کے الیکٹرک نے صارفین پر 2ارب 26 کروڑ روپے سے زاید کا بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی ‘مرزا عالم بیگ

شدید گرمی میں بھی کے الیکٹرک کو عوام پر رحم نہیں آرہا‘وفاقی و صوبائی حکومت کے الیکٹرک کے سامنے بے بس نظر آرہی ہیں
اووربلنگ و جعلی فیول ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے عوام کو لوٹا جا رہا ہے‘ادارے کا لائسنس منسوخ کیا جائے‘معروف سماجی ر ہنماء
کراچی (اسٹاف ر پورٹر)معروف سماجی ر ہنماءمرزا عالم بیگ نے شدید گرمی اور بعض علاقوں میں لاک ڈاﺅن کے باوجود کے الیکٹرک کی جانب سے مسلسل اور طویل لوڈشیڈنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نیپرا کے الیکٹرک کی بد ترین کارکردگی کا نوٹس لے اورجرمانہ عاید کر کے اس کا لائسنس منسوخ کردے۔اووربلنگ اور جعلی فیول ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے شہریوں کو لوٹا جا رہا ہے ‘خواتین ، بچوںو بزرگوں اور لاک ڈاﺅن کے باعث گھروں میں محدود اور آئسولیٹ ہونے والوں کے لیے گھروں میں رہنا دشوار ہو گیا ہے۔ موجودہ کورونا وبائی صورتحال کے دوران آن لائن تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کوبھی شدید دشواری کا سامنا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کے الیکٹرک کے سامنے مسلسل بے بس نظر آرہی ہیں ۔ ہیٹ ویو اور ہیٹ اسٹروک کی مانند بدترین گرمی کی لہر میں بھی کے الیکٹرک کو عوام پر رحم نہیں آرہا‘کے الیکٹرک نے اپنے صارفین پر 2ارب 26 کروڑ روپے سے زاید کا بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی ہے۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہی ۔مرزا عالم بیگ نے کہا کہ کے الیکٹرک کا ادارہ کراچی کے شہری و دیہی علاقوں میں جاری لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو نہ صرف ختم کرے بلکہ ایسا مربوط نظام مہیا کرے جس سے کراچی کے شہریوں کو نہ صرف بلاتعطل بجلی کی فراہمی فراہم ہو‘ شہرمیں آندھی طوفان آتا ہے توشہری بجلی کے تار گیرنے سے اپنی جان کھودیتے ہیں ‘اس کابھی تدارک کیا جائے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جائے۔مرزا عالم بیگ کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے اوور بلنگ کی جاتی ہے اس کے لیے کوئی مربوط نظام فراہم کیا جائے‘ جس سے کراچی و دیہی علاقوں میں اوور بلنگ کا سلسلہ بھی ختم ہو ‘کوئی علاقہ کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ سے نہیں بچا ہوا اور یہ صورتحال دن بہ دن انتہائی گمبھیر اور خطرناک ہوتی جار ہی ہے‘ جس سے شہریوں کو بڑی مشکلات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے‘ اس وقت کراچی کے اندر بڑا مسئلہ بجلی کی بلاتعطل فراہمی کاہے ‘کے الیکٹرک کا ادارہ ناکام نظر آ تا ہے ‘ یہ انتہائی منافع کمانے والا ادارہ ہے جو خود کو ہمیشہ خسارے میں ظاہر کرتا ہے اس کی وجہ بھی ڈھونڈی جائے اور اس کا تدارک کیا جائے‘ کورونا کے مریضوں کی وجہ سے شہر کے اندر انتہائی گمبھیر صورتحال ہے جس کی وجہ سے لاک ڈاﺅن ہوا ہے اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے لوگ گھروں میں موجود ہیں۔ کراچی ایک گنجان آبادی کا علاقہ ہے اس میں زیادہ تر لوگ فلیٹوں اور چھوٹے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ ہماری اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ خود تو مراعات لیتے ہیں لیکن عوام کے بارے میں نہیں سوچتے‘ سوائے بیان بازی کے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آرہاجب کہ یہ بھی خدشہ ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کہیں تعلیمی