زیادہ ہی رنجور دکھائی دیے، ایسا کیوں ہوا تھا۔

کاﺅس جی نے وہی ریزہ ریزہ کردینے والا مذاق کیا کہ” اگر تجھے دو رات ایک کمرے میں بیوی کے ساتھ سونا پڑے تو خوش ہو گا“۔ ہمارے افسر عالی مقام کے چہر ے کے تاثرات اس جواب پر دیدنی تھے۔

اردشیر کاﺅس جی کی آج ہوم ڈیپارٹمنٹ میں آمد ان کے کراچی میں فیڈریشن ہاﺅس کے برابر اپنے پلاٹ پر قائم باغ رستم کے حوالے سے افغانستان کے قونصلیٹ کی ایک زیادتی تھی جس وجہ جس سے وہ کچھ تنگ تھے۔ طالبان کا دور تھا۔ انہوں نے گلی میں باغ رستم کے داخلے پر پابندی لگادی تھی۔ اپنی ایک عارضی چیک پوسٹ جس پر بندوق بردار طالبان موجود رہتے تھے اس چوکی پر تعینات کردیے تھے۔ پولیس ان سے ڈرتی تھی۔ فارن آفس انجان بن جاتا تھا۔ ہمیں حکم ملا کہ مسئلے کو بطور ایڈیشنل سیکرٹری اور کراچی کا پرانا افسر ہونے کے ناتے حل کریں۔

ہم نے مولوی عنایت اور قاسمانی صاحب کے ذریعے کراچی میں بنوری ٹاﺅن مسجد کے سرپرست اعلی مفتی نظام الدین شامزئی کے ذریعے طالبان اور افغان سفیر عبدالسلام ضعیف سے رابطہ کیا۔ ہمارے دفتر میں مذاکرات کا پہلا راﺅنڈ چلا۔ دوسرے کے لیے ان کی سہولت کے پیش نظر کہ یہ چوکی کہاں ہو اگلا راﺅنڈ قونصلیٹ میں چلا۔ کاﺅس جی گھبرائے ہوئے تھے مگر جب ہماری کار میں بیٹھے تو مطمئن تھے۔ مذاکرات کے نتیجے میں کاﺅس جی صاحب کی منشا کے مطابق چوکی بہت پیچھے کر کے بنائی گئی۔

کاﺅس جی کی اصل شناخت ان کے انگریزی کالمز تھے۔ ان کے کالمز میں ڈان میں شائع ہونے والے ایک اور کالم نگار آرٹ بکوالڈ جیسی کاٹ ہوتی تھی جن کے کالمز دنیا کے پانچ سو اخبارات میں بہ یک وقت شائع ہوتے تھے۔ ارد شیئر کے کالم لکھنے کا آغاز سن 1988 سے ہوا اور ان کی موت سے ایک سال قبل تک یعنی کل 23 سال تک جاری رہا۔ ان کالمز کا موضوع انسانی حقوق، ماحولیات، فنون لطیفہ (پینٹر ظہور الاخلاق کے بہت مداح اور دوست تھے جنہیں ان کی صاحبزادی جہان آرا سمیت ایک قاتل شہزاد بٹ نے گولیاں مار دیں تھیں کاﺅس جی کو ان کی موت کا دم مرگ تک صدمہ تھا۔ اس موت کی وجہ سے وہ پاکستان کے مستقبل سے شدید بد دل ہوئے تھے۔) اور کرپشن کے موضوعات پر ہوا کرتے تھے

انگریزی میں بہت کمال کی لکھتے تھے۔ مختصر اور پر مزاح تھی مگر اختصار اور بیان کا اعتماد برطانیہ کے مرد آہن وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے ہاں سے آیا تھا۔ تحریر میں جو ایک شرارتی روانی تھی اس کے لیے انگریزی کے مشہور مصنف پی جی ووڈ ہاﺅس کے بے پناہ مطالعے کو دوش دیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطالعے کے کمرے میں داخل ہوں تو چرچل کی کتاب ہسٹری آف انگلش اسپکنگ پیپلز کا ڈی لکس ایڈیش میں چار والیمز کا سرخ سیٹ سجا ہوا دکھائی دیتا تھا۔

مطالعہ وسیع تھا۔ تعلقات چار سو۔ ان کے گھر کی اوپر کی منزل کی اسٹڈیم جتنی بڑی اسٹڈی میں ذی روح کل تین ہوا کرتے تھے۔ وہ خود۔ ان کی بدمزاج مگر بہت انسان دوست سیکرٹری امینہ جیلانی جو ان کے ساتھ باہر بھی سائے کی طرح لگی رہتی تھیں۔ وہ بھی Jay-Walker بہت اچھے کالمز لکھتی تھیں۔ دونوں کے کالمز ڈان انگریز میں شائع ہوتے تھے۔

اس حیرت کدے میں تیسرا زندہ وجود ان کا سفید کاکٹو .Ben گجراتی اور انگلش اپنی مرضی سے بولتا تھا۔ جب وہ آپس میں ناراض ہوکر ایک دوسرے سے گالم گلوچ کرتے۔ باس اور سیکرٹری کی نقل بھی اتارتا۔ ان کے اکثر اختلافات اس فلپائن کے طوطے کی وجہ سے دور ہوتے تھے۔ طوطے کے حوالے سے حساس تھے اس کے بارے میں وہ مصر ہوتے کہ یہ آسٹریلیا کا ہے۔ ہم انہیں جتاتے کہ وہاں کے طوطے سائز میں بڑے ہوتے ہیں یہ چھوٹا ہے تو وہ اپنی دبلی پتلی سیکرٹری امینہ کو چھیڑنے کے لیے کہتے ابھی جس طوطے کو امینہ پالے گی وہ بھی تو اس جیسا ہی ہوئے گا نا۔

یہ کالم شائع ہوتے تھے تو ایم کیو ایم، مذہبی حلقے، بے نظیر صاحبہ، نواز شریف، سندھ کے وزیر اعلی جام صادق علی سب کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی۔ اکثر حقائق کی تصدیق کے لیے یا تو ہمارے پاس دفتر آجاتے یا ہمیں گھر پر یاد کر لیتے تھے۔ ہم دونوں ایک ہی محلے باتھ آئی لینڈ میں رہتے تھے۔

بلڈنگ کنٹرول کے معاملات پر گہری نگاہ تھی۔ ایک این جی او شہری جس کی سربراہ امبر علی بھائی تھیں اس کی اعانت سے وہ ان کرپٹ بلڈرز کو عدالتوں میں گھسیٹ لیتے تھے۔ گلاس ٹاﺅر کے مقدمے میں انہوں نے ایک جسٹس صاحب سعید الزماں صدیقی کو بہت تنگ کیا تھا۔ صدیقی صاحب جن کی شہرت بہت داغدار تھی وہ بعد میں چیف جسٹس اور سندھ کے گورنر بھی بنے مگر گورنر غلام محمد جیسے، بیمار اور قریب المرگ۔ لیاقت علی خان کے قتل پر جب ایک تار کے ذریعے غلام محمد کی بطور گورنر جنرل نامزدگی کی اطلاع ملی تو وہ شدید علیل تھے۔ حلف برادری کی تقریب جو لیاقت علی خان کے سوئم والے دن اکتوبر 1951 میں منعقد ہوئی انہیں دو اے ڈی سی تھام کر ہال میں لائے تھے جس پر وہاں کسی نے کہا” ایک اور گورنر جنرل ڈھونڈ لیں۔ دوسرا سوئم بھی جلد ہونے والا ہے“۔ اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ گورنر جنرل بنتے ہی غلام محمد کی صحت شہباز شریف کی طرح بہتر ہوگئی۔

کاﺅس جی کے مقدمات یا تو فخر الدین جی ابراہیم جو بوہری فرقے سے تعلق رکھتے تھے ان کے دوست اور ہم زبان تھے وہ لڑتے یا بیرسٹر نعیم الرحمان جنہیں وہ ان کی وجاہت اور تمکنت کی وجہ سے لارڈ گلبرٹ کہہ کرپکارتے تھے۔

فخرالدین جی ابراہیم جنہیں سب پیار سے فخرو بھائی پکارتے تھے۔ انہوں نے کاﺅس جی کی مشاورت سے اپنی گورنری کے دور میں کراچی میں Citizens Police Liaison Committee (CPLC) کی بنیاد رکھی۔ ان دنوں کراچی میں اغوا برائے تاوان کا جرم زوروں پر تھا۔ کراچی کے یہ چار گجراتی دوست فخرو بھائی، ناظم حاجی، جمیل یوسف اور ان کے مشترکہ گورو، اردشیر کاﺅس جی اس جرم کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے

جناح صاحب ان کے والد کے ذاتی دوست تھے۔ ان کے اسی گھر پر جہاں وہ رستم فقیر جی کاﺅس جی نے ہمیں کھانے کی میز پر بٹھایا تھا جناح صاحب کی بھی نشست رہی تھی۔ ہمارا خیال ہے کہ پاکستان کو ان سے بہتر امریکہ اور بھارت میں کوئی اور سفیر نہیں مل سکتا تھا۔ فیلڈ مارشل جرنل مانک شا، جسٹس دوراب پٹیل دونوں ان کے کزن تھے۔ مشہور مصنفہ بپسی سدھوا، بھارت کے ٹائیکون رتن ٹاٹا، پاکستان کے مندوب جمیشد مارکر، بھارت کے آنجہانی وزیر اعظم آئی کے گجرال، دھیرو بھائی امبانی، وی پی سنگھ اور واجپائی اور ان کے مشہور سیاست کار، ایل کے آڈوانی بہار کے بے مثال چیف منسٹر نتیش کمار اور جناح صاحب کے داماد نسلی وا ڈیا اور مشہور بھارتی مسلمان ٹائیکون عظیم پریم جی ذاتی دوست۔ ایک فون کال کی دوری پر۔ امریکی سفیر سے وہ جب چاہیں مل سکتے تھے۔

24 نومبر 2012 کو ارد شیر اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے تو لگا کہ کراچی کے شہریوں کا درد رکھنے والے اور پاکستان ایک بہت باوقار اور اعلی ظرف انسان دوست اور جناح صاحب کے متوالے شہری سے محروم ہو گئے ہیں۔

ہم اس یاد رفتگاں کو ان کی اس نصیحت پر ختم کرتے ہیں جو ارسلا جاوید کو انہوں نے موت سے ایک سال پہلے ایک ملاقات میں کی تھی

We are surrounded by chariyas who will never do anything. I have not seen anyone reclaim Jinnah’s Pakistan in my lifetime. But maybe your generation will. Don’t ever give up on this hope, you hold so dear.”

(ہم چاروں طرف سے پاگلوں میں گھرے ہیں۔ جو جناح کا پاکستان میری زندگی میں نہیں بناپائیں گے۔ لیکن شاید آپ کی نسل میں یہ کام کوئی کر پائے۔ ہمیں اس حوالے سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ )

اقبال دیوان