اعلیٰ ‎بیوروکریسی میں رسہ کشی

رانا اقبال حسن
——–


باوثوق ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی دو واضح متحارب دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک کی قیادت وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن شہزاد ارباب اور دوسرے گروپ کے سرخیل وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کرنے والے فواد حسن فواد نے اپنا سارا وزن شہزاد ارباب گروپ کے پلڑے میں ڈال دیا۔ شہزاد ارباب اور اعظم خان کے درمیان کئی ہفتوں سے بول چال بھی بند ہوچکی ہے۔

اہم عہدوں پر تعینات آٹھ بیوروکریٹس نے اعظم خان کی من پسند سمریاں بنانے سے انکار کر کے پہلے ہی اپنی حمایت شہزاد ارباب گروپ کے پلڑے میں ڈال دی ہے۔ ماضی قریب میں اعظم خان اور شہزاد ارباب کے درمیان بہترین تعلقات رہ چکے ہیں اور دونوں کے خلاف نیب کا مالم جبہ کیس انہیں ایک پیج پر کیے ہوئے تھا لیکن شوگر سکینڈل میں اعظم خان نے جہانگیر ترین کے ساتھ ساتھ شہزاد ارباب کو بھی وزیراعظم آفس سے فارغ کروا دیا تھا مگر شہزاد ارباب چند روز بعد بے گناہی ثابت کرکے وزیراعظم کے مزید قریب ہوگئے تھے اور اعظم خان سے اتنی ہی دوری اختیار کرلی۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیر جو کہ فواد حسن فواد کے ہونہار شاگردوں میں سے ایک ہیں اس وقت شہزاد ارباب کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں اس لئے سیکرٹری اعجاز منیر ایک طرف شہزاد ارباب سے مشاورت کرتے ہیں تو دوسری طرف فواد حسن فواد سے راہنمائی لیتے ہیں۔ اعجاز منیر مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سیکرٹری صحت اور سیکرٹری سروسز بھی رہ چکے ہیں۔ مزید براں اس گروپ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ساتھ ہوم سیکرٹری کے طور پر کام کرنے والے سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان بھی شامل ہیں جو کچھ دن پہلے تک پنجاب کی ہسٹری کے طاقتور ترین چیف سیکریٹری تھے۔

میجر اعظم سلیمان جو شہباز شریف کے دور میں پنجاب میں اہم ترین عہدوں پر متمکن رہے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وقت وہ ہوم سیکریٹری پنجاب تھے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ روک کر انہوں نے شریف برادران کو اس بحران سے نکالنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پنجاب میں جانے سے پہلے انہوں نے عمران خان سے مکمل اختیارات طلب کیے اور اس کے بدلے پنجاب میں گورنس کے حوالے سے انقلابی تبدیلی لانے کا لالی پاپ دیا۔ پنجاب میں جاتے ہی پہلے تو انہوں نے عثمان بزدار کو عضو معطل بنایا اور پھر چن چن کر ایسے افسر ز کو اہم سیٹوں سے نکالا گیا جو عثمان بزدار کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھتے تھے یا خوامخواہ پی ٹی آئی کے ہمدرد بنے بیٹھے تھے۔

ان کی جگہ اپنی شہباز شریف والی پرانی ٹیم لے آئے۔ شہباز شریف کے قریب رہا کوئی ایسا افسر نہیں بچا جس کو کوئی اچھی پوسٹ نہ دی گئی ہو۔ گورنس کے حوالے سے یہ بدترین دور ثابت ہوا اسی دور میں پی آئی سی پر حملہ ہوا آٹے اور چینی کے بحران آئے۔ کرونا کے حوالے سے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آئی۔ اسی دور میں تبلیغی جماعت نے ایک انٹرنیشنل اجتماع رائے ونڈ میں کیا جہاں سے کرونا کا پھیلاؤ شروع ہوا۔ پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کا چیف سیکریٹری سے ملاقات کرنا بھی ممکن نہ رہا۔

جس وجہ سے کئی پی ٹی آئی ممبران نے باغی گروپ بنا لیا۔ موصوف کو اس وقت فوری طور پر چارج چھوڑنے کا حکم ملا جب لاک ڈاؤن کے حوالے سے انہوں نے وفاق کے بعض احکامات کو بھی نظر انداز کیا۔ اس گروپ نے مزید طاقت اس وقت پکڑی جب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیر نے میاں شہباز شریف کے پسندیدہ بیوروکریٹ ڈاکٹر ارشد کو ایڈیشنل سیکرٹری فنانس کے عہدے پر لا بٹھایاہے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے بڑی مہارت سے رکاوٹیں دور کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو ایک طرف پی ٹی آئی کے با اثر اور طاقتور رہنماؤں کی ناراضی کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سالہا سال تک کام کرنے والے بیوروکریٹس نے اب ان کا مکمل محاصرہ کیا ہوا ہے اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے لئے آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ بیوروکریسی کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے خلاف اصل اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نہیں بلکہ فواد حسن فواد کا شاطر دماغ اور اعظم خان کی اختیارات حاصل کرنے کی بھوک ہے۔

اعظم خان میڈیا میں موجود اپنے دوستوں کے ذریعے اگرچہ یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بیوروکریسی پر اب ان کی پہلے سے زیادہ گرفت ہے حالانکہ شہزاد ارباب کی ناراضگی اور آٹھ بیوروکریٹس کی اعظم خان کے ساتھ کام نہ کرنے کی خواہش نے ان کی بیوروکریسی پر گرفت کو واضح طور پر ڈھیلا کر دیا ہے اور ان کی گرفت اتنی ہی ہے جتنی کہ مٹھی میں ریت پر ہوتی ہے۔ دوسری طرف خان صاحب کی جولانی طبعیت ہے وہ کسی کو سائڈ لائن کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاتے۔

جہانگیر ترین کی مثال سامنے ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ خان صاحب کے بہت قریب رہنا بھی آپ کو ہر وقت خطرے میں رکھتا ہے کہ کب کوئی آپ کے خلاف ان کے کان میں کوئی بات ڈال دے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں یا خان صاحب سے اگر تھوڑا دور رہے تو بھی آپ کو وہ ایسے بھلائیں گے جیسے کبھی آشنا بھی نہ تھے۔ خان صاحب کا ایک المیہ یہ ہے کہ کئی کامیاب لیڈروں کے برعکس ان کے پاس انسان کی صحیح پہچان کرنے والی مہارت نہیں ہے۔ اس لیے ان کے ارد گرد کئی چالاک قسم کے لوگ گھیرا ڈالے ہوئے ہیں جنہوں نے عمران خان کو تبدیلی کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ وہ نہ تو اپنی اس طرح کی سیاسی ٹیم بنا سکے ہیں نہ افسران کی ٹیم بن پائی ہے۔ ویسے سیاست اور حکومت کرکٹ کا کھیل نہیں ہے اوربدقسمتی سے خان صاحب کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی ہے۔