پائلٹ اورائیرٹریفک کنٹرولر دونوں نے مروجہ طریقہ کار کوفالونہیں کیا : غلام سرور

وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرورنے قومی اسمبلی اجلاس میں طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انتہائی دکھ کے ساتھ مجھے بتانا پڑ رہا ہے کہ پائلٹ اورائیر ٹریفک کنٹرولر دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو فالونہیں کیا ۔طیارہ فضائی پرواز کے لیے سو فیصد ٹھیک تھا اوراس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں تھا۔سات مئی کو اس طیارے نے پہلی پرواز کیں ، پانچ پروازیں لاہور کراچی ،کراچی لاہور کے لیے تھیں جبکہ ایک پرواز شارجہ کے لیے تھی ۔ پائلٹ اور معاون دونوں طبی طور پر صحت مند تھے ، پائلٹ نے کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ائیر کنٹرولر نے 3 بار پائلٹ کو اونچائی سے متعلق آگاہ کیا تاہم پائلٹ نے ائیر کنٹرولر کی ہدایات کو نظر انداز کیا، کوتا ہی پائلٹ اور ائیرکنٹرولر دونوں کی طرف سے ہوئی، عبوری تحقیقات رپورٹ میں کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کی کوتاہی سامنے آئی جب کہ رن وے سے 3 مرتبہ انجن ٹکرایا ویڈیو میرے پاس ہے ، رن وے پر لینڈ کرنے کے وقت جہاز کو دوہزار پانچ سو فٹ کی اونچائی پر ہونا چاہیے تھا ۔ لینڈنگ سے قبل جہاز کی اونچائی سات ہزار پانچ سو فٹ تھی ۔ پائلٹ کی اس جانب توجہ مبذول کروائی گئی تھی ۔رن وے سے دس ناٹیکل مائیل پر لینڈنگ گیئر کھولے گئے ، جہاز کا انجن تین بار رن وے پر رگڑیں کھاتا ہے اس کے بعد پائلٹ نے جہاز کو دوبارہ اُٹھا کیا ، اس معاملے پر کوتائی کنٹرول ٹاور کی بھی تھی جہاز جب دوبارہ ٹیک اور کیا تو انجن میں خرابی پیدا ہوچکی تھی ۔
وزیر ہوابازی نے ایوان کو بتایا کہ میں نے وائس ریکارڈر میں دونوں پائلٹس کی باتیں سنیں ، دونوں پائلٹس کے خاندان کورونا سے متاثر تھے اوران دونوں کے سروں پر کورونا سوار تھا۔ پائلٹ اور اے ٹی سی نے مروجہ طریقہ استعمال نہیں کیا، دونوں پائلٹس پرواز کے دوران حاضر دماغ نہیں تھے، پائلٹس کے فوکس نہ ہونے کی وجہ سے حادثہ ہوا۔ جو ذمہ دار حیات ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی،مکمل رپورٹ ایک سال میں آئے گی ۔
غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، 72 سالوں میں طیاروں کے حادثات کے 12 واقعات ہوئے ہیں، ان 12 واقعات کی بروقت تحقیقات ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی جب کہ ذمہ داروں کا تعین اور سزا کے بارے میں بھی کوئی نہیں جان سکا، آج تک عوام اور مرنے والوں کے لواحقین میں تشنگی جاری رہی کہ ان واقعات کے ذمہ دار کون تھے۔وزیر ہوا بازی نے کہا کہ طیارہ حادثہ میں 97 افراد شہید ہوئے، اسی رات ایک ٹیم تشکیل دی، اسی رات یہ بورڈ کراچی پہنچا اور اس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا، انکوائری بورڈ نے احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے۔غلام سرور خان نے کہا کہ۔ جن لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں وہ جہاز کے گرنے کے بعد ہوئیں ۔ 29 گھر اس حادثہ میں مکمل تباہ ہوئے، جن کا ازالہ بھی کیا جائے گا، متاثرہ افراد کو متبادل رہائش گاہیں بھی فراہم کی گئی ہیں، جو افراد جاں بحق ہوئے ان میں 19 افراد کو فی کس 10 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں، ایک گھر کی بچی بھی شہید ہوئی اس کو بھی معاوضہ دیا گیا ہے۔

Courtesy Gnn news