صارفین کی تنظیم کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے بجلی دو بل لو کی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔

کراچی کے شہری بدترین لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ان دیکھے عذاب سے گزر رہے ہیں۔ کے الیکٹرک فرنس آئل کی کمی کا بہانا بنا کر 8 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کررہی ہے۔ بجلی کے صارفین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے کے الیکٹرک کو ایک مہینے کا نوٹس اگر مکمل طور پر لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ ختم نہ کی گئی تو بجلی دو، بل لوکی مہم شروع کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں گھریلو صارفین اور کمرشل صارفین اور دوسرے مرحلے میں صنعتی صارفین بجلی کے بلوں کی ادائیگی روک دیں گے۔ یہ بات کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کیپ کے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال کی طرح جب گرمی کا پارہ اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے تو کے الیکٹرک مختلف حیلے بہانے سے صارفین کی زندگی کو لوڈ شیڈنگ کرکے اجیرن بنا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ہزاروں لوگ ہسپتالوں اور گھروں پر زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ انتہائی غربت کی لکیر سے زندگی گزارنے والوں کے پاس نہ ہی UPS ہے اور نہ ہی جنریٹر ہیں چھوٹے فلیٹوں میں اور کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو ہوا کا ایک جھونکہ میسر نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے گھروں میں نہ روشن دان ہیں اور نہ ہی کوئی ایسی سہولت ہے کہ وہ قدرتی ہوا اور روشنی پر ہی اکتفا کریں۔ متوسط طبقہ اپنی محدود آمدنی میں یوپی ایس اور جنریٹر خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔ کوکب اقبال نے کہا کہ ایسے وقت میں جب کورونا کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں روکی ہوئی ہیں اور مارکیٹیں، اسکول اور دیگر ادارے بند ہیں پھر بلا جواز لوڈ شیڈنگ بلکہ بد ترین لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ 8 سے 10 گھنٹے لوڈشیڈنگ کے باوجود صارفین کے بل کم ہونے کے بجائے اضافے کے ساتھ آرہے ہیں۔ سینکڑوں صارفین اضافی بلوں کی شکایت لے کر کے الیکٹرک کے آفسوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ جہاں ان کی سنوائی ہونے کے بجائے یہ کہا جاتا ہے کہ پہلے بل جمع کرا کے آئیں پھر دیکھیں گے اس کے بعد بھی بل درست نہیں کیا جاتا۔ کوکب اقبال نے کہا کہ نیپرا نیشنل الیکٹرک پاور ریگولرٹی اتھارٹی کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھ کر نیپرا کے افسران کے الیکٹرک کے افسروں کو کنٹرول نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک کے نئے میٹروں کی شکایت عام ہے۔ کہ اس کو کے الیکٹرک کی آئی ٹی ٹیم دفتر میں بیٹھ کر آگے کرتی ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ یہ ڈیجیٹل میٹر 15 سے 20 فیصد تیز چلتے ہیں۔ کوکب اقبال نے کہا کہ کے الیکٹرک صارفین پر کوئی ایک ستم کا پہاڑ نہیں توڑ رہی ہے شام کے وقت 6 بجے سے رات 10 بجے تک پیک آورز کے نام پر صارفین سے ڈبل یونٹ ریٹ چارج کئے جارہے ہیں جو ناقابل برداشت ہیں ایسا لگتا ہے کہ کے الیکٹرک جونگ بن کر صارفین کے خون پسینے کی کمائی اضافی بلوں کی مد میں وصول کررہا ہے۔ کنزیومر ایسوسی ایشن کے چیئرمین کوکب اقبال نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کے پرائیوٹ کمپنی ہونے کے باوجود وفاقی حکومت سے سبسڈی بنا کر 26 ارب روپے وصول کررہی ہے۔ اور انتہائی ناقص کارکردگی دکھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک ویب سائیٹ پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ کے الیکٹرک سو سال سے صارفین کو بجلی فراہم کررہی ہے۔ جو محض ایک بات ہے

اسکے چیئرمین سمیت سی ای او اور دیگر افسران کا تعلق شعبہ فائنانس سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف اور صرف کمپنی کے مفاد کو پیسوں کی مد میں دیکھتے ہیں ان کی نظر نہ ہی فالٹ دور کرنے کی اور نہ ہی بجلی کی مسلسل فراہمی پر مرکوز ہے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ پچلے سال بارشوں کے موسم میں بجلی کے کھمبوں پر کرنٹ آنے کی وجہ سے سینکڑوں لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔ جس کے بعد کے الیکٹرک کو تمام کھمبوں کو ارتھ وائر کرکے چیک کرنا چاہئے تھا۔ مگر ابھی تک چند علاقے کام کے بعد یہ بڑا اہم کام بھی مکمل نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر بارشوں کے موسم میں حادثات جنم لیں گے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ صارفین کو نہ ہی عدالتوں سے انصاف ملا اور نہ ہی وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کو سدھارنے کی طرف کوئی توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے الیکٹرک کی مناپلی ہے جس کی وجہ سے وہ صارفین کے ساتھ بدترین رویہ رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے ہر ڈسٹرکٹ میں بجلی سپلائی کرنے والی مزید کمپنیاں قائم کی جائیں اس سلسلے میں چائینا کی حکومت سے بات کی جاسکتی ہے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ کے الیکٹرک کو راہ راست پر لانے کا واحد حل صرف بجلی کے بلوں کی ادائیگی روک کر ہی ممکن ہے جسکے لئے سوشل میڈیا سمیت ہر چینل پر صارفین سے اپیل کی جائے گی کہ وہ بجلی نہ ملنے کی صورت میں بلوں کی ادئیگی روک دیں۔ جب کے الیکٹرک کے خزانے میں صارفین کے بلوں کی مد میں اربوں روپے نہیں جائیں گے تو پھر کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو ہوش آئے گا انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی قسم کے احتجاج جس میں ٹائر جلانا اور املاک کو نقصان پہنچانا شامل ہیں اس سے گریز کریں صرف اور صرف گھر بیٹھے نیپرا کو زیادہ سے زیادہ شکایات درج کرائیں تاکہ نیپرا کے الیکٹرک کے خلاف ایکشن لے سکے۔ اور اس کے باوجود بھی اگر لوڈ شیڈنگ بہت زیادہ بلوں کی شکایت ختم نہیں ہوئی تو بجلی دو بل لو کی مہم کا آغاز کراچی کے ہر ڈسٹرکٹ میں کیا جائے گا۔