لیپ ٹاپ منگوانے والی 14 کمپنیوں کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا

283 کھیپوں میں محصولات کی مد میں قومی خزانے کو ایک ارب 34 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچانے کی تحقیقات ۔
بیرون ملک سے لیپ ٹاپ کمپیوٹر درآمد کرنے والی 14 کمپنیوں کے گرد کسٹم کا گھیرا تنگ ہو گیا ۔کسٹم ذرائع کے مطابق ان کمپنیوں نے 283 کھیپوں میں ملکی خزانے کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں ایک ارب 34 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا ملک بھر کی ان معروف چودہ کمپنیوں کی جانب سے درآمد کیے گئے ڈیل Dell اور ایچ پی HP کمپنیوں کے لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کی 283 کھیپوں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد کسٹم ڈائریکٹوریٹ جنرل پوسٹ کلیئرنس ایڈٹ کے افسران نے کیس تیار کر کے اعلی حکام کو بھجوا دیئے ہیں جس کے بعد کس ٹیم ایڈ جیو ڈی کیشن کلیکٹریٹس میں مذکورہ کمپنیوں سے ریکوری کے لیے کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے ۔

کسٹمر ریکارڈ کے مطابق جن کمپنیوں کے خلاف ٹیکس چوری کے کیس تیار کیے گئے ہیں ان میں میسرز ٹیکنو سول پرائیویٹ لمیٹڈ
M/s.technosole pvt ltd.
اور میگا پلس پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ
& Mega Plus Pakistan Pvt Ltd

اور میسرز پی او پی گلوبل ڈسٹریبیوشن کمپنی
POP Global distribution .

میسرز ڈیسنٹ کمپیوٹرز کمپنی ۔
M/s decent computers company.

اور میسیرز یونیک ٹیکنالوجیز کمپنی ۔
M/s unique technologies company.

اور میسرز ایسٹرون ٹیک ڈسٹریبیوٹر کمپنی ۔

M/s astron tech .

اور میسرز مائیکرو انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی ۔

میسرز پا کو کمپیوٹر کمپنی ۔
میسرز بھائی پر ٹیکنالوجی کمپنی ۔
میسرز جعفر برادرز کمپنی
اور میسرز ٹیک ٹریڈرز کمپنی ۔کریٹو انوویشن کمپنی ۔
دی ایکسپلور کمپنی شامل ہیں

مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے گزشتہ برسوں کے دوران کراچی ایئرپورٹ لاہور ایئرپورٹ اسلام آباد ائیر پورٹ کراچی پورٹ قاسم کراچی پورٹ ٹرسٹ سے لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی کمپنیوں کے برانڈی لیپ ٹاپ کمپیوٹرز درآمد کیے گئے لیکن ان کے پاؤں میں موجود لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کی اصل کی قیمتوں کو چھپا کر انہیں انتہائی کم مالیت کی ظاہر کرکے کسٹم کے ایئرپورٹ ریٹ یونٹ اور اپریزمنٹ کے کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے کلیئر کروالیا گیا اس طرح سے ان لیپ ٹاپ کمپیوٹرز پر لاگو ہونے والے اصل ڈیوٹی اورٹیکس کے بجائے انتہائی کم ڈیوٹی اورٹیکس اداکیے جاتے رہے اس طرح سے کمپنیوں نے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا اس کی تحقیقات کی جا رہی ہے ۔
کسٹم حکام کے مطابق مذکورہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اس پر گزشتہ برس اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بات کی گئی اور آئی ٹی سیکٹر میں درآمد سے منسلک ان کمپنیوں کے اس سنگین ہیر پھیر پر بعض اداروں کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد قائمہ کمیٹی نے اس کا فیصلہ کیا کہ ملوث کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کروائی جائے جس کے لیے چیئرمین ایف بی آر کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی مری بات کا فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ ایف بی آر کے کسٹم سونگ میں ماضی میں پلیئر کی گئی تھی کھو کی چھان بین اور آرٹ کے لیے ڈائریکٹریٹ جنرل پوسٹ پلیئرز کی پروڈکشن موجود ہے اس لیے اسی شعبے کے افسران کے ذریعے مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے گزشتہ برسوں کے دوران کی گئی درآمدات کی جانچ پڑتال کروائی جائے اور چوری شدہ ٹیکس کا تخمینہ لگا کر کمپنیوں سے اس کی وصولی کے لئے کاروائی کی جائے گزشتہ برسوں میں منگوائی گئی 223 کھیپوں کا آڈٹ مکمل کر لیا گیا ہے جس پر مجموعی طور پر ایک ارب 34 کروڑ روپے سے زیادہ کی ٹیکس چوری سامنے آ چکی ہے ۔تفصیلات کے مطابق دستاویزات میں ایک لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کی مالیت 5 سے 10 ہزار روپے ظاہر کی جاتی تھی اور سو سے دو سو فیصد تک ٹیکس چوری کیا جاتا رہا بیرون ملک جس کمپنی سے سامان خریدا جاتا تھا جس کو مکمل ادائیگی کرنے کے لیے بھاری رقم حوالہ ہنڈی کے ذریعے غیر قانونی طور پر دبئی اور دیگر ملکوں سے بھجوائی جاتی تھی جبکہ پاکستان سے بینکنگ چینل سے اتنی رقم بیرون ملک ادائیگی کے نام پر بھجوائی جاتی تھی جتنی دستاویزات میں مالیت ظاہر کی جاتی تھی اس سلسلے میں ٹھوس ثبوت کسٹم حکام کے ہاتھ لگ جانے کے بعد کمپنیوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے ۔