اس رات کیا ھوا؟ گلوان کی وادی میں بھارتی فوج پر کیسی قیامت ٹوٹی؟ ایک ایک لمحے کی سچی داستان سنیے…

اس رات کیا ھوا؟ گلوان کی وادی میں بھارتی فوج پر کیسی قیامت ٹوٹی؟ ایک ایک لمحے کی سچی داستان سنیے…

آپ نے بہت سی انڈین فلمیں دیکھی ھونگی. لیکن یہ داستان کسی فلمی کہانی سے زیادہ بھیانک اور دھشت ناک ہے. میں اس خونی داستان کے بارے میں آج آپ کو لفظ بہ لفظ سچی کہانی سنانا چاھتا ھوں ایک ایک لفظ غور سے پڑھیں اور خود تجزیہ کیجیے کہ یہ کیسی بے ضمیر قوم ھے اور اس کے حکمران کس قدر جھوٹے اور بزدل ہیں. یہ ایک انتہائی دلدوز مختصر داستان ھے.. پیر اور منگل کی رات جو لڑائی ھوئی وہ تو چلو ایک جنگ جیسی کیفیت تھی اور جنگ میں سب کچھ جائز ھوتا ھے لیکن اس کے بعد جو کچھ ھوا وہ انتہائی عبرتناک اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی کہانی ہے.

پہلے تھوڑا سا پس منظر جان لیجیے.

جیسے کہ آپ کے علم میں ہے کہ پچھلے دنوں چین نے بھارت کے علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں چین میں شامل کر لیا تھا. انڈین فوجیوں کو دھکیل کر ان کی اپنی ہی سرزمین سے بہت پیچھے کر دیا تھا. جبکہ مقابلے میں بھارتی فوجی بینرز اٹھا کر چینی فوجیوں کو واپس جانے کی اپیل کرتے تھے جسے چینی فوج نظرانداز کر دیتی تھی. سفارتی سطح پر بھی کوشش کی گئی لیکن چین ٹس سے مس نہ ھوا. آخر میں چھ جون کو ایک اعلی فوجی سطح کی فلیگ میٹنگ رکھی گئی جس پر انڈیا کو بہت امید تھی کہ بھارتی فوجی افسران اس میٹنگ کے دوران منت ترکہ یا دھونس دھمکی سے چین سے کچھ علاقے چھڑا لیں گے تاکہ مودی کی جو مٹی پلید ھو رہی تھی اس میں کچھ کمی ھو کیوں کہ بھارتی عوام سے مزید جھوٹ بولنا مشکل ھو رہا تھا…

چھ جون کو ھونے والی کورکمانڈرز میٹنگ چین نے جان بوجھ کر اس جگہ پر رکھی جو زمین بھارت سے چھینی تھی. بھارت کی طرف سے لیفٹیننٹ جنرل اس میٹنگ میں گیا تھا جبکہ چین نے اس جونیئر جرنیل کو یعنی اپنے میجر جنرل کو میٹنگ میں بھیجا تھا. سات آٹھ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں چینی فوج نے ایک انچ بھی جگہ نہ چھوڑنے کا ارادہ ظاھر کر دیا. بھارتی جرنیل ھزاروں نقشے لیکر گیا تھا اور چینی افسر کو سمجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ جناب یہ ھمارا علاقہ ہے اسے ھمیں واپس کر دیجیے. لیکن چینی افسر نے ایک بھی نہ سنی اور یوں یہ میٹنگ بنا کسی نتیجے کے ختم ہو گئی. البتہ ایک بات پر دونوں طرف سے اتفاق ھو گیا کہ دو فوجیں اس نئے بارڈر سے ایک ایک کلومیٹر پیچھے چلی جائیں گی البتہ جو علاقے چین نے بھارت سے چھین لیے ہیں وہ واپس نہیں کیے جائیں گے چینی افسر نے اتفاق کر لیا کیونکہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا تھا جبکہ مودی حکومت، چینی فوج کے اس ایک کلومیٹر پیچھے ھٹنے کی کامیابی کو بھی کیش کروانا چاھتا تھا. چنانچہ جب دو روز بعد جب چینی فوج نے سامان اٹھا کر اور کیمپ اکھاڑ کر ایک کلومیٹر پیچھے ھٹنا شروع کیا تو پورے بھارتی چینلز پر جیسے طوفان آ گیا اور اسے انڈیا کی عظیم کامیابی سمجھا گیا کہ چینی فوج آھستہ آھستہ پیچھے جانے لگی ہے اب چین ھماری چھینی ہوئی جگہ بھی واپس کر دے گا. یہ وقتی سا سیاسی موقع مودی سرکار نے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے خوب استعمال کیا… موجودہ واقعہ سے دو دن پہلے دہلی میں ایک بڑا اجلاس رکھا گیا جس مودی کے علاوہ تمام افواج کے سربراہ شامل تھے. فیصلہ کیا گیا کہ چین کچھ نرم پڑا ہے تھوڑا پیچھے بھی ھٹ گیا ہے کیوں نا چین کی طرح ھم بھی کریں اور ایک کلومیٹر جس سے چین پیچھے چلا گیا ہے وہی واپس لینے کی کوشش کریں. کیونکہ اطلاعات مل رہی تھیں کہ اس جگہ پر صرف ایک چینی ٹینٹ ھے جو صرف نگرانی کے لیے چینی فوج نے لگا رکھا تھا جبکہ باقی ساری فوج ایک کلومیٹر پچھے چلی گئی تھی… اس خیمے میں دس پندرہ چینی فوجی تھے..
.
بھارت نے منصوبہ بنایا کہ ایک کرنل کی سربراہی میں دو تین سو کمانڈوز کو بھیجا جائے گا. وہ اس ٹینٹ کو اکھاڑ پھینکیں گے اگر مٹھی بھر چینی فوجیوں نے مزاحمت کی تو ان کی ٹھکائی بھی کر دی جائے گی. اس ساری کارروائی کی ویڈیو بھی بنا لی جائے گی تاکہ اپوزیشن کا منہ بند کیا جا سکے. عوام کو بھی وہ ویڈیو دکھا کر مورال بلند کیا جائے گا ھوسکا تو اس سین کو کسی بھارتی فلم میں بھی ڈال دیا جائے گا.. گلوان وادی کے پاس جہاں چینی فوج کا ایک ٹینٹ لگا ھوا تھا پہلے یہ علاقہ بھارت کے پاس تھا یہ دریائے گلوان کے کنارے پر واقع ھے اسے بھارتی فوج پیٹرول فورٹین 14 کہتی تھی. سوچا یہ گیا تھا کہ پیٹرول فورٹین تک قبضے کے بعد ھم چینلز پر شور مچا دیں گے کہ بھارتی فوج نے چینی فوج کو بدترین شکست دے کر اپنی زمین چھڑا لی. یہ نہیں بتانا تھا کہ کتنی زمین چھڑائی.. بس چھڑا لی چھڑا لی کا راگ الاپنا تھا.. چینی فوج کا یہ ایک ٹینٹ اکھاڑنے کا ٹاسک کمانڈر آفیسر کرنل سنتوش بابو کو دیا گیا. سنتوش بابو دو سو سے زائد فوجیوں کو لیکر پیٹرول 14 پہنچا. وہ اور اس کے فوجی ڈنڈوں سے مسلح تھے جبکہ چینی فوجی جو اس وقت منفی 2 سینٹی گریڈ کی سردی میں اپنے ٹینٹ سو رہے تھے وہ بالکل غیر مسلح تھے.

یہاں ایک بات زھن میں رھے کہ ایک تو یہاں دونوں ممالک نے قانون بنایا ھوا ھے کہ اسلحہ کبھی استعمال نہیں کریں گے اور دوسرا ایک دوسرے کے علاقے میں داخل ھوتے وقت سفید جھنڈا لہرا کر جانا پڑے گا. اب بھارتی فوجی تو اپنا علاقہ واپس لینے گئے اور وہ بھی جنگ کے ذریعے… چنانچہ کرنل خود تو پیچھے رہا لیکن پچاس ساٹھ فوجیوں کو ڈنڈوں وغیرہ سے مسلح کرکے بھیج دیا. ان فوجیوں نے حملہ کرکے چینی فوجیوں کو مارا پیٹا اور ٹینٹ سے نکل کر اس ٹینٹ کو آگ لگا دی. چینی فوجی اس جگہ سے تھوڑا پیچھے چلے گئے جبکہ بھارتی فوجی وہیں پر کامیابی کا جشن منانے لگے. یہ ان کی غلطی تھی. انہوں نے بھڑوں کو چھیڑ دیا تھا اب ان کو وہاں سے یا تو بھاگ جانا چاہئے تھا یا پھر مزید بھاری تعداد میں فوج منگوا کر قبضہ پکا کر لینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ جو پیچھے کرنل کے ساتھ رہ گئے تھے وہ بھی فتح کا جشن منانے پیٹرول 14 کے مقام پر پہنچ گئے.. اب وہاں دو سو سے زائد بھارتی فوجی جشن منا رہے تھے. بھارت میں مودی کو بتا دیا گیا تھا کہ فوج نے زبردست کامیابی حاصل کر لی ہے.

دوسری طرف وہ پندرہ بیس چینی فوجی جو مار کھا کے چلے گئے تھے انہوں نے اپنی کمانڈ کو اطلاع کر دی کہ ان کے ساتھ بھارتی فوج نے کیا کیا ہے.. رات آدھی ھو چکی تھی لیکن چینی کمانڈ نے صبح کا انتظار کرنے کی بجائے اسی وقت حساب برابر کرنے کا فیصلہ کیا اور یہی فیصلہ بعد میں بھارتی فوج کے لیے ایک عبرتناک مثال بن گیا. ڈراؤنا خواب بن گیا. چینی کمانڈ نے ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک چھترول دستہ تیار کر رکھا ھے. یہ چینی فوجیوں کا وہ دستہ ھے جسے آپ چنگیز خان کا لشکر کہہ سکتے ہیں.. یہ لوگ تقریباً ایک ھزار کی تعداد میں ہیں یہ مارشل آرٹس کے ماھر اور انتہائی خونخوار ہیں ان کو گن کی بجائے باقی ھر قسم کے ھتھیاروں کی خاص طور پر تربیت دی گئی ھے… ان کے ھتھیار لوھے کے راڈ لکڑی کے ایسے ڈنڈے جن پر کیل اور کانٹے دار تاریں لپیٹی گئی ہیں.. فوری طور پر اس دستے کو بھارتی دستے کے بندوبست کے لیے بھیج دیا گیا.. چنگیزی لشکر نے رات کے اندھیرے میں خاموشی سے اس جگہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تاکہ ایک بھی بھاگنے نہ پائے… بھارتی میڈیا بھی مانتا ھے اور عینی شاہدین بھی جو بھارتی فوجی بچ گئے وہ بتاتے ہیں کہ یہ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ ھو کیا رہا ھے..یہ خونی داستان چینی فوجیوں نے آٹھ گھنٹے تک مسلسل لکھی… پھر جو کچھ ھوا اس کی تفصیل کا اندازہ خود لگا لیجیے. چینی چنگیزی لشکر ان تین سو کے قریب فوجیوں پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑا.. اس دوران پچاس ساٹھ بھارتی فوجیوں نے خوف کے مارے دریائے گلوان کے برفیلے پانی میں چھلانگیں ماریں لیکن وہ ٹھٹھر کر مر گئے کچھ نے کھائیوں میں کود کر جان بچانے کی کوشش کی لیکن وہ نوکیلی چٹانوں پر گر کر قیمہ بن گئے جبکہ سو بھارتی فوجیوں کو ایسا گھیرے میں لے لیا گیا کہ ان کو بھاگ کر جان بچانے کا راستہ ہی نہیں ملا. وہ سب زخمی حالت میں بیس گھنٹے تک اسی جگہ ٹھٹھر ٹھٹھر کر مرتے رہے لیکن سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بھارتی فوج نے ان کو بچانے کی کوشش نہیں کی. چینی فوجی اپنا کام کر کے اور نئے ٹینٹ لگا کر بھاری تعداد میں پھر بیٹھ گئے جبکہ چنگیزی لشکر واپس چلا گیا.. بھارتی کرنل اور کافی فوجی تو لڑائی کے شروع میں ہی مر گئے تھے جبکہ باقی فوجی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے تھے لیکن کوئی ان کو طبی امداد دینے والا نہیں تھا جبکہ چینی فوجی بار بار بھارتی فوج کو پیغام بھیج رہے تھے کہ اپنے زخمی فوجی اور لاشیں لے جاؤ. اس پر بھارت میں انکوائری شروع کر دی گئی ہے کہ اگر بروقت امداد دی جاتی تو بڑی تعداد میں فوجیوں کو بچایا جا سکتا تھا.. تعداد بہت زیادہ تھی ورنہ یہ واقعہ چھپا لیا جاتا. پہلے پہل تین فوجیوں کی ھلاکت تسلیم کی گئی پھر بیس اور اب 47 کی ھلاکت تسلیم کر لی گئی ہے اور باقی لاپتہ ہیں. اس سارے معاملے میں چین بالکل خاموش ھے. ایک لفظ بھی نہیں بولا. انڈین ایک جانب تو یہ کہتے ہیں کہ ھم نے بھی چین کے 43 فوجی مار دیے تھے اور ایک طرف اپنے مرنے والوں کا ماتم بھی کیے جا رہا ہے اور بدلہ لینے کی باتیں کی جا رہی ہیں. بھئی اگر تم لوگوں نے اپنے 20 فوجیوں کے مقابلے میں چین کے 43 فوجی مار دیے ہیں تو پھر اب کس چیز کا بدلہ لینا ھے؟ بدلہ تو چین کو لینا چاہیے جن کے تم نے 43 مار دیے جبکہ وہ خاموش ہیں اور تمہارے آنسو نہیں تھم رھے…

اصل کہانی اور ھے. زمین بھی گئی. دو سو سے زائد فوجی بھی گئے اور ملا بھی کچھ نہیں. نہ ہی چین کا ایک بھی فوجی زخمی ھوا ھے… جبکہ اپوزیشن اور عوام نے مودی کو ذلیل کر کے رکھ دیا ہے کہ بے غیرت شخص تم تو بھارت کو بڑا بنانے لگے تھے سپرپاور بننا چاھتے تھے جبکہ چین نیپال اور پاکستان تم سے زمین بھی چھین رہے ہیں مار مار کر باندر بھی بنا رہے ہیں تم کر کیا رھے ھو؟

مودی چپ ھے… امریکہ کہتا ھے خود جنگ کرو اور چین کو شکست دو جبکہ چین کے چنگیزی لشکر سے لڑنا مودی کے بس کی بات نہیں ہے… مودی نے پوری قوم کو جواب میں دو منٹ آنکھیں بند کرکے کھڑے ھونے کا حل بتایا ھے

—–
بشارت علی طاہر