……………………………….بھارت ہوش کے ناخن لے

بھارت نے جموں و کشمیر میں جاری ریاستی دہشتگردی اور وہاں اپنی قابض فوج کے ذریعے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے توجہ ہٹانے کی جو ایک بھونڈی کوشش کی ہے اس کے تحت جاسوس اور دہشتگرد تنظیموں سے روابط کے بےبنیاد الزامات لگا کر نئی دہلی میں پاکستانی سفارتی عملے کو کئی روز ہراساں کرنے کے بعد اس کی تعداد میں پچاس فیصد کمی کرتے ہوئے سات روز میں ملک چھوڑنے کاحکم دیا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی الزامات کو یکسر مسترد کیا ہے۔ اس ضمن میں ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ بھارت میں پاکستانی سفارت خانے کے عملے نے ہمیشہ عالمی قوانین اور سفارتی آداب کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیے ہیں لیکن بھارت نے تمام سفارتی قواعد و ضوابط بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشن کے ناظم الامور کو طلب کرکے بےدخلی کا مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ بھارتی دفتر خارجہ نے اس موقع پر اسلام آباد میں اپنے سفارتی عملے کی کار سے راہگیر کو ٹکر مار کر فرار ہونے کی کوشش کرنے والے ان افراد کا دفاع کرتے ہوئے انہیں گن پوائنٹ پر اغوا کرکے ناروا سلوک اور ہراساں کرنے کا الزام بھی لگایا حالانکہ یہ دونوں اہلکار پیر کی صبح واہگہ کے راستے بھارت روانہ ہو گئے تھے۔ دراصل اس ساری صورتحال کے پیچھے مودی حکومت کی وہ بوکھلاہٹ کارفرما ہے جس کا اسے مسلمانوں کے خلاف متنازعہ بل لانے میں بنگلہ دیش کی ناراضی کے بعد نیپال اور چین کے ساتھ گزشتہ دو ماہ کے عرصہ میں ان کی سرحدی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں پیش آنے والی ناکامی اور بدنامی کی صورت میں سامنا کرنا پڑا، اب وہ اپنی خفت مٹانے کے لئے نت نئے ڈرامے رچا رہی ہے۔ دوسری طرف مودی حکومت کو اِن دنوں اس ساری صورتحال کے تناظر میں اندرونی طور پر مخالف سیاسی جماعتوں کی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ اس کا ماضی کے حکمرانوں کی طرح یہ وطیرہ رہا ہے کہ اندرونی خلفشار و انتشار سے بچنے کے لئے مظلوم کشمیریوں اور پاکستان پر نئے الزامات لگا کر جنتا کی توجہ ان کے مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی جائے۔ کورونا سے نمٹنے کی ناکامی کا سارا ملبہ مسلمانوں پر ڈالنے، نیپال اور چین سے حزیمت کا سامنا کرنے کے بعد سردست اس نے پاکستانی سفارت کاروں کو سفارتی آداب کی نفی کرتے ہوئے تختہ مشن بنانے کی کوشش کی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے یہ الفاظ ملک وقوم کی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں کہ پاکستانی ہائی کمیشن کا عملہ واپس آئے گا تو بھارت کا عملہ بھی واپس جائے گا، بھارت جیسا کرے گا ویسا ہی جواب دیا جائے گا۔ پاکستانی عملے پر الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور ان پر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ بھارت فالس فلیگ آپریشن کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ اس کا مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ سلوک دنیا دیکھ رہی ہے خود بھارتی عوام ہندو توا سوچ سے نالاں ہیں جبکہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی بات کی ہے اس نے بارہا بھارتی حکمرانوں کو یہ باور کرایا کہ دونوں ملکوں کی فلاح و ترقی کا راستہ باہمی مذاکرات اور مسائل کاحل نکالنے سے وابستہ ہے۔ اس ضمن میں ماضی میں دونوں ممالک کئی مواقع پر مذاکرات کی میز پر بھی آئے لیکن ہر بار نئی دہلی کے حکمران کسی نہ کسی بہانے انہیں معطل کرتے رہے۔ عمران خان نے بھی اپنا وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اس شرط پر پیشکش کی کہ بھارت اسے پاکستان کی کمزوری نہ سمجھتے ہوئے باہمی مسائل کے حل کے لئے بات چیت کی طرف آئے اور کشیدگی کو انتہائی سطح پر جانے سے روکنے کی تدابیر کی جائیں۔ پاکستان کی یہ پیشکش آج بھی برقرار ہے، مودی حکومت کو جنگی جنون سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے عوام کی خوشحالی کے بارے میں سوچنا چاہئے۔

Courtesy jang urdu column