3 دہائیوں تک فلم بینوں کے دلوں پر راج کرنے والے سلطان راہی کا 82واں یوم پیدائش

سات سو سے زائد فلموں میں کام کیا، تین دہائیوں تک فلم بینوں کے دلوں پر راج کیا، پاکستان فلم انڈسٹری کے ’سلطان‘، سلطان راہی کا 82 واں یومِ پیدائش آج منایا جارہا ہے۔

پاکستانی فلمی دنیا پر راج کرنے والے نامور پاکستانی اداکار سلطان راہی آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دِلوں میں زندہ ہیں۔

پنجابی فلموں کے بے تاج بادشاہ اداکار سلطان راہی نے 1938 میں بھارتی شہر سہارن پور میں آنکھ کھولی اور تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہوگئے۔

سلطان راہی نے 1971ء میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا، اس دوران پنجابی فلم بشیرا کی کامیابی نے انہیں سپر اسٹار بنا دیا۔

سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی فلم کی کامیابی کی ضمانت بنی اور ان کی فلم مولا جٹ نے باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔

سلطان راہی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 12 اگست 1981ء کو ان کی پانچ فلمیں شیر خان، ظلم دا بدلہ، اتھرا پتر، چن وریام اور سالا صاحب ایک ہی روز ریلیز ہوئی تھیں جنہوں نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے۔

700 سے زائد اُردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کے جوہر دِکھانے پر سلطان راہی کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا، اُنہیں ایک سو پچاس سے زائد فلمی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

سلطان راہی اور انجمن کی جوڑی نے فلم بینوں کے دل موہ لیے تھے، ایکشن ہیرو کی دیگر مقبول ترین فلمی ہیروئن میں آسیہ، صائمہ، گوری، نیلی، بابرہ شریف قابل ذکر ہیں۔ فن کے سلطان کو 9 جنوری 1996ء کو گوجرانوالہ کے قریب نامعلوم ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

وفات کے وقت بھی سلطان راہی کی 54 فلمیں زیرِ تکمیل تھیں جو ایک ورلڈ ریکارڈ ہے