کورونا کے بڑھتے کیسز،وزیر صحت کا لاہور کے مزید علاقے بند کرنے کا اعلان

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ لاہور اور راولپنڈی سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں،لاہور کے کچھ علاقوں کو ہم نے بندکیا مزید علاقوں کو بند کر رہے ہیں، کچھ علاقوں میں حالات بہتر ہوئے ہیں اور کچھ میں حالات خراب ہوئے ہیں ، 7علاقوں میں کیسز زیادہ آئے ہیں جن کو ایک ہفتے کیلئے مکمل بند کر رہے ہیں، گلبرگ ، ماڈل ٹاؤن ، ڈی ایچ اے ، گلشن راوی ، والڈ سٹی ،فیصل ٹاؤن مکمل بند کر رہے ہیں،آج رات 12 بجے کے بعد علاقوں کو بند کرنا شروع کر دیا جائے گا ، روزمرہ کی ضرورت کی دکانیں پہلے بھی نہیں بند کی گئی تھی اب بھی بند نہیں کریں گے ، جہاں بھی پابندی لگائی جائے گی وہاں یہ دکانیں کھلی رہیں گی،ہم چاہتے ہیں معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے اور کورونا پر بھی قابو کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،پرائم منسٹر اور چیف منسٹر نے کہا تھا کہ آپ نے استعداد میں اضافہ کرنا ہے،لاہور کے اندر ہسپتالوں میں بیڈز اور آئی سی یو میں بیڈز کا بھی اضافہ کیا ہے جبکہ وینٹی لیٹرز کی مقدار میں بھی اضافہ کیا گیا ہے،طیب اردوگان ہسپتال سے 10 وینٹی لیٹرز ملتان میں شفٹ کر دیئے ہیں،ہسپتالوں میں سہولیات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارے پاس 60 وینٹی لیٹرز خالی ہیں، جبکہ 30سے35 فیصد بیڈز اب بھی خالی ہیں،ٹیسٹس کی استعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے اور روزانہ کے تقریبا 10 سے 11ہزار ٹیسٹ کر رہے ہیں،ایک ٹیسٹ کا خرچہ 5 ہزار کے قریب ہے لیکن حکومت تمام ٹیسٹ فری کر رہی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے مزید کہا کہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی کرنےوالوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی، ہم نے کہا آپ ناک اور منہ کو ڈھانپیں چاہیے ،نکاب ،کپڑا کسی بھی چیز سے ڈھانپیں،جب آپ کھانستے ہیں یا چھینکتے ہیں تو آپ سے وائرس کسی کو بھی لگ سکتا ہے۔

Courtesy gnn news