وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ ہفتے 18 گھنٹے کراچی کو دئے

یاسمین طہٰ
——–

وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ ہفتے اپنے مصروف ترین شیڈول میں سے تقریباً 18 گھنٹے کراچی کو دئے جس پر کراچی کے باسی ان کے انتہائی ممنون ہین۔ اپنے دورہ کراچی میں وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ سے ملاقات نہ کرکے انھوں نے اسپورٹسمین اسپرٹ کو فراموش کردیا اور ایک بری روایت قائم کی۔کراچی میں اتحادی جماعتوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ سمیت تمام صوبوں سے تعاون کر رہی ہے۔ یہ کیسا تعاون تھا جس مین صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کو ہی نظر انداز کردیا گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ حقیقی ترقی انتظامی اصلاحات اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اس موقع پر اتحادی جماعتوں کے ارکان نے وزیراعظم کو سندھ کی ترقی اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کیں۔وزیر اعظم عمران خان سے کراچی میں پی ٹی آئی کے اراکین سندھ اسمبلی نے بھی ملاقات کی۔انہوں نے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے متعلقہ حلقوں میں عوامی مسائل کا حل یقینی بنانے میں متحرک کردار ادا کریں۔غالباً عمران خان کو اب تک یہ بات معلوم نہیں کہ ان کے کراچی سے منتخب ہونے والے بیشتر ارکان اسمبلی محض فوٹو سیشن اور پریس کانفرنس کی حد تک ہی کارکردگی دکھارہے ہیں۔ممبر قومی اسمبلی آفتاب صدیقی اور ممبر صوبائی اسمبلی شہزاد قریشی کے علاوہ ان کا کوئی بھی کارکن فیلڈ مین نظر نہین آرہا ہے۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کی ممبر صوبائی اسمبلی ادیبہ حسن نے ڈی ایچ اے اور کلفٹن میں ڈیسیلینیشن پلانٹ کے قیام پر زور دیا تاکہ علاقے کے پانی کے مسائل پر قابو پایا جاسکے۔ ہوسکتا ہے کہ ادیبہ کی اس تجویز سے عمران خان کو کراچی کے شہریوں کے پانی کے مسائل کے حل کے لئے ڈی سیلینیشن پلانٹ کے قیام کا وعدہ یاد آجائے جو وہ دوسال کی مدت میں فراموش کرچکے ہین۔کراچی کا مختصردورہ مکمل کرنے کے بعد وزیر اعظم لاڑکانہ میں احساس ایمرجنسی کیش ڈسٹریبوشن سینٹر کا دورہ کیا۔۔وزیرِ اعظم نے احساس کیش سینٹر پر موجود مزدوروں، ریڑھی والوں اور دیہاڑی دار افراد سے بات چیت کی۔وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے دورہ میں یہ شکوہ بھی کیا کہ کرونا کے حوالے سے سیاست کی گئی، جنام وزیر اعظم، بدقسمتی سے اس سیاست میں تحریک انصاف برابر کی شریک رہی ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ افراد دہاڑی دارہیں اگر کورونا کی وجہ سے ملک بند کردیں تو وہ بھوک سے مرنا شروع ہوجائیں گے، پاکستان میں لوگ کورونا وائرس کو سنجیدہ ہی نہیں لے رہے، اس لئے کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سزائیں اور جرمانے ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ این سی سی میٹنگ میں اتفاق رائے سے فیصلے ہوتے ہیں، ہرفیصلے سے متعلق صوبوں کو آن بورڈ لیا جاتا ہے، پہلے دن سے کہہ رہا تھا لاک ڈاوؤن سخت نہیں ہونا چاہیے، جب سندھ نے لاک ڈاؤن کیا تو مجھ سے مشاورت نہیں کی، ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کس صوبے میں ہماری حکومت ہے اورکس میں نہیں،لیکن صدر صاحب یہ بھول گئے کہ جس صوبے میں ان کی حکومت نہین تھی،دورہ کراچی میں اس صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کو نظرانداز کیا گیا انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات منتقل ہوئے،لیکن صوبوں نے اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں کیے،۔خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ملکی تاریخ کا بہترین بلدیاتی نظام لارہے ہیں، بلدیاتی نظام سے شہروں کے میئر عوام خود منتخب کریں گے، مئیر کے براہ راست انتخابات کے بغیر کراچی اور لاہور کے بلدیاتی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ میں صوبے کو 229ارب روپے کم دیئے گئے ہیں جس سے صوبے کی معاشی ترقی متاثر ہوگی جبکہ ترقیاتی اسکیموں میں بھی سندھ کا حصہ سب سے کم رکھ کرصوبہ سندھ کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اس کی وجہ سے صوبائی حکومت کے تنخواہوں کی ادائیگی اور ترقیاتی اخراجات پر اثر پڑے گا،اس کے علاوہ سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کی قائم کردہ ‘سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی’ پر بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ کے علوہ کسی صوبے میں ایسی کمپنی قائم نہیں کی گئی۔ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر صوبے میں ترقیاتی کام کرانا سمجھ سے بالاتر ہے۔اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے کئی ترقیاتی اسکیموں کو بجٹ میں شامل نہیں کیا۔واضح رہے کہ ‘سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی’ میں صوبائی حکومت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس میں چیف سیکریٹری سندھ، وفاقی سیکریٹریز برائے مواصلات، خزانہ، منصوبہ بندی، ایڈیشنل سیکریٹری برائے کابینہ ڈویڑن، فوج کی کور فائیوکے بریگیڈیئر، کمشنر کراچی اور دیگر سرکاری افسران کو شامل کیا گیا ہے۔حال ہی میں وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کے تین بڑے اسپتالوں کے لیے بجٹ مختص کرنے اور انہیں ایک بار پھرصوبائی حکومت کے کنٹرول سے لے کر وفاق کے زیِر انتظام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔جس کے جواب میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عزرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے تحت وفاق کو ادارے ضرور واپس کیے جائیں گے لیکن ان کے اخراجات اور واجبات وفاق کو واپس کرنا ہوں گے۔واضع رہے کہ اس سال صحت کا صوبائی بجٹ تقریباً 120 ارب روپے تھا اس کے باوجود بھی صوبے میں محکمہ صحت کی کارکردگی تنقید کی زد میں رہی اور صوبے میں کتے اور سانپ کے کاٹنے کی ویکسین میسر نہ ہوسکی ،جبکہ تھر میں غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کی ہلاکتیں مستقل خبروں کی زینت بنتی رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن صوبائی معاملہ ہے،18ویں ترمیم چھیڑنا خطرناک ہوگا،ان خیالات کا اظہار انھوں نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے پرآئندہ مالی سال بھرپور توجہ ہے اس لیے سوائے ہیلتھ کے کسی شعبے میں نئی اسکیم نہیں دی۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کو وفاق سے اس سال 229اربروپے کم ملیں گے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ 233ارب رکھا ہے جب کہ 700 اسیکمز اس سال مکمل کریں گے اور پرانی اسیکیمزکو 25فیصد رقم دی ہے۔ بالآخر حکومت نے لاک داؤن سخت لاک داؤن اور اسمارٹ لاک ڈاؤن میں سے ایک لاک داؤن کو سلیکٹ کرکے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے،افسوس ااس بات کا ہے کہ جس وقت ملک میں سخت لاک ڈاؤن ہونا چاہئے تھا اس دوران عید شاپنگ کے نام پر بازار کھول کر حکومت نے خود کرونا کے مریضوں میں اضافہ کیا اور اب حکومت سندھ نے بھی کراچی کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کے بعد مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاون شروع کردیا ہے،جو 18 جون سے2 جولائی تک جاری رہے گا۔