ایبٹ آباد میں امریکی میرینز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا

وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا ہے، پاکستانی اشرافیہ کی انتہا پسندوں سے محبت نئی نہیں ہے اس سے پہلے حکیم اللہ محسود کی موت پر چوہدری نثار بھی غمزدہ ہوئے تھے اور جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن مرحوم نے اسے شہید قرار دیا تھا۔

اسامہ بن لادن نائن الیون کا ذمہ دار تھا اور اس کی اس دہشت ناک کارروائی نے پوری دنیا میں شخصی آزادیوں اور انسانی حقوق کو پیچھے دھکیل کر ایک نئے عہد کا آغاز کیا جس میں ہر چیز کے معنی بدل گئے۔

دو مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں امریکی میرینز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور ہر جانب سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ امریکی ایبٹ آباد داخل کیسے ہو گئے؟ اس سارے معاملے کی جانچ کے لیے اس وقت کی پیپلز پارٹی حکومت نے ایک کمیشن بھی بنایا تھا جس کے انچارج ’سر سے پا تک احتساب‘ کرنے والے جسٹس ریٹائر جاوید اقبال تھے۔ کمیشن کی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آ سکی اور قوم کو ان اسباب کا پتا نہیں چل سکا جن کی وجہ سے امریکی فوجی بآسانی پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

امریکیوں کے خلاف اٹھتی آوازوں میں یہ بات فراموش کر دی گئی کہ اسامہ ایبٹ آباد میں کیا کر رہا تھا؟ برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کی کتاب فیرویل ٹو کابل کے مطابق جب وہ اس واقعے کے کچھ روز بعد پاکستان آئی تو میریٹ ہوٹل میں لنچ کے دوران سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے اس سے کہا ’لوگ بہت مایوس ہیں”، وہ پوچھ رہے ہیں کہ امریکی ان کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ میرے قصائی نے بھی مجھ سے آج کہا ہے کہ امریکہ نے ہم پر حملہ کیا ہے۔ ‘

اسامہ کی ہلاکت کے بعد جب پورے پاکستانی میڈیا پر ہاہاکار مچا ہوا تھا اور سینئر صحافی نصرت جاوید کافی غصے میں تھے کہ ان کے پروگرام میں جتنی بھی کالز آئی تھیں ان میں لوگ امریکی ’حملے‘ پر خفا تھے، اتنے میں ایک پاکستانی صحافی نے اسلام آباد کی ایک مارکیٹ سے پروگرام میں فون کر کے پوچھا کہ دنیا کا سب سے مطلوب دہشت گرد ہمارے ہاں کیا کر رہا تھا؟ اس صحافی کے فون کے فورا بعد ہی اسے “عالم بالا ” سے ایک کال آئی اور دھمکی دی گئی کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کون ہے اور کیا کرتا ہے۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے 2015 میں بی بی سی ہارڈر ٹاک میں کہا کہ ممکن ہے کہ آئی ایس آئی کو اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا علم ہو اور وہ یہ بات تبھی بتانا چاہتے ہو جب انہیں مناسب لگتا ہو۔

ان تمام باتوں کے باوجود یہ سوال ہمیشہ اٹھتا رہا کہ امریکیوں کو اسامہ کے ٹھکانے کی اطلاع کس نے دیَ؟ اس حوالے سے پہلا انکشاف پاکستانی صحافی اعزاز سید نے 2015 میں چھپی اپنی کتاب پاکستانز سیکرٹ وارز انگیسٹ القاعدہ میں کیا اور ملٹری انٹیلی جنس کے ایک سابق کرنل کا ذکر کیا جس نے اسامہ کے ٹھکانے کی اطلاع دی تھی اور ملینز آف ڈالر کا انعام پایا تھا۔ اس حوالے سے مزید انکشافات سابق آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ کے بھائی اور دفاعی تجزیہ نگار شجاع نواز نے رواں سال شائع ہونے والی اپنی کتاب دی بیٹل فار پاکستان میں کیے ہیں۔ شجاع نواز کے مطابق ملٹری انٹیلی جنس کے اس سابق کرنل کا نام سعید اقبال خان ہے، جن کی آج کل کئی مبینہ تصویریں انٹرنیٹ پر گردش کرتی رہتی ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق کرنل سعید اقبال خان کو، جو دوستوں میں بیلی خان کے نام سے جانے جاتے ہیں، جعلی کرنسی کے معاملات میں ملوث ہونے کی بنا پر جبری ریٹائر کیا گیا تھا۔ سید اقبال خان نے بعد میں اپنی سکیورٹی فرم بنا لی تھی جو امریکیوں کو لاجسٹک اور جاسوسی خدمات فراہم کرتی تھی۔ ایبٹ آباد میں کرنل سید کا دفتر ہی سی آئی اے کا آپریشن روم تھا جہاں سے اسامہ کے ٹھکانے پر نظر رکھی جاتی تھی۔

ایبٹ آباد آپریشن کے فورا بعد ہی سعید اقبال خان نے پاکستان چھوڑ دیا اور امریکا چلے گئے جہاں وہ سین ڈیاگو میں دو اعشاریہ چار ملین ڈالر کے شاندار گھر میں بیلے خان کے نام کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن نے کرنل سعید اقبال خان کا نام کلیئر کر دیا ہوا ہے جب کہ امریکیوں کو اسامہ کا ڈی این اے دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی ہنوز قید ہیں۔

عماد احمد