طارق عزیز – خصوصی تحریر:میاں طارق جاوید

قوموں کی تاریخ میں کچھ کارنامے سنہری حروف سے لکھے جاتے ھیں مگر کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو تاریخ میں ہمشیہ ہمیشہ کیلئے امر ہوجاتے ہیں
طارق عزیز کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے جنسے دنیا میں شاید ہی کو ئی شخص ایسا ہو جو اردو جانتا ہو اور وہ طارق عزیز کی شخصیت سے متاثر نہ ہوا ہو –
اللہ رب العزت نے یہ اعزاز بھی ان کے حصے میں لکھ دیا تھا کہ جب پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو دنیا نے جو سب سے پہلاچہرہ دیکھا وہ”طارق عزیز ” صاحب کا ہی تھا
پھر 77-1976 میں نیلام گھر کا آغاز کیا تو وہ دنیا کا طویل ترین شو بن گیا۔ انفارمیشن ۔تعلیم تربیت اور تفریح کے ساتھ اس شو نے وہ کا میابیاں حاصل کی کہ تمام ریکارڈز توڑ کے رکھ دیے ۔ ریڈیو پر گئے تو وہاں چھا گئے فلم میں وحید مراد محمد علی کے درو میں ان کے ساتھ کام کرکے منفرد مقام حاصل کی۔شاعری سے شغف اس حد تک تھا کہ بہت سارے شاعروں کا کلام ازبرتھا اور خود کہتے ہیں کہ
ہم وہ سیاہ نصیب ہیں طارق کہ شہر میں
کھولیں دکاں کفن کی لوگ مرنا چھوڑ دیں
اور پھر قوم کو پنجابی میں “ہمزاد دا دکھ “جیسا لازوال کلام دیے گئے
17 جون کو اچانک طارق عزیز کے انتقال کی خبر نے بے چین کرتے ہوئے دکھ و کرباور غم کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچا دیا کہ بیان ہی نہیں کی جا سکتی تھی ۔ہر شخص طارق عزیز کے دکھ میں برابر شریک تھا ۔اچانک مجھے تاجدار عادل بھائی کا خیال آیا جب کال کی تو کافی دیر کے بعد ریسو ہوئی تو دوسری طرف دکھ کرب اور غم سے بھری آواز سن کر دیر تک غم میں ڈوبی سسکیوں کو سننا آسان نہ تھا ۔کیوں کہ نیلام گھر کے طویل ترین عرصے تک پروڈیوسر رہنے کے ساتھ تاجدار عادل اور طارق عزیز کے قریبی دوست اور بھائیوں جیسے تھے ایک دوسرے کو حوصلہ اور دلاسے دیتے دیتے جب ہمت جواب دے گئی تو فون اس وعدے پر بند ہوا کہ ایک تعزیتی شو کیا جائے گا
طارق عزیز صاحب کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے پانچ نسلوں کو براہ راست متاثر کیا ۔جب صرف پی ٹی وی تھا تو ان کے شو کے ان ائیر ٹائم پر پورے ملک میں سڑکیں ویران پو جاتی تھیں لوگ ہفتہ بھر نیلام گھر کا انتظار کرتے تھے شو میں شرکت کیلئے بڑی سفارشیں کرواتے ۔
نیلام گھر کی بے پناہ کامیابی کے باوجود طارق عزیز نے ہمیشہ درویشانہ زندگی بسر کی ۔اپنے نام کے مطلب کے مطابق ہمیشہ لوگوں میں روشنی پھیلاتے رہے ۔
پتہ نہیں کیوں ان کو مرحوم لکھتے ہوئے انگلیاں کانپ رہی ہیں میں نے پی ٹی وی نیشنل کے جی ایم محترم مقبول احمد شجرہ کو جب طارق عزیز کی یاد میں شوکرنے کی بات کی تو وہ پہلے ہی سوچ کے بیٹھے تھے ان کی صرف یہ خواہش تھی کہ شو طارق عزیز کے شایان شان ہونا چاہئے پھر میں نے حتی المقدور کوششیں کی کہ کوئی بان کا ہم عصر مل سکے جو ان پر بات کر سکے ۔ کرونا نے لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا ہے لیکن تاجدار عادل اور فاروق معین (سابق چیف ایڈیٹر پی پی ائی) کی شرکت نے” ہمزاد دا دکھ ” شو کرنے میں میری مدد کی ۔
پوری شو میں ہم دکھی بھی ہوئے کہ اب طارق عزیز اب ہم میں نہیں ہیں مگر ان کی شرارتوں کو یاد کر کے دکھ کے ساتھ مسکرائے بھی ۔ماضی خصوصا” ابتدائے نیلام گھر اور اس شو کی تیاری کے دوران ہونے والے واقعات کو یاد کرتے رہے پس پردہ پونے والے واقعات اور ان کے پاس منظر کا ذکر کیا
تاجدار عادل نے بتایا ابتدا میں طارق عزیز نیلام گھر کا آغاز
” ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید جانتا ہے دیکھتی آنکھوں طارق عزیز کا سلام پہنچے ” سے کیا کرتے تھے تب ایک نابینا شخص کا خط آیا کہ آپ مجھےسلام نہیں کرتے کیونکہ میں دیکھ نہیں سکتا ہوں اس پر طارق عزیز صاحب نے “دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں ” کہنا شروع کیا
اللہ رب العزت نے طارق عزیز صاحب کو عزت اور شہرت کی ان بلندیوں تک پہنچایا جس کا شائد کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ایک وقت تھا کہ پاکستان کے دل لاہور میں ان کے پاس سونے کو جگہ نہیں تھی پھر اس شہر نے ہی ان کو قومی اسمبلی کا رکن بنا کر اسلام آباد پہنچایا
2010 کی بات ہے پاکستان اور خصوصا سندھ بھر میں شدید ترین سیلاب آیا تھا طارق عزیز صاحب پی ٹی وی ہوم کی خصوصی ٹرانسمیشن کیلئے کراچی تشریف لائے ۔آتے ہی تاجدار عادل کو تلاش کیا وہ ان دنوں پی ٹی وی نیشنل کے ڈائریکٹر ہوا کرتے تھے ان کے کمرے میں ہی ان سے ملاقات ہوئی ۔اس سے قبل بھی ان چند ملاقاتیں رہی تھیں مگر سرسری سی ہوا کرتی تھی مگر 2010 میں بڑی تفصیلی ملاقاتوں کا سلسلہ رہا جو 6 دن ان کے کراچی میں قیام کے دوران مسلسل رہا

تاجدار عادل صاحب نے ان کی موجودگی کا فائدہ اٹھایا اور دو خصوصی ٹرانسمیشن پی ٹی وی نیشنل پر بھی کر لیں اور اس میں بطور کمپیئر میرا انتخاب ہوا۔ ط
پاکستان کے لیجنڈ اور اپنے مینٹور(آئیڈیل ) کے سامنے بیٹھنے پر میں تھوڑا نروس تھا جس کا ذکر جب تاجدار عادل صاحب کے سامنے کیا تو پہلے ہنسےاور پھر کہا گھبرانا نہیں طارق عزیز بہت شفیق انسان ہیں پھر پتہ نہیں کہاں سے ہمت آئی اور جب ہم ٹرانسمیشن سے فارغ ہوئے تو مجھے گلے لگاتے ہو طارق عزیز صاحب نے جو کچھ تاجدار عادل صاحب کو کہا وہ میرے لئیے سب سے بڑی ڈگری تھی” بھئ تاجدار کمال کر دیتا اس منڈے نے تے 3 گھنٹیاں دا پتہ ای چلن نئی دیتا یار بوہت کمال دا اینکر لبھیا اے اے بوت ترقی کرے گا ”
تاجدار عادل صاحب ہنستے ہوئے بولے میں طارق عزیز دے مقابلے وچ طارق جاوید لے آیا واں ” اور یو ں ہنسی مذاق میں ہم واپس کمرے میں آگئے۔ میں خو د کو” ہمزاد دا دکھ ” حافظ سمجھتا تھا میں نے ان جب ان کا ہی کلام سنایا تو بہت خوش اور حیران ہوئے اور بولے یار تیراپنجابی پڑن دا انداز بڑا وکھرا اے تے بوت کمال وی ۔دوسرے دن بھی خصوصی ٹرانسمیشن کی آن ائیر جانے سے پہلے اور تاجدار عادل صاحب کے کمرے میں طارق عزیز صاحب سے بہت شعر سنے
پھر ان سے ہمیشہ فون پر رابطہ رہا ہمش دعائیں دیتے تھے
طارق عزیز ایک چلتا پھرتا پاکستان تھے ایک تاریخ تھے قائد اعظم کے دو قومی نظریے کے پاسبان تھے نیلام گھر گھر کے آخر میں بجب وہ کہتے تھے اللہ نگہبان پاکستان زندہ باد تو اس میں کبھی کھبار سوچتا تھا کہ یہ نعرہ میں کب لگاوں گا الحمداللہ 2003 سے پی ٹی وی کے ساتھ پہلے شو سے میں طارق عزیز صاحب کا فالوور ہوں بہت سکون ملتا ہے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کے اور یہ جذبہ صرف اورصرف طارق عزیز کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے

طارق عزیز 28 اپریل 1936ء کو جالندھر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ جالندھر کی آرائیں گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کے والد میاں عبد العزیز پاکستانی 1947 میں پاکستان ہجرت کر آئے۔ آپکے والد صاحب پاکستان بننے سے دس سال پہلے سے اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لکھتے تھے۔آپ نے اپنا بچپن ساہیوال(منٹگمری ) میں گزارا۔ طارق عزیز صاحب نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ جب 1964ء میں پاکستان ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز پی ٹی وی کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر اور نیوز ریڈر بھی تھے۔ تاہم1977 میں شروع کیے جانے والے ان کے اسٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا اور اسے بعد میں طارق عزیز شواورپھر بزم طارق عزیز کے کا نام سے جاری رہا
اب جب طارق عزیز پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر سفر اجرت پر رخصت ہو چکے ہیں تو ہم آج ان کی شخصیت کے ہر ہر پہلو کو یاد کرتے ہیں

طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت (1967 ) تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔
انہیں ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں …..
طارق عزیز کا ایک بیٹا تھا جو کم عمری میں بی فوت ہو گیا تھا اولاد نہ ہونے کو بھی اللہ رب العزت سے کی حکمت کہتے تھے اور وہ حکمت یہ تھی کہ آج پاکستان کا ہر بچہ ، بچی ان سے بچوں کی طرح ہی محبت کرتے ہیں آج پاکستان کے طول و عرض میں ہر گھر طارق عزیز کے انتقال پر غمزدہ ہے طارق عزیز پاکستانی آپ تو اپنی زندگی گذار کر اپنے سفر اجرت پر روانہ ہو گئے ہو مگر پاکستانی قوم آپ کو کبھی فراموش نہیں کر سکے گی
دیکھتی آنکھوں اور سننے کانوں پوری پاکستانی قوم کا طارق عزیز کو سلام اور اللہ رب العزت سے دعا ہےکہ پاکستان کے اس بیٹے پر اپنی خصوصی رحمت و کرم فرمائے
طارق عزیز اللہ نگہبان
پاکستان زندہ باد