پالپا کا میڈیا ٹرائل?پالپا صدر چوہدری سلمان کی کراچی پریس کلب میں نیوز کانفرنس

پالپا صدر چوہدری سلمان کی کراچی پریس کلب میں نیوز کانفرنس

پالپا کا میڈیا ٹرائل کی مزمت کرتے ہیں

اس الزام تراشی کی وجہ سے بیرون ملک میں دیگر ایئرلائن میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ملازمت کو خطرہ ہے

اس سے ان کی نیک نامی کو بھی خطرہ ہے

حادثے کی تحقیقات جاری ہیں ایسے میں اس پینڈورا بکس کو کھولنے کی کیا ضرورت تھی

ہم اس سازش میں ملوث تمام لوگوں کے آف ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں

ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے

پی آئی اے کے تمام پائلٹ اس تحقیقاتی عمل کو خود سے شروع کرنے کی پیشکش کرتے ہیں

جوڈیشل کمیشن پی آئی اے اور سی اے اے کو اپنی تحویل میں لے

پائلٹ کا لائسنس ہر چھ ماہ میں تجدید ہوتی ہے

پی غاے اور سی اے اے مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے

ان دونوں اداروں کے سربراہان کو معطل کیا جائے

نایب صدر پالپا بجرانی

پائلٹس کی مسلسل تربیت اور امتحانات کے عمل سے گزرتا ہے

چھ ماہ بعد پائلٹس کو اسٹمیلیٹر پر امتحان دینا ہوتا ہے

چوہدری سلمان

سول ایوی ایشن نے کسی بھی پائلٹ کو کوئی وارننگ یا اظہار وجو کا نوٹس جاری نہیں کیا

جو فہرست پیش کی گئی ہے کیا وہ سی اے اے سے منظور شدہ ہے یا نہیں یہ بھی ایک سوال ہے

پالپا صدر

پاکستانی پائلٹس دنیا بھر میں مختلف ائیر لائن میں کام کررہے ہیں
ایسی باتیں کرکے ان کی نوکریاں خطرے میں ہڑ گئی ہیں

چوہدری سلمان

لائسنس کی ویریفیکیشن سی اے اے کا کام ہے

ان کا بہت سخت نظام ہے

لائسنس ایوی ایشن ڈویژن نہیں سی اے اے جاری کرتی ہے
پی آئی اے کے پائلٹس کی فلائنگ کی نگرانی کے لیئے فلائٹ آپریشن کا شعبہ ہے

اگر کوئی بھی پائلٹ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتا ہےتو اس کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے

کیپٹن سعیدخان۔۔

پی آئی اے میں 23 سال فلائی کیا ہے

گزشتہ برس 28 پائلٹس پر مختلف الزامات عائد کیئے گئے

وہ کورٹ چلے گئے تو کورٹ کے کہنے پر ان کے شوکاز واپس لیئے

ان کی انکوائری کے لیئے پی این ایس سی کے سر براہ کو منتخب کیا

لیکن ایک برس کی انکوائری کے بعد ان پر عائد سارے الزامات واپس لینے پڑے

نا کسی کے لائسنس معطل کرنے چاہیئے نا انہیں نوکری سے نکالنا چاہیئے

ان کا دوبارہ امتحان لینا چاہیئے

سیاسی بھرتیوں کے الزامات سے پائلٹس کیے لائسنس کا کوئی تعلق نہیں-

پالپا کے نمائندوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان پاکستانی پائلٹوں اور انجینئروں کے خلاف دنیا میں لابی بنا رہا تھا تاکہ انہیں بین الاقوامی ایئر لائن سے ہٹادیا جاسکے تاکہ وہ ہندوستانی پائلٹ اور انجینئر کو ملازمت فراہم کرسکیں۔
PALPA رہنماؤں نے اس کا انکشاف ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہری ہوا بازی کے وزیر پائلٹوں پر جھوٹے الزامات لگانے کے بعد دنیا میں پاکستان کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

پالپا رہنماؤں نے جوڈیشل کمیشن کی تقرری کا مطالبہ کیا اور پائلٹوں کے معاملات کے ساتھ سی اے اے اور پی آئی اے کے امور کی بھی چھان بین کی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پائلٹوں کو میڈیا ٹریلس کے ذریعے بدنام کیا اور پائلٹوں کے خلاف جھوٹے الزامات نے پائلٹوں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ایئر لائنز میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹ سرکاری ایکٹ کی وجہ سے بے روزگار ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پائلٹ لائسنس کی طبی جانچ پڑتال اور دیگر طریقہ کار سے کلیئرنس کے بعد ہر چھ ماہ بعد تجدید کی جاتی ہے۔
پائلٹوں کی صفائی کے لئے سی اے اے کا سخت طریقہ کار موجود ہے لیکن حکومت نے طریقہ کار کے خلاف سوالیہ نشان بنائے۔