فارن ریزرومیں مسلسل کمی اورقرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے مقامی کرنسی پر شدید دباؤ ہے:صدر ایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں انجم نثار نے حکومت سے پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کے قیمت میں اضافے پر قابو پانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے دو ماہ سے روپیہ کی قدر میں بہت زیادہ کمی ہوئی ہے جو معیشت کے لیے سود مند نہیں ہے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہاکہ کہ اپریل کے آغاز میں ہی انٹربینک مارکیٹ میں ایک ہی سیشن میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت م شدید کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی زبردست گراوٹ نے قومی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کے بڑے پیمانے پر گرنے کی وجہ سے کاروباری افراد کی طرف سے ان کے غیر ملکی کارباری ہم منصبوں کے ساتھ کئے جانے والے سودوں کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ برآمدات میں اضافے اور درآمدات کو کنٹرول کرنے کے علاوہ انتظامی اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ مارکیٹ میں نقد ڈالر کی بڑی مانگ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون کے آغاز سے ہی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں 2.8 فیصد یا 4.55 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ یہ پچھلے مہینے کے آخر میں 163.10 پر بند ہوا تھا۔میاں انجم نثار نے درآمدات سے متعلق مثبت پیشرفت کو سراہا، جو گذشتہ مالی سال سے اب کم ہونا شروع ہوچکا ہے، حکومت نے باقاعدہ ریگولر ڈیوٹیزعائد کرنے کے اقدام کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ملک کو اس ہفتے کے دوران کثیر الجہتی آمدنی حاصل ہوگی جس سے روپے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت مل سکے گی کیونکہ حکومت ن کوورلڈ بینک سے قرض موصول ہو نا شروع ہو گے ہیں۔ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ حکومت کی ضرورت سے زیادہ قرضہ لینا، غیر ملکی سرمایہ کاری کا فقدان اور کرنٹ اکاؤنٹ کا بہت بڑا خسارہ پاک روپے کی مسلسل گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ کاروباری برادری کے رہنما نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ روپے کی مسلسل گراوٹ اس حقیقت کے ساتھ قابل فہم نہیں ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں کے دوران ملک کی درآمدات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ہوئی جبکہ دیگر معاشی اشارے بھی ایک طویل عرصے سے یکساں ہیں۔.انہوں نے کہا کہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر گرنے اور بڑھتے ہوئے اخراج کے باعث مقامی کرنسی دباؤ کا شکار ہے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے سبب حال ہی میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ میں تھے، جو 8 جون کو 12.3 ارب ڈالر سے کم ہوکر 12 جون تک 10.1 بلین ڈالر رہ گئے تھے۔میاں انجم نثار کا موقف تھا کہ اس ضمن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کو آگاہ رہنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک اور حکومت کو بھی مداخلت کرنے اور روپے کی گراوٹ کو کنٹرول کرنے کے لئے پالیسیوں میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے جو دن بدن بے وقعت ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان نے سات سال پہلے 2013 میں متعدد ممالک کے ساتھ کرنسی تبادلہ معاہدے کے تحت اپنے مالیاتی لین دین کا آغاز کرنے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد اپنے درآمدی بل اور ادائیگی کے توازن کو کنٹرول کرنا تھا، لیکن اب تک اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر پاکستان میں سپلائی سے زیادہ ڈالر کی طلب ہے توروپے کی قدر میں کمی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو دوطرفہ تجارتی توازن میں معنی بخش بہتری لانے کے لئے پاکستان کی روپے کی قدر میں اضافے والی معاشی سرگرمیوں میں زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری پر خصوصی زور کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کا آغاز کرنے کے لئے اقدامات کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا، ”ایف پی سی سی آئی نے وزارت خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور پاکستانی روپے میں کچھ حد تک بہتری لائے، کیونکہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی ملکی کرنسی کے اس مسلسل تخفیف پر سخت مایوسی کا شکار ہے۔”