سارا ملبہ پائلٹوں پر؟

ہوا بازی ایک انتہائی حساس شعبہ ہے جس کے دائرہ کار میں بحفاظت اور آرام دہ فضائی سفر کے ساتھ ساتھ ایوی ایشن کے تمام تکنیکی امور آتے ہیں اور پائلٹ جو دورانِ سفر پورے جہاز کا ناخدا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی فٹنس سے لیکر جہاز اُڑانے کے لائسنس کے حصول تک ہر بات کی ذمہ داری شعبہ سول ایوی ایشن ہی کے سر ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی ہوا باز جو اپنے پیشے میں نہایت عزت و احترام اور ملک و قوم کی سربلندی کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ یکایک 22مئی کے پی آئی اے کے طیارے کے المناک حادثے کے حوالے سے بہت سے سوالات کا مرکز بن گئے ہیں اور ابتدائی رپورٹ نے سب کو چونکا دیا جس میں بتایا گیا ہے کہ متذکرہ حادثے کی وجہ کوئی فنی خرابی نہیں تھی۔ جہاز پرواز کیلئے سو فیصد فٹ تھا۔ غلطی پائلٹوں، معاونین اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کی تھی۔ اس ضمن میں شعبہ ہوا بازی اور قومی ایئر لائن کی جو مجموعی حالت زار ابتدائی رپورٹ اور وزیر ہوا بازی کے انکشافات کی صورت میں سامنے آئی ہے وہ محض تشویشناک نہیں، شرمناک بھی ہے کہ پی آئی اے جیسے قومی ادارے میں نہ صرف اہلیت کا اہتمام تقریباً ختم ہو چکا ہے بلکہ پورے شعبہ ہوا بازی میں جعل سازی، اقربا پروری، سفارش اور رشوت کا کھلا راج ہے۔ اس کا اندازہ غلام سرور خان کے اس انکشاف سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کی تمام فضائی کمپنیوں کے 860پائلٹوں میں سے 262یعنی 32فیصد سے زائد نے لائسنس جعلسازی سے حاصل کررکھے ہیں جبکہ پی آئی اے میں چار پائلٹوں سمیت عملے کے بہت سے ارکان کی تعلیمی اسناد بھی باقاعدہ تحقیقات سے جعلی پائی گئی ہیں۔ وزیر ہوا بازی نے رپورٹ میں آٹھ اور دس سال پہلے ایئر بلیو اور بھوجا کے فضائی حادثات کی رپورٹوں کی روشنی میں ان کا سبب بھی پائلٹوں ہی کی غلطی کو قرار دیتے ہوئے جعلی پائلٹوں کے خلاف کارروائی جلد شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم سردست متذکرہ رپورٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستانی پائلٹوں اور سول ایوی ایشن اتھارٹی پر جو سوالات اٹھ رہے ہیں اس کے فوری مداوے کی ضرورت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بات میں کہاں تک حقیقت ہے کہ لوگ جعلی لائسنس حاصل کررہے ہیں کیونکہ دنیا میں تشویش پھیل گئی ہے کہ پاکستانی پائلٹ جعلی لائسنس رکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے جعلی لائسنس پر جہاز اُڑانے کو ہوا میں اڑتا میزائل قرار دیتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سمیت پی آئی اے، ایئر بلیو اور سرین ایئر لائن کے سربراہوں کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرکے جعلی ڈگری والے پائلٹوں سے متعلق وضاحت مانگی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک ملک میں بارہ فضائی حادثے ہو چکے ہیں جن میں سے 10پی آئی اے سے متعلق ہیں ملکی تاریخ میں اس سے بھی بڑھ کر ایک المیہ یہ رہا ہے کہ کسی بھی حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آئی۔ اگر ماضی میں اسے یقینی بنایا جاتا تو شاید آج یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ سپریم کورٹ نے جن خطوط پر صورتحال کا نوٹس لیا ہے۔ یقیناً اس ضمن میں مزید انکشافات سامنے آئیں گے جس سے اصل خرابی کا پتا چلتے گا، حقیقت تک پہنچنے میں مدد ملے گی اور اس کی روشنی میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد فضائی میزبانی سے متعلق دونوں اداروں میں ہونے والی متوقع اصلاحات اس بات کی متقاضی ہوں گی کہ دنیا بھر میں دونوں ادارے اپنی کھوئی ہوئی عظمت بحال کرتے ہوئے ملک و قوم کی سربلندی کاباعث بنیں گے