بڑا ظلم دیکھا زمانے میں ھم نے

*تصویروں میں نظر آنے والی ایک 10 سالہ لڑکی ہے جو کسی سکول کی طلباء ہے . اللہ تعالی نے بچی کو حسن وجمال کیساتھ ساتھ عقل و شعور سے بھی نوازا تھا جس نےاپنے والدین سے وعدہ کیا تھا کہ میں پڑھ لکھ کر جج بنوں گی اور معاشرے میں غریب لوگوں پر ہونے والے بااثر افراد کے ظلم کے خلاف فیصلے کروں گی معلومات کے مطابق تصویروں میں ایک وڈیرے کی تصویر ہے جو شکل سے ہی بدکردار بدمعاش اورغنڈہ لگتا ہے اس ظالم نے اپنے آدمیوں کو مطلوبہ لڑکی کے گھر بھیجا اور لڑکی کے والدین سے لڑکی کا رشتہ مانگا لڑکی چھوٹی ہونے کی وجہ سے لڑکی کے والدین نے انکار کر دیا تو اس ظالم سردار نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ اس لڑکی کو کسی بھی طرع بدنام کرکے میرے سامنے پیش کیا جائے لڑکی کو سکول سے واپسی پر ان درندوں نے اٹھاکر.اسکے ساتھ زبردستی اجتماعی زیاتی کی اور پھر لڑکی کو بیہوشی کی حالت میں اسکے گھر لاکر چھوڑ دیا درندوں نے لڑکی کے والدین سے کہا جب یہ ہوش میں آجاٸے تو سارا معاملہ اس سے خود پوچھ لینا ، لڑکی ہوش میں آنے کے بعد زار و زار رونے لگی اور غریب و لاچار والدین سے واقعے کی دردناک کہانی بیان کی جس پر والدین نے اپنی بچی کو خاموش رہنے کو کہا دوسرے دن سرداروں نے انکے گھر دستک دی اور لڑکی کی ویڈیو سرعام چلائی جو انہوں نے بذات خود بنائی ہوٸی تھی اور لڑکی اور اسکے والدین کی مجبوراََ خاموشی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑکی کو بدچلن اور دیگر گھناؤنے الزامات لگا کر پنجائیت لگادی جس پر تصویروں میں نظر آنے والے درندے نے معصوم لڑکی کو سزائے موت کا حکم سنا دیا اور لڑکی کو سردار کے گارڈز جنہوں نے اس لڑکی سے خود ہی زیاتی کی تھی انہوں نے ہی سنگسار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا . کیا یہاں کوٸی قانون نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مدینہ کی ریاست کا کوئی عالم اور مفتی بھول بیٹھے کے کہاں لکھا ہے ، قرآن کریم میں ایک نابالغ بچی کو سنگسار کرنا تمام دوستوں سے میری گزارش ہے کہ معصوم بچی تو جج بنے کا ارمان اپنی آنکھوں میں سجائے اس دنیا سے رخصت ھوگٸی ہے . کیا ہم سوشل میڈیا ‌پر بیٹھے جج اور عدالتوں میں بیٹھے معزز جج صاحبان جن کی ایک دن کی تنخوا ایک لاکھ روپے ہے ہم سب کو مل کر ان سے اس بچی کو اور اسکے والدین کو انصاف دیلانا چاہیٸے۔۔۔

رمیض رزاق