ایم کیوایم پاکستان نے صوبائی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے سندھ حکومت کے خلاف احتجاج کے دائرہ کار کو کراچی بھر میں پھیلانے کا اعلان

ایم کیوایم پاکستان نے صوبائی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے سندھ حکومت کے خلاف احتجاج کے دائرہ کار کو کراچی بھر میں پھیلانے کا اعلان کردیا ہے کورونا وائرس ختم ہونے کے بعد سندھ بھر میں احتجاج ہوگا جس میں عوامی نمائندوں شریک ہونگے جبکہ عوام کو بھی سڑکوں پر آنے کی دعوت دینگے ایم کیوایم نے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنے کو ختم کرنے کا بھی اعلان کیا اس بات کا اعلان ایم کیوایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل نے ہفتہ کو سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا
نے کہا ہے کہ سندھ کے بجٹ کا ہمارے ارکان نے بخوبی مطالعہ کیا جب بجٹ سیشن شروع ہوا تو اپنے تمام تحفظات کا اظہار کیا اور سندھ حکومت کو بتایا کہ آپکا یہ عمل کو آپ بارہ سال سے کرتے آرہے ہیں یہ سندھ میں مختلف طبقہ فکر کے بسنے والی اکائیوں کے درمیان تفریق کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں یہ احساس دلانے کی کوشش بھی کی کہ آپ اپنے صوبائی ٹیکس کا پچانوے فیصد کراچی سے جمع کرتے ہیں مگر شاید انکی تقاریر کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ بے حس حکومت اور بے حس حکمرانوں کے کانوں پر کوہی جوں رینگ نہیں رہی تو ہم نے اس بجٹ کو مسترد کرکے اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا تاکہ ایک طرف ہم سندھ کے بے حس حکمرانوں کو احساس دلانے کی کوشش کریں اور دوسری طرف کراچی حیدرآباد سمیت سندھ کے دئگر شہروں کے رہنے والوں کی محرومیاں اور مسائل سے میڈیا کے زریعے پورے پاکستان کو آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وزراء ہمارے کیمپ کا وزٹ کرتے رہے ہم نے باور کروایا کہ ہمارا ان سے کوہی زاتی جھگڑا نہیں بلکہ سندھ کے شہروں کو انکا جائز حصہ دے دیا جائے عوام کو مشکلات سے نجات دلائی جائے انہوں نے کہا کہ آپ کمیٹی بنادیں ہم وزیراعلی سندھ سے بات کرکے آئے ہیں اور آپکے تمام جائز مطالبات کا جائزہ لیں گے ہم نے چار نام دے دئیے مگر انہوں نے آج اپنا بجٹ منظور کرلیا جو پہلے سے کتابوں میں بجٹ لکھا ہوا تھا سندھ کے شہروں میں کوہی نئی اسکیم طبی سہولتوں کو کراچی میں نہیں بڑھایا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم اب ہمارا احتجاج آج تک سندھ حکومت کے توجہ دلانے کے لئے کراچی میں کرررہے تھے اور آج کے بعد سے احتجاج کا دائرہ کار کراچی کے چپے چپے میں پھیلا دیا جائیگا اسکے بعد احتجاج کا دائرہ کار سندھ کے شہروں تک پھیلایابجائے گا اس احتجاج میں اراکین اسمبلی سینیٹر بلدیاتی نمائندے کے ساتھ کارکنان بھی شریک ہونگے انہوں نے کہا کہ کورونا ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے احتجاج کرینگے کورونا ختم ہونے کے بعد ہم باقاعدہ عوامی اجتماعات اور سڑکوں پر آئینگے کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ اپنے احتجاج میں عوام کو بھی سڑکوں پر آنے کی دعوت دینگے کراچی کے لئے سندھ حکومت نے صرف گیارہ ارب روپے کی اسکیمیں مختص کی ہیں جو ظلم کے مترادف ہے ہم ایسے بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہیں اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی محمد حسین نے کہا کہ پیپلز پارٹی بارہ سال سے جو کچھ کررہی ہے وہ کراچی کو تباہ کررہی ہے پاکستان کی معیشت اوردفاع کراچی کی معیشت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔پیپلز پارٹی کی متعصب حکومت کراچی کی معیشت کو تباہ کرکے پاکستان کی معیشت کو تباہ کررہی ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس کراچی کو حق دالنے کےلیے مداخلت کریں حکومت سے باز پرس کریں آخر یہ معاشی شہر کو کب تک تباہ کریں گے ؟ رہنماؤں نے میڈیا کے سولات کے جواب میں کہا کہ ہم وفاقی حکومت سے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کی بھی درخواست کرتے ہیں ہم آج سے یہاں سے احتجاج ختم کررہے ہیں انہوں نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی شدید مذمت بھی کی۔کنور نوید جمیل نے کہا کہ وفاق نے کراچی کےلیے 22 فیصد رکھے ہیں اس میں بھی 90 فیصد کی زمہ داری صوبائی حکومت کی ہے ہم وزیر اعظم سے بھی مطالبہ کرتے رہتے ہیں سندھ حکومت نے ریڈ لائن پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا ہم ان سے کتابیں مانگتے رہیں ہمیں بجٹ کی کتابیں نہیں دی گئیں ہمارے کٹ موشن کا وقت گزر گیاتھا۔