شہید بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کی تقاریب

جدہ کی ڈائری۔۔ امیر محمد خان

شہید بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کی تقاریب

بھٹو خاندان کی جانوں کی قربانیوں سے بھر پور ہے ، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی کو سیاسی خاندان کہا جائے تو وہ صرف دو ہی خاندان ہیں ایک گجرات کا چوہدری خاندان دوسرا بھٹو خاندان، چوہدری خاندان نے چوہدری ظہور الہی کی قربانی دی ، دوم بھٹو خاندان نے کئی جانیں گنوائیں جسکی ابتداء شہید ذولفقار علی بھٹو سے ہوئی، سیاست میں جب بھی کسی کا قتل ہوتا ہے تو اسکی پشت پر سازشوں کی طویل فہرست ہوتی ہے، اگر افسوس اس بات کا ہے شہید لیاقت علی کے قتل سے لیکر بے نظیر بھٹو شہید تک کسی بھی سازش کا راز فاش نہ ہوا، ذولفقار علی بھٹو کی عدالتی شہادت کے سازشوں کے راز وں کے صفحے کھل چکے ہیں جس سے عوام کو صرف انکے عدالتی قتل کی وجوہات مل سکیں اور یہ راز جسسٹس نسیم نے خود ہی کردیا جنہوں نے انہیں پھانسی کی سزا دی تھی۔ بے نظیر ، اور انکے بھائی مرتضی بھٹو کا قتل تو انکی بہن بے نظیر کے دور حکومت میں ہی ہوا ، اور سڑک پر عوام کے سامنے ہوا ، جس پر وہ وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی قاتلوں کو کیفر کردار نہ پہنچا سکیں ما سوائے آنسو بہانے کے ، دوسرا بڑا قتل خود محترمہ کا ہوا وہ بھی سڑک پر ہوا، اگر نہائت شرم اور افسوس کا مقام ہے کہ انکی جماعت وہ واحد جماعت جو اپنا جمہوری دور پانچ سال مکمل تو کرگئی مگر اپنی رہنماء جسکی شہادت کے نتیجے میں پانچ سال تک حکومت کے مزے اٹھائے انکے قتل کی تحقیقات کرکے عوام کو نہ بتا سکی کہ انکا قتل کیوں ہوا؟؟؟ یہ ہے ہماری سیاست !
؎شہید بے نظیر بھٹو جنہیں جمہوری اقدار کوفروغ دینے والی عظیم لیڈر کہا جاتا ہے نے جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔وہ پاکستان کی واحد سیاسی خاتون ہیں جنہیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یورپی ممالک اور امریکہ کے مختلف ادارے بھی بے نظیر کی شخصیت جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔بے نظیر بھٹو ذہانت، دانش، نرم دلی اور شفقت کے اس عطیہ سے جو رب العزت نے انہیں عطا کیا تھا، اپنے عوام کے لئے آسانیاں اور آسودگیاں پیدا کرنا چاہتی تھیں۔ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کی حیثیت سے انہوں نے اپنے فرائض بہ احسن و خوبی ادا کئے لیکن ان کا دور ریشہ دوانیوں کا ایسا شکار ہوا کہ انہیں اپنے عہدے سے ہٹنا پڑا۔ انہیں موقع نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی قوم کے لئے کچھ کر سکتیں اور جو وعدے لوگوں سے کئے تھے انہیں ایفا کر سکتیں وہ ملکی و غیر ملکی سازشوں کا شکار ہوئیں لیکن پر عزم، جرات مندخاتون تھیں۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کو بھی تختہ دار پر چڑھتے دیکھا بسا اوقات اِنہیں سمجھوتوں اور مفاہمت کرنے پر ہدف تنقید بننا پڑا لیکن اپنے سیاسی ورثے کو بھی بخوبی آگے بڑھایا۔ 24جون 1977ء کو جب بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آئیں تو 5جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ذولفقار اعلی بھٹو کو وزیراعظم ہاؤس سے حراست میں لے لیا گیا، اس کے بعد بے نظیر بھٹو نے بھٹو کا پرچم اٹھا کر اپنی جنگ شروع کی، انکے گرد انکی شخصیت کی وجہ سے ۔عوام کے ہجوم کو دیکھ کر جنرل ضیاء الحق کا انتخابات ہی ملتوی کردیا لیکن بے نظیر نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور ضیاء حکومت کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی اور کچھ عرصے کے لئے انہیں جلاوطن ہونا پڑا۔بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان میں پارٹی کو متحد رکھا جب 10اپریل 1986ء کو لاہور پہنچیں تو ان کا
تاریخی استقبال ہوا۔1988 ء میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں لیکن ان کی حکومت کو نہ چلنے دیا گیا اور1990ء میں ان کی حکومت کو ختم کر دیا گیا.اور محترمہ پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ سیاست سے ریٹائر ہوجائیں ورنہ انہیں مقدمات میں سزا دلواکر جیل بھیج دیا جائے گا لیکن وہ کسی بھی دھمکی سے نہ گھبرائیں۔ اگر ہم یہ کہیں کہ دختر مشرق نے آمریتوں کے خلاف کامیاب جدوجہد کی اور ملک میں عوام کی حکمرانی کو بحال کیا تو بے جا نہ ہوگا۔بے نظیر نے اپنے والد کی شہادت کے بعد سیاسی جدوجہد کی ایک نئی تاریخ رقم کی اور اس جدوجہد کے ثمرات سے یہ ملک ہمیشہ مستفید ہوتا رہے گا انہوں نے اپنی ہمت سے وہ کر دکھایا کہ جس کی مثال ساری اسلامی دنیا میں نہیں ملتی۔مسئلہ کشمیر پر بی بی شہید کا واضح اور اصولی موقف تھا کہ اہل کشمیر کو اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت اور ان پر روا ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی۔مسئلہ کشمیر کے حل کے جمود اور تعطل توڑنے کے لیے بے نظیر نے یہ تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو برقرار رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے عوام کے لیے سافٹ بارڈر کی تجویز روبہ عمل لائی جائے اور دونوں اطراف کے لوگوں کو آپس میں ملنے جلنے کی اجازت ہو، تاکہ سال ہاسال کی دوری کے بعد ان میں قربت پیدا ہو اور اس کے بعد وہ باہم مشورہ سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں جسے تمام فریق قبول کریں۔بینظیر بھٹو وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنے والد کے مقدس مشن کی تکمیل کیلئے جدوجہد کرتی رہیں۔ انہوں نے پاکستان کے قومی مفادات کا مکمل طور پر دفاع کیا اور ملکی دفاعی شعبے کو ایٹمی میزائل سے لیس کیااپنی پہلی حکومت کے دوران انہوں نے خاص طور پر پاکستان کے نوجوانوں اور خواتین کو مقتدر بنانے کی سنجیدہ کوشش کی۔ لاکھوں انتہائی غریب خاندانوں کیلئے بینظیر انکم سپورٹ سکیم کے تحت ماہانہ وظیفہ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کی حیثیت سے عزم جوش اور جذبے کے ساتھ پاکستان کی خدمت کی۔باقاعدہ سازش کے تحت بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء کو اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر کے زرداری ہاؤس اسلام آباد واپس جا رہی تھیں۔ ان پر خودکش حملہ کیا گیا جب ان کو ایمرجنسی میں ہسپتال پہنچایا گیا تو وہ زخموں کی تاب نہ لا تے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملیں۔اپنی لیڈر سے بے شمار محبت کرنے والے جیالے پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں موجود ہیں ، انکی جماعت کے نااہل لیڈران پی پی پی کی آج کی قیادت جو بلاول جیسے تعلیم یافتہ نوجوان کے پاست، کا سیاست میں وہ مقام نہیں پیدا کرسکی جو بلاول بھٹو کا حق ہے ۔ شہید بے نظیر بھٹو کی یوم پیدائش پر سعودی عرب میں ریاض و جدہ میں سالگرہ کی تقاریب کروناء وباء کی وجہ سے محدود پیمانے پر منعقد ہوئیں۔ ریاض میں سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی آن لائن سالگرہ کی تقریب منعقد کی گئی جس میں پارٹی رہنماؤں اور جیالوں نے بی بی شہید کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا دارلحکومت ریاض میں پاکستان پیپلزپارٹی کے زیر اہتمام آن لائن تقریب میں مقررین نے کہا ک محترمہ بینظیر بھٹو شہید براعظم ایشیا کی سب سے بڑی لیڈر بن کر ابھریں انہوں نے جمہوریت کے فروغ کے لئے بے پناہ جدوجہد کی اور کبھی جمہوری اقدار پر کوئی سودا نہیں کیا اور عوامی لیڈر ہونے کا ثبوت دیا آن لائن اجلاس سے پاکستان پیپلزپارٹی مڈل ایسٹ کے جنرل سیکرٹری محمد خالد رانا اور صدر ریاض ریجن احسن عباسی نے کہا کہ بے پاکستان کی سیاست کو فروغ دینے میں پیپلزپارٹی نے کردار ادا کیا ہے جس کو ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی قائدانہ صلاحیتوں نے عوام کے اندر مقبول بنایا ۔ تقریب سے تصور چوہدری، ریاض راٹھور، وسیم ساجد، عدیل رانا، قاضی اسحاق میمن، فرح احسن، نجمہ جیلانی، یونس ابو غالب اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
جدہ میں بے نظیر کی سالگرہ

جدہ میں بھی ایک تقریب محدود پیمانے پر ہوئی جسکی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب کے صدر چوہدری تصور حسین نے کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سنیر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی میاں الطاف حسین تھے۔ اس موقع پر چوہدری تصور حسین نے خطاب کرتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوے انکی پاکستان اور جمہوریت کے لے دی گیْ قربانیوں کا ذکر کرتے ہوے کہا کہ وہ وفاق کی علامت، ایک نڈر اور بہادر لیڈر تھیں جہنوں نے?? آمروں کے خلاف آہین اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کی اور پسے ہوے طبقے کے حقوق کے لیے ہمیشہ برسرِ پییکار رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب چیرمین بلاول بھٹو زردای کے ہاتھ مضبوط کریں جو محترمہ کے مشن کو آگے بڑھانے، وطنِ عزیز کی بقا، سالمیت اور جمہوریت کی ترقی کے لیے کام کر رہیے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی سنیر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب میاں الطاف حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہید بی بی اعلء پاے? کی دانشمند، ایک عالمی مدبر اور اپنے نام کی طرح بے نظیر تھیں اور انکی زندگی ہمارے لیے مشلِ راہ ہے۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستان اور اس کیغریب عوام کی بات کی۔ نائب صدور پی پی پی سعودی عرب ملک جاوید حسین اور اظہر شفیق نے بھی محترمہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ اسد اکرم نے کہا کہ محترمہ??۵? میں پیدا ہویں اور???? سے لیکر???? تک مسلسل سیاسی افق پر چھایی رہیں۔ دیگر شرکاء میں زمرد خان سیفی، آفتاب ترابی، ملک الیاس اعوان، فیصل میتلا، راجہ صدام ودیگر شامل تھے۔ تقریب کے اختتام پر سابق صدر سردار آصف علی زرداری کی درازیِ عمر و صحت کے لیے دعا کی گی۔ اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے لیے دعاء مغفرت کے بعد انکی 67 وہیں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔