وفاقی حکومت کو مارو گولی پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ کے کسانوں کو بچانے کیلئے ایک چهوٹا جہاز نہیں خرید سکتی – فردوس شمیم نقوی

سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہاہے وفاقی حکومت کو مارو گولی پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ کے کسانوں کو بچانے کیلئے ایک چهوٹا جہاز نہیں خرید سکتی انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی کو دو بس منصوبے دیے پیپلزپارٹی بارہ سال میں ایک منصوبہ نہ دے سکی . پیپلزپارٹی عمران خان کو جو مرضی کہے الیکٹیڈ سلیکٹیڈ کا چکر بند کرو عمران خان کو اللہ نے پاکستان کے لئے بطور وزیر اعظم سیلیکٹ کیا ہے وہ سندھ اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال کررہے تھے . اپوزیشن لیڈرفردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ ہم نے حق اورباطل کو دیکھنا ہے اور اسمبلی میں یہ ہی بولنا ہے سچ بولوں گا سچ کے سوا کچھ نہیں کیا،ایم کیو ایم ہمارے اتحادی ہے مگر یہ وہ ایم کیو ایم نہیں جو ہمارے ساتھ ہے،اس شہر سے آپ کے بل بوتے پر کیا کیا نہیں لوٹا گیا نفرتوں کی سیاست تھی،پہلے لوگ روٹھتے تھے تو اسے منانے جایا جاتا تھا ،پنجابی چنیوٹ چلے گئے پاکستانی صنعتکار بنگلادیش چلے گئے،کراچی سے دشمنی پرانی ہے بلڈر دبئی چلے گئے اس صوبے سے کتنا پیسا گیا اور کہاں کہیں گیافخر ہے میں حسینیت پر یقین رکھتا ہوں اور اسی پر جان دیتے ہیں،یہ کیا معیار ہے جب تک کوئی آپ کے ساتھ رہے تو اچھا کسی اور کے پاس جائے توبرا بن جاتا ہے کہتے رہو الیکٹڈ سلیکٹڈ کہتے رہیں مگر میں کہتا ہوں عمران خان کو اللہ نے سلیکٹ کیا،بھٹو نے پاکستان کو ایٹم بم دیا ہم مانتے ہیں،مگر یہ بتایا جائے کہ آپ کو شہید بی بی کی شہادت میں جتنے ووٹ ملے اس سے زیادہ اب کیسے ملے،آپ شہید بی بی کے اصولوں کی بات کرتے ہیں مگر آپ اسے تو مانوآپ نے پی اے سی اور اسٹنڈنگ کمیٹی کے معاملات ت مانو ی جمھوریت ہے،مثالین دی جاتی ہیں اس جمھوریت کی واہ کیسی جھوریت چلائی جارہی ہے،پبلک اکاونٹس کمیٹی کی آڈٹ رپورٹس دو سال سے آواز اٹھارہے ہیں ہمیں نہیں دی جاتیںشاید اس کے لیے بھی کہیں سے آرڈر آتے ہیں ان کو شرم نہیں آتی ،اب انٹرنیٹ پر بھی وہ رپورٹ نہیں جاری کی جاتی،سیکریٹری جو ملازم۔حکومت پاکستان کے ہیں مگر کامکسی اور کام کرتے ہیں،یہ نیب بھی ایک ڈکوسلہ ہے،انہوں نے کہا کہ آپ نے فیصلے بہت اچھے کیے۔ان کا زمین پر اثر نہیں ہوا۔لاک ڈاو ¿ن لگایا اچھی بات ہے۔ اس پر عمل نہیں ہوا۔ان کے علماءکے ساتھ بھی تعلقات خراب ہوئے۔یوم علی کا جلوس جس طرح نکلا وہ درست نہیں۔جلوس ضرور نکلنا چاہیے تھا۔لوگوں نے بھوک کے خلاف سڑکوں پر جلوس نکالا۔جو حق پر ہوتا ہے وہ حق پر ہوتا ہے۔اٹھارویں ترمیم کے کارنامہ پر میں رضا ربانی کو بھٹو ثانی بھی کہ دیتا ہوں۔پاکستان پاکستان ہے۔اس کے ہر خطہ کا قانون کا الگ نہیں ہے۔اٹھارویں ترمیم کے خلاف نہیں ہیں۔بھٹو مسٹر برائٹ بھی تھا اور رائٹ بھی تھا کیا وہ غلط تھے جنہوں نے آئین میں گورنر راج رکھا۔ کیا گورنر راج کا مطالبہ غیر آئینی ہے،اگر میں غلط ہوں تو میری ممبر شپ کینسل کردیں۔کیا لوگوں کا حق نہیں ہے ،پی ایف سی کیوں نہیں دیتے ہیں۔بھٹو کے دور میں کراچی میں دو بس سروس دی۔انہوں نے کہا کہ میں کسی کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا ہوں۔مجھ جس کونے میں کھڑے ہونے کو تقریر کرنے کو تیار ہوں۔میں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ لاک ڈاو ¿ن درست ہے۔وفاق کو الزام نہ دیں۔ 26 فروری سے پہلے پوری کمیٹی بن گئی تھی۔چار ماہ سے اس قوم کو طعنہ دیا جاتا ہے۔آپ کی سیاست میں صرف شکایت ہے۔سندھ حکومت 1.2 ٹریلین ک بجٹ لے کر بیٹھی تھی۔ٹیسٹنگ کٹ وہ نہیں دی گئی۔ان کو مطالبہ وہ کرنا چاہیے جو قابل ہو۔وفاقی حکومت کو مارو گولی۔آپ نے کسانوں کو بچانے کے لیے کیا کیا ہے۔سندھ حکومت ایک جہاز بھی نہیں خرید سکی۔بعدازاں اسپیکر نےسندھ اسمبلی کااجلاس جمعہ کو دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔