صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور ایوان کی کارروائی خوشگوار ماحول میں چلنے دیں۔ – فردوس شمیم نقوی

سندھ اسمبلی میںقائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے بدھ کو ایوان کی کارروائی کے دوران حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف کے ممبران سے گزارش کی کہ وہ صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور ایوان کی کارروائی خوشگوار ماحول میں چلنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایوان کے اندر اور باہر بھی لڑنا جانتے ہیں۔آج کا ماحول ایسا ہونا چاہیے کہ تقریریں چلیں۔جتنے ممبران بولنا چاہیں ان کو وقت دیںمیں جمعہ کو بھی تقریر کرلوں گا مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ جس پر اسپیکر آغاسراج درانی نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کوئی تقریر سے رہ جائے۔حالات کی وجہ سے وقت کم ہے۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اسمبلی میں کسی کی حکومت نہیں ہے ۔حکومت اسمبلی سے باہر ہوتی ہے ۔اسمبلی میں اسپیکر ذمہ دار ہوتاہے ۔اجلاس حکومت کی مرضی سے نہیں اسپیکر کی مرضی سے چلے گا۔اسپیکر کا رویہ غیر جانبدارانہ ہوناچاہیے۔وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاﺅلہ نے کہا کہ اپوزیشن بینچز سے ہماری خواتین کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے ۔ہم اپنی خواتین کے لئے غیر اخلاقی زبان قطعی برداشت نہیں کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ کیا یہ بدتمیزی انہیں ان کی قیادت نے سکھائی ہے۔

کراچی (نامہ نگار خصوصی )پیپلزپارٹی کی خواتین ارکان ہیر اسماعیل سوہو ،کلثوم چانڈیو شمیم ممتاز ،سعدیہ جاوید ، ندا کھوڑواورشاہینہ شیر نے سندھ اسمبلی کے ایوان میں جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی اور اپوزیشن کے دیگر ارکان کے رویہ پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایوان کا ماحول جان بوجھ کر خراب کرنے کی کو شش کررہے ہیں۔بدھ کوسندھ اسمبلی میڈیا کارنرپر بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں کچھ اپوزیشن ارکان کا رویہ سب کے سامنے ہے ۔ ہیر سو نے کہا کہ ہم نے کسی کو جواب نہیں دیا نہ ہی کوئی ذاتی حملہ کیا اس کے باوجود وہاں بیہودہ زبان استعمال کی گئی۔جب مائیک نہ ہو تو جملے کسے جاتے ہیں۔بجٹ تقاریرکے دوران قیادت کے خلاف بینرزآویزاں کئے گئے ۔جب ہم بات کریں تو ایک خاتون رکن کھڑی ہوجاتی ہیں ذاتی حملے کرتی ہیں۔جی ڈی اے قیادت اپنی خاتون رکن کوسنبھالے۔انہوں نے کہا کہ وفاق پر تنقید کرنا ہمارا جمہوری حق ہے اس کے استعمال سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔مجھے کہا گیا ایک ہاتھ میں الطاف ایک ہاتھ میں بلاول ہے ۔کلثوم چانڈیو نے کہا کہ ہم بارہ سال سے اس خاتون رکن کو برداشت کررہے ہیں۔میں نے ان کا نام نہیں لیا تو پھر مجھ پر جملے کیوں کسے گئے۔ ہماری قیادت پر کوئی جملے کسے گا تو جواب دیا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ مداخلت کرکے میری پوری تقریر خراب کردی ۔ڈپٹی اسپیکر کی بھی نہیں سنی گئی ۔یہ عورت ہوکرمردوں پر ہوٹنگ کرتی ہیں۔شمیم ممتازنے کہا کہ کل جس طرح دن کا آغاز ہواوہ دعاسے ہی شروع ہوگئی تھی شاید قیادت سے ہدایت ملی تھی ۔نداکھوڑو نے کہا کہ مجھے ایوان میں آئے دوسال ہوئے ہیں۔کچھ خواتین اراکین کا رویہ دیکھ کرافسوس ہوا۔ہماری طرف سے کوئی بھی تقریر کرے تو اپوزیشن رکن کا رویہ افسوسناک ہے ۔وہ تواسپیکرکا بھی احترام نہیں کرتی ۔ذاتی حملے کا ان کو حق نہیںہے۔

کراچی(نامہ نگار خصوصی )جی ڈی اے کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحرعباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان سے باہر آئی ہوں نصرت سحرکوجوجانتا ہے وہ بھی سنے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کل بھی چیلنج کرتی تھی آج بھی کررہی ہوں۔میں نے کسی کی قیادت بلاول بختاورآصفہ یا کسی کو کوئی ایک لفظ نہیں کہا مجھے سندھ کے ایشوزپر بات کرنے کی وجہ سے بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے نصرت سحر عباسی نے مزیر کہا کہ ایوان میں مجھے انصاف نہیں ملا میڈیا اور عوام گواہ ہے اگرمیں غلط ہوں انہوں نے کہا کہ مجھے گدھا باگڑی اورخانہ بدوش کہا مجھے باگڑی بھی ہونے پر فخرہے کرشنا ان کی اپنی پارٹی ہے وہ نسلا باگڑی ہے کیا وہ خدا کی مخلوق نہیں ہے مجھے گدھا کہا گیا وہ بھی اللہ کی مخلوق ہے مجھے انکے لہجے پر اعتراض ہے اسپیکر آغا سراج درانی نے انصاف نہیں کیا نصرت سحر عباسی نے کہا کہ جی ڈی اے کے حسنین مرزا کو کہا گیا کہ اپنے ممبرکارویہ بہتربناو¿ گزشتہ روز پیپلزپارٹی کی کلثوم چانڈیو نے کہا کہ اس کو نکالو اسپیکرنے بھی کہا نکل جاو¿ بختاوراورآصفہ پر فخر ہے ان کی تربیت عظیم والدہ نے کی آپ نے کبھی اپنی خواتین میمبرکو نہیں کہاہوگا کہ ان کو ننگی گالیاں دو اگرآپ نے نہیں کہا تو کس نے کہا ورنہ آپ کی پارٹی میں کون سی خاتون شامل ہوگی۔