موت کا فرشتہ ذیادہ سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔

مفتی نعیم ؒاور علامہ طالب جوہریؒ شاہ ذبین اور با کمال انسان تھے۔
تحریر: سہیل دانش

مجھے یوں لگ رہا ہے کہ آجکل موت کا فرشتہ ذیادہ سرگرم ہے،موت کفن اور قبرستان کا تذکرہ غالب ہے۔مجھے یاد ہے کہ حضرت مفتی نعیم صاحب کہا کرتے تھے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ موت ایک حقیقت ہے لیکن زندگی اس سے بھی بڑی حقیقت ہے۔ مجھے علامہ طالب جوہری کی وہ محفلیں یاد آ رہی ہیں،جس میں ان کی زندگی ایسی متحرک اور پر جوش کہ ایک ایک انگ سے نشر ہوتی تھی،ایک ایک لفظ سے جھلکتی تھی۔
یہ دونوں اتنے جلیل القدر شخصیات تھے کہ ان کی زندگی کا احاطہ کرنے کے لئے مجھ جیسے عاجز کو شاید کئی کتابیں لکھنی پڑے،انشا ء اللہ کسی وقت یہ حق ادا کرنے کی جرا ت کرونگا۔ وہ دونوں سادگی، شرافت اور ایمانداری کے پیکر تھے۔ شکل و صورت، قول و فعل، نشست و بر خاست، چال ڈھال اور احساسات و خیالات میں خلفائے راشدین کی تقلید کرنا اپنا ایمان سمجھتے تھے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ حضرت مفتی نعیم پوری زندگی ایسے حکمران کا راستہ دیکھتے رہے، جو اسلام کے بنیادی موقف پر ڈٹ جائے۔ جو معاشرے کو سدھارنے کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دے۔جو گھوڑے پر سوار ہو کر ایک دروازے سے داخل ہو کر مارتا دھاڑتا دوسرے دروازے سے باہر نکل جائے۔ جو پردے کو قانون بنا دے۔ نمازیں قائم کرائے، حقیقی معنوں میں زکواۃ وصول کرے اور شریعت نافذ کرے۔ جو قرآن پاک پڑھائے۔ جو معاشرے سے عدم مساوات کھرچ کر الگ کر دے۔ جو دولت کی مساوی تقسیم کرے۔ غربت، بیماری اور بے روزگاری کے خلاف جہاد کرے اور جو تانگے والے سے لیکر کار والے تک اور پرچون فروش سے صنعت کار تک سب کے مسئلے مسائل سمجھتا ہو اور ان کو حل کرتا ہو۔
ایسا ہی موقف علامہ حضرت طالب جوہری ؒکا بھی تھا۔ سچ پوچھیں تو وہ علم کا خزینہ تھے، جو بات کہتے تھے وہ تیر کی طرح دل میں اترتی تھی۔وہ عاشق رسول ﷺ تھے۔ عموماً یہی درس دیتے کہ اسلام طبقاتی تفریق مٹاتا ہے۔ گورے اور کالے کی تمیز ختم کرتا ہے۔ عربی اور عجمی کی دیواریں گراتا ہے۔ انسان کو انسان سمجھتا ہے۔ مظلوم کی آہ سے ڈرتا اور خدا کے قہر سے کانپتا ہے۔ وہ زندگی بھر اسی بات پر زور دیتے رہے کہ حضرت امام حسین ؓ ایک جدوجہد کا نام ہیں۔ وہ ایمان جرات اور جہاد کی عملی شکل ہیں۔ اگر دنیا میں حضرت امام حسین ؓ نہ ہوتے اور اگر وہ کربلا میں اپنے خاندان کی قربانی نہ دیتے۔ تو دنیا میں کوئی شخص برائی کے خلاف اکیلا کھڑا ہونے کی جرات نہ کرتا۔
ان دونوں قابل احترام شخصیات کا ایک بڑا کمال یہ تھا کہ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا شخص گمراہ نہیں ہو سکتا۔حالات کے سمندر میں ڈوب نہیں سکتا۔ برائی کے صحرامیں بھٹک نہیں سکتا۔ ایک دن علامہ صاحب کہنے لگے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ ہمارے شہروں اور قصبوں میں لوگ اب اپنے ناموں کے وہ حصے کاٹ رہے ہیں۔ جن سے ان کے شیعہ اور سنی ہونے کا گمان ہو تا ہے۔ حضرت مفتی نعیم اور علامہ طالب جوہری سچ پوچھیں تو علم کی روشنی کا مینارہ ہیں۔ انہوں نے اپنے خطبات میں یہ ثابت کر دیا کہ حقیقی مسلمان کی شان کیا ہے۔ یہ دونوں نابغہ روزگار شخصیات اس بات پر ہمیشہ کڑھتے رہے کہ ہمارے حکمران کونسا اسلام نافذ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ آپکا اسلام کیسا اسلام ہے۔ یہ کون سی ریاست مدینہ ہے جس کے دامن میں تازہ ہوا کا کوئی جھونکا نہیں، کوئی اصلاح کوئی تبدیلی نہیں۔
اللہ رب العزت سے یہ دعا ہے کہ وہ ان عالی مرتبت اور مذہبی شاہ ذبین شخصیات کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔ آمین