22 مئی کو کراچی ایرپورٹ سے چار سو میڑ کے فاصلے پے پی آی اے ایربس طیارے کے کریش میں زندہ بچ جانے والے پنجاب بنک کے پزیڈنیٹ ظفر مسعود کی ایمان کو تازہ اور خداے ذوالجلال کی ذات پے یقین کامل ہونے اور والدین کی دعا کا اثر موت کا ٹایم وقت مقام کا تعین ہونے کے بارے تین مختلف سچے واقعات!!!!!!

لوگوں نے اونچی اونچی آواز میں کلمہ پڑھنا شروع کر دیا‘ لوگ اللہ تعالیٰ کو بھی پکار رہے تھے اور گڑگڑا کر دعائیں بھی کر رہے تھے لیکن مجھ پر الٹا اثر ہوا۔

میں سکتے میں چلا گیا‘ مجھے اس وقت کوئی کلمہ‘ کوئی دعا یاد نہیں آ رہی تھی‘ میں بس چپ چاپ اپنی سیٹ پربیٹھا رہا‘ جہاز کریش ہوا‘ میری سیٹ جہاز سے نکلی اور میں سیٹ سمیت ہوا میں اچھلتا ہوا ایک گاڑی پرجا گرا‘ وہ گاڑی ایک وکیل صاحب کی تھی‘ وکیل صاحب سائیڈ پر کھڑے تھے جب کہ ان کی بیگم گاڑی کے اندر بیٹھی تھی‘ میں گاڑی کی چھت پر ٹک گیا‘ میرے پورے جسم میں درد ہو رہا تھا‘ وکیل صاحب نے میری سیٹ بیلٹ کھولی۔

مجھے گاڑی کی چھت سے نیچے اتارا اور مجھے لے کر ہسپتال کی طرف دوڑ پڑے یوں میں بچ گیا تاہم ظفر مسعود نے ایک حیران کن بات بتائی۔
ان کا کہنا تھا حادثے کے وقت میری والدہ نماز ظہر ادا کر رہی تھیں‘ یہ نماز میں تھیں جب انہیں میرے حادثے کی اطلاع دی گئی‘ میری والدہ نے یہ خبر سننے کے باوجود نماز جاری رکھی‘ یہ اس وقت تک سجدے میں پڑی رہیں جب تک انہیں یہ نہیں بتا دیا گیا اللہ تعالیٰ نے ظفر کو بچا لیا ہے‘ ظفر مسعود کی والدہ کا واقعہ اور سیٹ سمیت زندہ سلامت گاڑی کی چھت پر گرنا اور بروقت ایسے سمجھ دار شخص کا مل جانا جو انہیں سیدھا ہسپتال لے گیا۔
یہ واقعی حیران کن تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ جب کسی کو بچانا چاہتا ہے تو وہ ایسے شخص کو سیٹ سمیت جہاز سے باہر گرا دیتا ہے جسے مصیبت کے وقت کلمہ تک یاد نہیں آتا اور دوسری طرف جب یہ کسی کو بلانا چاہے تو یہ حافظ قرآن محمد شبیر جیسے متقی اور پرہیز گار شخص کو کارگو فلائیٹ کے ذریعے دوسرے ملک سے لا کر اس فلائیٹ میں بٹھا دیتا ہے جس کے نصیب میں منزل نہیں لکھی گئی تھی‘ہمارا اللہ اتنا کار ساز‘ اتنا طاقت ور ہے۔

آپ اب ایک تیسری کہانی بھی ملاحظہ کیجیے۔

میرے ایک دوست بھی اس فلائیٹ میں موجود تھے‘ نہایت شان دار انسان تھے‘ یہ جوانی میں کراچی کی ایک پارسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے‘ والد سخت اور تگڑے تھے‘ وہ نہیں مانے‘ والدین کی مرضی سے ان کی شادی ہوگئی‘ خاتون بہت پڑھی لکھی‘ ذہین اور خوب صورت تھیں لیکن ان کا نبھا نہ ہوسکا‘ طلاق ہو گئی‘ دوسری شادی ہوئی‘ وہ بھی کام یاب نہ ہو سکی‘والد کا اس دوران انتقال ہو گیا‘ بیس سال بعد ان کا اسی پارسی خاتون سے رابطہ ہوا‘ وہ آج تک ان کا انتظار کر رہی تھیں۔

یہ والدہ کے پاس گئے‘ اپنے بھائیوں اور بہنوں کو راضی کیا‘ فیملی ان کی ضد کے سامنے ہار گئی‘ یہ خوش ہو گئے‘ یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی‘ فیصلہ ہوایہ کراچی آئیں گے‘ لڑکی کی فیملی سے ملیں گے اور عید کے بعد باقاعدہ شادی ہو جائے گی‘ یہ بھی 22 مئی کو لاہور سے کراچی روانہ ہو گئے‘ وہ پارسی لڑکی جس کا انہوں نے20 سال انتظار کیا تھا وہ انہیں پک کرنے کے لیے کراچی ائیر پورٹ آگئی لیکن یہ کراچی پہنچ کر بھی اس تک نہ پہنچ سکے‘ یہ سب کی پہنچ سے نکل گئے۔

میں نے دو دن قبل اخبارات میں ان کی مغفرت کا اشتہار پڑھا‘ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
بے شک ہم سب اپنے رب کی مہلت کے محتاج ہیں‘ یہ جب سانس ڈھیلی کر دیتا ہے تو انسان گرتے ہوئے جہاز سے بھی سیٹ سمیت سلامت نکل آتا ہے اور یہ جب سانس کھینچ لیتا ہے تو پھر ہمیں اگلی سانس کی مہلت نہیں ملتی‘ ہمارے دلوں کی دھڑکنیں ہمارے دل ہی میں منجمد ہوجاتی ہیں‘یااللہ تیرا کرم ہے‘ یا اللہ تیرا رحم ہے۔۔


رمیض رزاق