کرونا نے مقامی کاروباروں کو تقریباً ختم کر دیا ہے ۔ خرم اعجاز، ایف پی سی سی آئی میں پر ہجوم زوم میٹنگ ۔

ایف پی سی سی آئی کی ایف بی آر ایڈوائزری کونسل کے سربراہ میاں زاہد حسین نے ایف پی سی سی آئی میں کو نسل کی زوم میٹنگ کا انعقاد کیا جس میں 40سے زیادہ ایسوسی ایشنز اور چیمبرز نے ذاتی اور زوم کے ذریعے شرکت کی ۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر خرم اعجاز ،ثا قب فیاض مگوں ، شبیر حسن منشا ء ،ڈاکٹر جیسومل ، امین با لا گام والا ، اکرام الحق قریشی ، ریحان چا ءولہ، ڈاکٹر شہلا جاوید ،عا دل غفار ، اوم پرکاش ، سمیر حسین ، شاہد لغاری ، عارف کپور، عمران غنی اور ملتان چیمبر کے صدر شیخ فضل الٰہی نے اپنے شعبوں کے معاشی مسا ئل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس نے مقامی کاروباروں اور انڈسٹری کو تقریباً ختم کر دیا ہے جسکی بحالی کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں ۔ ٹور، ٹریول آپریٹرز ، اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز، ریسٹورنٹس اور حج و عمرہ کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی مالی حالت بہت خراب ہے اور انکے گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں جنھں مالی طور پربیل آءوٹ کیا جائے ۔ کرونا وائرس ، لاک ڈاءون اور اب وفا قی بجٹ کی وجہ سے سی این جی سیکٹر، کمرشل ،پیپراور ٹائر امپورٹرزشدید پریشان ہیں جبکہ فرٹیلائزراور کاٹن جننگ انڈسٹری بھی نئے بجٹ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوگئی ہے جس کی وجہ سے اس صنعت سے وابستہ لاکھو ں لوگوں کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ ہے ۔ چا ول ایکسپورٹرزبھی حکومتی غلط پالیسی کی وجہ سے مسا ئل کا شکا ر ہوچکے ہیں ۔ ٹوروحج آپریٹرز،ریسٹورنٹس ما لکان ،ٹریول ایجنٹس، خواتین کے کاروباری اداروں ، حج و عمرہ آرگنائزرزا اور اوور سیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کو بینکوں کے ذریعے بغیر سود کے قرضے اور ضمانت کے بغیر 50لاکھ تک کے قرض دینے کی ضرورت ہے تاکہ انھیں مکمل تباہی سے بچایا جا سکے اور ضمانت کے طور پر چیک کو قابل قبول ضمانت تصور کیا جائے ۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر خر م اعجاز نے میٹنگ کے شرکا ء سے کہا کہ پر فضا مقامات پر جن لوگوں نے کاروبار کے لئے ہوٹلز اور ہٹ بنائے ہوئے ہیں وہ بھی کرونا وائرس اور لا ک ڈاءون کی وجہ سے کئی مہینوں سے بالکل خالی پڑے ہیں کیونکہ جب لوگ گھروں سے ہی نہیں نکلیں گے تو سیاحت کیسے ہو سکتی ہے ۔ ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پرسیاحت کی صنعت نے چار ماہ میں 195 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا ہے جبکہ سال بھر کے نقصان کا اندازہ 1.2 کھرب ڈالر ہے ۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سیاحت کے شعبہ میں عا لمی سطح 10 سے 12کروڑ ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں ۔ اب22 فیصد سیاحتی مقامات پر پابندیاں نرم ہو رہی ہیں جنکی اکثریت یورپ میں ہے جبکہ باقی ماندہ سیاحتی سپاٹس پر سخت پابندی عائد ہے جنھیں نرم ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں ۔ شبیر حسن منشاء نے کہا کہ سیاحت کا کھلنا لاکھوں افراد کے روزگار، کاروبار اور درجنوں ممالک کی معیشت کے لئے بہت اہم ہے مگر انسانی جانوں پر کوئی کمپرومائیز نہیں ہونا چاہئے اور ایس او پیز کی مکمل پابندی ہو نی چا ہئے ۔ میاں زاہد حسین نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں ٹیکس اور اخراجات کے اہداف غیر حقیقت پسندانہ ہیں ۔ حکومت چلانے کے لئے ٹیکس ضروری ہے مگر حکومت کے ساتھ معیشت چلانا بھی ضروری ہے جسکے لئے کاروباری ماحول کو بہتر رکھنا ہو گا جس میں کاروبار کرنے کے اخراجات میں کمی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ بجلی و گیس کی قیمتوں میں 50فیصد کمی اور شناختی کارڈ کی شرط ختم کی جائے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں کاروباری برادری کو پیغام دیا گیا ہے کہ کسی قسم کی کوئی توقع رکھے بغیر ’ڈو مور‘ کیا جائے ۔ عوام کی قوت خرید بڑھانے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا ہے ۔ عوام کچھ خریدیں گے نہیں تو معیشت کیسے چلے گی ۔ میٹنگ کے تمام شرکاء نے فیڈریشن کے صدر میاں انجم نثار کی بز نس کمیونٹی کےلئے خدمات کو سرا ہا اور انھیں خراج تحسین پیش کیا کہ وہ دن رات بز نس کمیونٹی کی خدمت کےلئے سرگرم عمل ہیں ۔