کیا جعلی پائلٹ لائسنس ممکن ہیں؟

وفاقی وزیر برائے ہوابازی جناب غلام سرور صاحب نے قومی اسمبلی کے فلور پر پی آئی اے کے طیارہ 8303 کے حادثے کی ابتدائی یا عبوری رپورٹ دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا کہ پی آئی اے کے تیس فیصد پائلٹس کی ڈگریاں یا لائسنس جعلی ہیں اور وہ اس ضمن میں تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ آٹھ پائلٹس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے اور رو رو کر معافی بھی مانگی ہے لیکن اللہ پاک کی ذات تو معاف کرنے والی ہے لیکن حکومت معاف نہیں کرے گی اور سخت سے سخت قانونی کارروائی کرے گی۔

مندرجہ بالا بیان ناچیز کی ذاتی رائے میں نہ صرف غیر ضروری تھا بلکہ حقائق سے ہٹ کر ہے اور کنفیوژن کا باعث ہے مزید براں مذکورہ بالا بیان نے غیر ملکی سطح پر پی آئی اے کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید زک پہنچائی اور سول ایوی ایشن کے محکمے پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ پی آئی اے کے غیر ملکی پروازوں کے آپریشن کو ایک ممکنہ پابندی کے خدشے سے بھی دو چار کر دیا۔ عین ممکن ہے میری بات سے آپ اتفاق نہ کریں یا پھر سیاسی وجوہات کی بنا پر اس سارے معاملے کو سمجھے بغیر رد کردیں لیکن گزارش یہی ہے کہ پہلے بات سمجھیں اور پھر غیر جانبداری سے طے کریں کہ حقیقت کیا ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو سب سے پہلے میں مختصر ترین الفاظ میں بتاؤں کہ پائلٹ لائسنس ہوتا کیا ہے۔

پائلٹ لائسنس کی کئی اقسام ہیں لیکن فی الحال ہم صرف دو اقسام کا ذکر کریں گے اور وہ ہیں پی پی ایل یعنی پرائیویٹ پائلٹ لائسنس اور سی پی ایل یعنی کمرشل پائلٹ لائسنس۔ ان کی مزید دو کیٹیگریز ہیں پی پی ایل اے یعنی پرائیویٹ پائلٹ لائسنس برائے ایرو پلین اور پی پی ایل ایچ برائے ہیلی کاپٹرز، اسی طرح سی پی ایل اے اور سی پی ایل ایچ ہے۔ ان میں مزید کیٹیگریز برائے فلائیٹ انسٹرکٹر اور ایگزامینر الگ ہیں جو اور فلائنگ آورز وغیرہ کے فرق اور اضافی تجربے سے متعلقہ ہیں۔ پاکستان میں ہوابازی کا شعبہ سول ایوی ایشن یا سی اے اے کے تحت ہے جبکہ کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور اور غالباً فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں فلائنگ کلب سول ایوی ایشن کی باقاعدہ اجازت سے پی پی ایل اور سی پی ایل کی ٹریننگ کرواتے ہیں۔

پہلے تو میں آپ کو یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ پائلٹ لائسنس ایک سکل یا مہارت کہہ لیں تو چلے گا لیکن یہ کوئی ڈگری بہرحال نہیں ہے اور نہ ہی ایک پائلٹ بننے کے لیے اصولاً کسی ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں پی پی ایل اور سی پی ایل کے لیے کم از کم سترہ سال اور اٹھارہ سال اور زیادہ سے زیادہ عمر کی کوئی پابندی نہیں ہے لیکن آپ کو بالترتیب کلاس ٹو میڈیکل فٹنس سرٹیفیکیٹ اور کلاس ون میڈیکل فٹنس سرٹیفیکیٹ لازمی لینا پڑتا ہے اور کلاس ٹو سرٹیفیکیٹ آپ کو کسی بھی سولو فلائیٹ سے پہلے لازمی درکار ہوتا ہے جبکہ آپ نے اس وقت تک گراؤنڈ امتحانات یا تھیوریٹیکل نالج کے 9 مختلف امتحانات میں سے کم از کم ایک ایوی ایشن لا لازماً پاس کر رکھا ہو۔ برطانیہ میں تعلیم کی کوئی لازمی شرط فی الحال نہیں ہے البتہ آپ کو انگریزی لکھنی، بولنی، پڑھنی اور سن کر سمجھنی آتی ہو۔

پاکستان میں بھی یہی قوانین ہیں البتہ پی پی ایل کے لئے کم از کم سترہ سال اور سی پی ایل کم از کم اٹھارہ سال کی عمر اور بالترتیب میٹرک ڈگری یا اس کے برابر جبکہ سی پی ایل کے لیے انٹر کی تعلیم یا اس کے مساوی ڈگری درکار ہوتی ہے۔ سائنس کے مضامین لازمی نہیں البتہ بنیادی حساب کتاب کرلینا یعنی بیسک میتھ آپ کا اچھا ہونا چاہیے تا کہ آپ کو دوران تربیت ذرا سہولت رہے۔ بیچلرز ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔

کل ملا کر 9 گراؤنڈ امتحانات مندرجہ ذیل ہوتے ہیں۔
ائر لا ۔ Air Law
آپریشنل پروسیجرز۔ Operational Procedures
پرنسپلز آف فلائیٹ۔ Principles of Flight
میٹیورولوجی۔ Meteorology
نیویگیشن۔ Navigation
کمیونیکیشنز۔ Communications
ہیومن پرفارمنس اینڈ لمیٹیشنز ( پرفارمنس ) Human Performance and Limitations
ائر کرافٹ جنرل۔ Air Croft General
فلائیٹ پرفارمنس اینڈ پلیننگ۔ Flight Performance & Planning

برطانیہ اور یورپ میں ان امتحانات کو بالترتیب یو کے سی اے اے اور یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کے زیرنگرانی اور ہدایات کی روشنی میں ملٹیپل چوائس سوالات کی صورت میں لیا جاتا ہے جس کے کم از کم پاسنگ مارکس پچھتر فیصد ہیں جبکہ پاکستان میں یہ امتحانات سی اے اے کی زیر نگرانی ہوتے ہیں۔ گراؤنڈ امتحانات پاس کرنے کے ساتھ ساتھ سب سے پہلے پی پی ایل لائسنس درکار ہوتا ہے جو برطانیہ میں کم از کم پینتالیس گھنٹے اور پاکستان میں فلائیٹ کے چالیس گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ ان میں سے کم از کم پچیس گھنٹے انسٹرکٹر کے ساتھ اور کم از کم دس گھنٹے سولو فلائیٹ کے درکار ہوتے ہیں۔

کمرشل پائلٹ لائسنس کی طرف پہلا قدم پی پی ایل ہوتا ہے یعنی سی پی ایل کے حصول سے پہلے پی پی ایل لازمی ہے۔ سی پی ایل کے لیے پاکستان میں کم از کم ایک سو پچاس گھنٹے فلائیٹ آورز درکار ہوتے ہیں جبکہ آئی آر یا انسٹرومینٹ ریٹنگ چالیس گھنٹے بھی پورے کرنے ہوتے ہیں جو کل ملا کر 190 فلائنگ آورز بنتے ہیں اور برطانیہ یا یورپ کے کم از کم مقررہ حد کے ساتھ میچ کرتے ہیں۔

شاید تعداد دیکھ کر آپ کو لگتا ہو کہ گراؤنڈ امتحانات مشکل ہوتے ہیں لیکن ناچیز کی ذاتی رائے اور تجربے کی نظر میں یہ نہایت آسان اور عام فہم باتیں ہیں۔ اس کے بعد میں آپ کو مختصراً فلائیٹ آورز ریکارڈ کا بتاتا ہوں۔

جیسے سڑک پر کوئی گاڑی چلتی ہے تو اس کا اوڈو میٹر میٹر اس کے میل یا کلومیٹر گنتا رہتا ہے کہ یہ گاڑی اتنے سو یا ہزار کلومیٹر / مائیلز سفر طے کر چکی ہے تو اسی طرح جہازوں کے سفر کی گنتی فلائیٹ آورز میں کی جاتی ہے کہ فلاں جہاز اتنے سو گھنٹے فلائیٹ آورز کر چکا ہے اور یہ تمام فلائنگ گھنٹے باقاعدہ ایک رجسٹر لاگ بک میں درج ہوتے ہیں جہاں پائلٹ کا نام، جہاز کی قسم، اس کی رجسٹریشن اور فلائیٹ کا وقت درج ہوتا ہے جس کو فلائنگ کلب باقاعدہ خود اوکے کرتا ہے۔ یہ لاگ بک پائلٹ کی ہوتی ہے لیکن بعض فلائنگ کلب اس کو اپنی تحویل میں رکھ سکتے ہیں، لیکن دونوں صورتوں میں اس میں ایک گھنٹہ بھی فلائیٹ کا اضافی یا جعلی طریقے سے نہیں ڈالا جاسکتا۔

یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ پی پی ایل اور سی پی ایل کی ٹریننگ، انسٹرومینٹس اور روٹ بالکل ایک جیسا ہے البتہ سی پی ایل کے گھنٹے ظاہر ہے پی پی ایل سے تین گنا زیادہ ہیں۔ یورپ اور برطانیہ میں سی پی ایل کی فائنل ٹریننگ میں ملٹی انجن، بوئنگ یا ائر بس پر بھی فلائنگ آورز کروائے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں غالباً تمام ٹریننگ سنگل انجن طیاروں پر کروائی جاتی ہے۔

اب جہاز کی فلائیٹ کوئی ایسا کام نہیں ہے کہ آپ نے انجن سٹارٹ کیا اور نکل پڑے، جہاز ہینگر میں کھڑے ہوتے ہیں جہاں پہلے آپ جہاز کی مکمل چیک لسٹ کرتے ہیں اور درج کرتے ہیں پھر آپ ان کو نکالنے سے لے کر ٹیکسی کرنے تک گراؤنڈ کنٹرول اور فلائی کرنے سے پہلے متعلقہ اے ٹی سی کو بذریعہ ریڈیو کمیونیکیشن اپنا نام، جہاز کی رجسٹریشن اور اڑان کا مقصد بتاتے ہیں، اجازت لیتے ہیں اور ائر سپیس کے استعمال کی اجازت باقاعدہ سی اے اے سے لی جاتی ہے یعنی یہ کوئی ایسا عمل نہیں جو چھپایا جا سکے یا بغیر جہاز اڑائے لاگ بک میں فلائنگ آورز کی انٹری ڈال دی جائے۔ یہ تمام عمل واپس کراس چیک ہو سکتا ہے اور ہوتا رہتا ہے۔ کوئی بھی فلائنگ کلب کسی بھی قیمت پر ایسی بے وقوفانہ حرکت نہیں کر سکتا۔

اب سب سے آخر میں لائسنس جاری کیسے ہوتا ہے؟ جناب جب آپ کی فلائیٹ سکلز، فلائنگ آورز اور باقی درکار معاملات پورے ہو جاتے ہیں تو سول ایوی ایشن کا ماہر ایگزامینر آپ کی فلائیٹ اور سکلز کا باقاعدہ جہاز اڑا کر امتحان لیتا ہے اور اگر آپ ان کے مطلوبہ معیار پر پورے اترتے ہیں تو آپ کو لائسنس جاری کر دیا جاتا ہے۔ یہ لائسنس کوئی ڈرائیونگ لائسنس نہیں کہ بغیر ٹیسٹ دیے سفارش سے لے لیا جائے اور بعد ازاں ادھر ادھر گاڑی کے چند حادثے کرنے کے بعد ہاتھ سیدھا کر لیا جائے۔ چلیں زیادہ سے زیادہ پاکستانی سفارشی کلچر کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دوران امتحان سول ایوی ایشن کا ایگزامینر آپ کی معمولی غلطیوں کو نظرانداز کردے گو میری ذاتی رائے میں یہ بھی ناممکن لگتا ہے کیونکہ آپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کون سا بندہ امتحان لینے آئے گا۔

اب سی پی ایل لائسنس آپ کو مل گیا تو ظاہر ہے نوکری بھی چاہیے۔ پی آئی اے پاکستان میں وہ واحد ادارہ تھا ( ہے ) جو فریش پائلٹس کو نوکری پر لیتا ہے لیکن آسامیاں کم ہوتی ہیں اور امیدوار زیادہ تو وہی پائلٹ نوکری لے پاتا ہے جس کے پاس سفارش ہوتی ہے۔ یہ درست طرز عمل نہیں اور نہ میں اس کی حمایت کر رہا ہوں لیکن سفارش سے بھرتی ہونے والا پائلٹ بھی بہرحال کمرشل پائلٹ لائسنس ہولڈر ہوتا ہے۔

اب آ جاتے ہیں جعلی ڈگریوں کے معاملے پر۔

آپ کو یاد ہی ہوگا کہ ناچیز وہ پہلا بندہ تھا جس نے کراچی حادثے میں پائلٹ کو قصوروار ٹھہرایا اور شدید تنقید کا سامنا بھی کیا کیونکہ اکثریت پائلٹ کو ہیرو قرار دینے پر تلی ہوئی تھی اور ہے یعنی کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مجھے پائلٹس سے کوئی ہمدردی نہیں، برسبیل تذکرہ پائلٹ سجاد گل صاحب 1989 میں کلاس ون میڈیکل چیک اپ میں نفسیاتی ٹیسٹ میں فیل ہو گئے تھے جو بعد ازاں وفاقی محتسب کے فیصلے کے تحت انھیں انرول کرنا پڑا۔ جی یہ ممکن ہے کہ کچھ پائلٹس کی میٹرک یا انٹر کی اسناد / ڈگریوں جعلی ہوں یا مشکوک ہوں لیکن ان کا پائلٹ لائسنس جعلی ہونا قریب قریب ناممکن ہے اور ایسا کیوں ناممکن ہے یہ میں اوپر بڑی تفصیل سے بیان کر چکا ہوں۔

اس بیان سے پی آئی اے کی ساکھ خراب ہوئی ہے اور اگر اس ادارے کو نجکاری کرنا بھی مقصد تھا تب بھی یہ بیان کم از کم اسمبلی فلور پر دینا نہایت غیر ضروری اور ناچیز کی ذاتی رائے میں حد سے زیادہ بے وقوفانہ عمل تھا۔ میری ذاتی رائے میں پی آئی اے کے معاملات جتنے خراب ہو چکے ہیں ان کا حل شاید نجکاری میں ہی ہے لیکن اس بیان سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے اور دنیا کا اعتبار پاکستان کی سول ایوی ایشن سے بالکل اٹھ گیا ہے۔

پی آئی اے تو شاید نجکاری کی طرف ایک دن چلی ہی جائے گی لیکن افسوس تو یہ بھی رہے گا کہ نئے پائلٹس کے لیے یہ واحد ادارہ تھا جو انھیں نوکری دیتا تھا، ائر بلیو میں غالباً پندرہ سو فلائیٹ آورز کی ڈیمانڈ ہے اور سیرین ائر لائنز کا مجھے معلوم نہیں لیکن وہ بھی بہرحال چند سو گھنٹوں سے کم ہرگز نہیں ہوگی۔ میڈیکل کی فیلڈ میں تو پھر بھی کہیں نہ کہیں سرکاری مدد یا سکالر شپ شامل ہوتی ہے لیکن پائلٹس بننے کی اس مہنگی ریس میں سٹوڈنٹ پائلٹس جب ذاتی خرچہ کر کے مکمل پائلٹس بنیں گے تو ان کا مستقبل مخدوش ہوگا، یا تو وہ پینتیس سے پچاس لاکھ میں کم از کم ایک سو نوے گھنٹے ( ایک گھنٹہ سیسنا طیارے کا کم و بیش اٹھارہ سے بیس ہزار روپے سے کم نہیں ہوگا ) پورے کریں یا پھر مزید لاکھوں نہیں کروڑوں روپوں سے چند سو گھنٹوں سے پندرہ سو گھنٹوں تک کا سفر طے کریں۔

تمام حقائق آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں اب آپ خود غیر جانبداری سے دیکھ کر اور سمجھ کر فیصلہ کر لیں۔
اب اجازت دیں، یہ پوسٹ ایک نہایت عزیز دوست کے حکم پر لکھی گئی تھی لیکن پرسوں رات سے کزن کی وفات کی وجہ سے زیادہ وقت نہیں نکال سکا۔

ہارون ملک