ایوان کا ماحول جان بوجھ کر خراب کرنے کی کو شش کررہے – پیپلزپارٹی خواتین ارکان

پیپلزپارٹی کی خواتین ارکان ہیر اسماعیل سوہو ،کلثوم چانڈیو شمیم ممتاز ،سعدیہ جاوید ، ندا کھوڑواورشاہینہ شیر نے سندھ اسمبلی کے ایوان میں جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی اور اپوزیشن کے دیگر ارکان کے رویہ پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایوان کا ماحول جان بوجھ کر خراب کرنے کی کو شش کررہے ہیں۔بدھ کوسندھ اسمبلی میڈیا کارنرپر بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں کچھ اپوزیشن ارکان کا رویہ سب کے سامنے ہے ۔ ہیر سو نے کہا کہ ہم نے کسی کو جواب نہیں دیا نہ ہی کوئی ذاتی حملہ کیا اس کے باوجود وہاں بیہودہ زبان استعمال کی گئی۔جب مائیک نہ ہو تو جملے کسے جاتے ہیں۔بجٹ تقاریرکے دوران قیادت کے خلاف بینرزآویزاں کئے گئے ۔جب ہم بات کریں تو ایک خاتون رکن کھڑی ہوجاتی ہیں ذاتی حملے کرتی ہیں۔جی ڈی اے قیادت اپنی خاتون رکن کوسنبھالے۔انہوں نے کہا کہ وفاق پر تنقید کرنا ہمارا جمہوری حق ہے اس کے استعمال سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔مجھے کہا گیا ایک ہاتھ میں الطاف ایک ہاتھ میں بلاول ہے ۔کلثوم چانڈیو نے کہا کہ ہم بارہ سال سے اس خاتون رکن کو برداشت کررہے ہیں۔میں نے ان کا نام نہیں لیا تو پھر مجھ پر جملے کیوں کسے گئے۔ ہماری قیادت پر کوئی جملے کسے گا تو جواب دیا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ مداخلت کرکے میری پوری تقریر خراب کردی ۔ڈپٹی اسپیکر کی بھی نہیں سنی گئی ۔یہ عورت ہوکرمردوں پر ہوٹنگ کرتی ہیں۔شمیم ممتازنے کہا کہ کل جس طرح دن کا آغاز ہواوہ دعاسے ہی شروع ہوگئی تھی شاید قیادت سے ہدایت ملی تھی ۔نداکھوڑو نے کہا کہ مجھے ایوان میں آئے دوسال ہوئے ہیں۔کچھ خواتین اراکین کا رویہ دیکھ کرافسوس ہوا۔ہماری طرف سے کوئی بھی تقریر کرے تو اپوزیشن رکن کا رویہ افسوسناک ہے ۔وہ تواسپیکرکا بھی احترام نہیں کرتی ۔ذاتی حملے کا ان کو حق نہیںہے۔