گھر قریب آ چکا تھا

گھر قریب آ چکا تھا،
میں نے بائیک مین روڈ سے اپنی گلی کی طرف موڑ لی۔۔
لگتا تھا کہ لائٹ گئی ہوئی ہے،
کیونکہ گلی میں اندھیرا تھا اور گھروں سے جنریٹرز کے چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔
اچانک ایک نقاب پوش بائیک کے ایک دم سامنے آ گیا، میں نے گھبرا کر بریک لگائی اور اس سے قبل کہ میں کچھ سمجھ پاتا،
اس نے بائیک کے قریب آ کر پستول میری کنپٹی سے لگا دیا اور آواز کو دباتے ہوئے بولا:
موبائل نکالو۔۔۔۔
میں نے فوری طور پر نتائج کی پرواه کیے بغیر اس کو زور کا دھکا دیا،
اور وه جو بائیک سے چپکا کھڑا تھا،
اس فوری ری ایکشن کے لیے شائد تیار نہ تھا،
لڑکھڑا کر زمین پر گر گیا۔۔۔۔
میں نے اُسکو جا لیا،
اور تین چار تھپڑ کس کس کر لگائے۔۔۔۔
اسکے ہاتھ سے پستول گر چکا تھا،
میں نے اسکو قابو کیا،
اور ایک ہاتھ سے اسکا نقاب اتار دیا۔۔۔۔
اسکی شکل دیکھ کر میری حیرانگی کی انتہا نہ رہی، وه کوئی اور نہیں،
میرا اپنا نوکر تھا، جو کہ آج چھٹی پر تھا۔۔۔۔
میرے غصے کی انتہا نہ رہی، میں چیخ پڑا:
احسان فراموش، مجھے شک تیری آواز سے ہی ہو گیا تھا۔۔
تو نے جس گھر کا نمک کھایا،
وہیں نمک حرامی کی۔۔۔۔۔۔؟
ہم تجھ سے حسن سلوک سے پیش آتے تھے،
تنخواه کے علاوه بھی وقت بے وقت تیرے کام آنے کی کوشش کی،
اور تُو نے اس کا یہ صلہ دیا کہ پستول لیکر آ گیا۔۔۔۔۔۔؟
اسکی شکل رونے والی ہوگئی:
نہیں صاحب، وه پستول نقلی ہے،
آپ خود چیک کر لیجیے۔۔۔۔
میں نے غصّے سے پوچھا:
تو پھر اس حرکت کی کیا ضرورت تھی،
اگر پیسوں کی ضرورت تھی،
تو مجھ سے یا بیگم صاحبہ سے کہنا چاہیئے تھا، اب چلو سیدھے تھانے۔۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کر بے اختیار بول پڑا:
نہیں نہیں صاحب،
تھانے مت لے جائیے،
یہ حرکت میں نے بیگم صاحبہ کے کہنے پر ہی کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
میرے سر پر گویا حیرت کا آسمان گر پڑا تھا۔۔۔۔
وه رونی صورت بنا کر بولا:
جی ہاں صاحب،
بیگم صاحبہ نے بولا تھا،
گھر آ کر وہ اِس منحوس موبائل میں ہی ہر وقت گھسے رہتے ہیں،
تجھے ہر قیمت پر آج یہ موبائل چھیننا ہے،
ورنہ تیری نوکری سے چھٹی

محمد منشاء ( دبئی )