راحت فتح علی خان کو آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنے کا ایک سال مکمل

سروں کے سلطان استاد راحت فتح علی خان کو آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنے کا ایک سال مکمل ہوگیا۔

26 جون 2019 کو لندن میں ایک بہت بڑی تقریب میں دنیا بھر میں قوالی کے فن کو فروغ دینے اور نمایاں خدمات انجام دینے پر عالمی شہرت یافتہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے گلوکار راحت فتح علی خان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا تھا اور آج استاد راحت کے لاکھوں مداح اس خوشی میں کیک کاٹیں گے۔

یاد رہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے استاد راحت فتح علی خان کی صوفیانہ موسیقی میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں مارچ 2019 میں اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

وہاں 25 جون 2019 کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر نے استاد راحت فتح علی کےاعزاز میں عشائیے بھی دیا تھا۔ استاد راحت فتح علی خان نے اپنی خوشگوار یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے نامور تعلیمی ادارے سے ڈگری ملنا میرے لیے اور پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے، 26 جون کا دن میرے خاندان اور مداحوں کے لیے بڑا دن تھا اور رہے گا۔

اس موقع پر انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج موسیقی سے لگاؤ نے بلندیوں تک پہنچا دیا، میں اپنی کامیابی کو اپنے خاندان اور ٹیم کے نام کرتا ہوں اور اس میں سلمان احمد کی کاوشیں بھی شامل ہیں۔

اس موقع پر راحت فتح علی خان اپنے استاد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ استاد نصرت فتح علی خان عظیم پاکستانی قوال، موسیقار اور گلوکار تھے۔ میرے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمارا خاندان چھ سو سال سے فن قوالی کی خدمت کر رہا ہے استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق و مغرب میں مقبول عام بنانے میں صرف کردی تھی۔ مجھے ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنا ان سب کی خدمات کا نتیجہ ہے آج ڈگری حاصل کیے ایک سال ہوگیا لیکن میرے لیے 26 جون ہمیشہ کے لیے یادگار ہوگیا ہے