سندھ اسمبلی میں منگل کو تیسرے روز بھی آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری رہی

سندھ اسمبلی میں منگل کو تیسرے روز بھی آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری رہی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے مختلف ارکان نے بجٹ پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس(جی ڈی اے)کے رکن شہریار مہر نے بجٹ پر عام بحث میں حسہ لیتے ہوئے کہا کہ وفاق کے ایشو اپنی جگہ موجود ہیں مگر وہ بھی سندھ کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا۔انہوں نے کہا کہ 25 فیصد ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل رہی پھر بھی سندھ حکومت نے تنخواہیں بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے بجٹ میں 12 سال سے اسکیمیں چلتی آرہی ہیں جو اب تک مکمل نہیں ہوئی ہیں۔سندھ حکومت کے محکمہ صحت ایکسپوز ہوگیا۔سرکاری ادویات ایک گودام سے پکڑی گئی ہیں۔دھندہ ابھی بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے شہروں میں کورونا کے ٹیسٹ کی سہولیات ناکافی ییں۔ پیپلز پارٹی کی رکن غزالہ سیال نے کہا کہ سندھ حکومت نے بجٹ میں ڈاکٹروں کیلیے ہیلتھ الاؤنس رکھا ہے اورکوئی بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔جہانگیر ترین جو چینی اسکینڈل میں ملوث تھا۔اس کو ملک سے بھاگا دیا ہے۔غزالہ سیال نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ اگر ملک میں مہنگائی ہورہی ہے تو وزیر اعظم کرپٹ ہے۔یہ بالکل صحیح کہا تھا کہ وزیر اعظم کرپٹ ہے۔جی ڈی اے رکن وریام فقیر نے ا بجٹ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ٹڈی دل نے تباہیپھیلادی ہے حکومت سندھ نے اس پر اگر رقم رکھی ہوتی تو ہماری فصلیں بچ جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وفاق اس پر اقدام لے تب تک سندھ حکومت ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے خود بھی کچھ کرے۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس پر یہ حکومت پر چاہتی ہے کہ یہ برقرار رہے کیوں کہ لوگ مرتے ہیں تو ان کو اس سے فائدہ ہورہا ہے اور مال مل رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے ارباب لطف اللہ نے کہا کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیشہ قومپرستوں کو مسترد کیاہے اور انہیں سندھ کے لوگوں نے کبھی ووٹ نہیں دیا۔ان کا کہنا تھا کہ کنفیوژن سے حکومتیں نہیں چلتیں مگر موجودہ وفاقی حکومت ہر معاملے پر کنفیوژن کا شکار ہیت۔آج تک یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ کورونا فلو ہے یا وباہے۔انہوں نے ذومعنی انداز میں کہا کہ زلفی بخاری مرادسعید کی سوتن ہے اورزلفی بخاری کے کہنے پربارڈر کھولا گیا
ٹھریک انصاف کی رکن سدرا عمران نے سندھ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو، پیپلز پارٹی نے بجٹ میں یہی اصول اپنایا ہے۔ترقیاتی بجٹ میں کچھ نہیں ہے کووڈ سے لڑنے کے لئیے 5 بلین رکھے گئے ہیں
اے ڈی بی کے لئیے 208 ارب رکھے گئے جسکا صرف 33 فیصد خرچ کیا گیا جس سے حکومت کی کارکردگی کا پتہ چلتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے 28 فیصد محکمے اپنے بجٹ کا 25 فیصد بھی خرچ نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا کہ خدارا صوبہ سندھ کو پی ایف سی دیں،اختیار وفاق سے لیا لیکن ضلعوں کو نہیں دیا گیا۔ پیپلز ہارٹی کے رکن ذوالفقار شاہ نے بجٹ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رحیم یارخان ٹرین حادثے میں جو لوگ مرے ان کی ڈی این اے رپورٹ نہیں آئی،جلی ہوئی ٹرین کے 8 لوگ لاپتہ ہیں کوئی جواب نہیں دیتا۔انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہم چیخ چیخ کے تھک گئے ان کے گھر والے ہم سے پوچھتے ہیں انہیں کیا جواب دیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں کتا کاٹے تو ہر ٹی وی دکھاتا ہے،پنجاب می 25 ہزار لوگوں کوکتوں نے کاٹا مگر کسی نے نہیں دکھایا۔ذوالفقار شاہ نے کہا کہ کچھ دن پہلے جہاز کا حادثہ ہوا یہ بھی وفاق کی نااہلی یے۔انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے پہلے بھی ٹرین کا ایک اور حادثہ ہوا تھا جس میں میرپورخاص کے 30 لوگ جل۔کرمرے تھے۔ٹرین حادثے کے 8 لوگ آج بھی لاپتہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سندھڑی آم کو ٹڈی دل کھا رہی ہے۔
پیپلزپارٹی کی خاتون رکن ندا کھوڑو نے کورونا پھیلنے کا ذمہ داروفاق کوقراردیا۔انہوں نے کہا کہ سیلیکٹیڈ حکومت نے کووڈ کو فلوقراردیدیا،سلیکٹرز دیکھیں پہلے کہا گیا کورونا کیسے کاٹتا ہے۔ حاکم وقت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا سکون توقبرمیں ملتا ہے۔ندا کھوڑو نے کہا کہ وفاق کی ایک خاتون رکن نے کووڈ کو انیس پوائنٹ قراردیا کل بولیں گے کہ ایف سولا میں سولا ٹائر ہوتے ہیں۔ پی پی کی خاتون رکن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو شاباشی دینے کے بجائے بلاجوازتنقید کی گئی۔ پی ٹی آئی کے دیوان سچل پی ٹی آئی نے کہا کہ سندھ حکومت صوبائی فنانس کمیشن کیوں نہیں دیتی،کراچی صوبائی محصولات کا 90فیصد دیتاہے۔صوبائی بجٹ میں کراچی کا شیئر ایک فیصد سے بھی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے لئے سندھ کے بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔عمران خان کو پاکستان کے عوام نے منتخب کیا ہیپیپلزپارٹی کبھی وفاقی جماعت ہوتی تھی،اب وہ ڈسڑکٹ کی جماعت بن چکی ہے۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی شاہد تھیم نے کہا کہ اگر لاک ڈاؤن کرتے تو آج یہ حالات نہ ہوتے۔ہمارے لاک ڈاؤن کی تعریف ڈبلیو ایچ او نے بھی کی ہے۔ تحریک انصاف کے رکن جمال صدیقی نے کہا کہ بجٹ میں جو 132 ارب روپے جو بجٹ میں رکھے گئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ کہاں خرچ ہوتے ہیں۔اسپتالوں کو بیڈ بھی دینا۔صوبے کے اسپتالوں پر رحم کرنا۔تعلیم کا بجٹ میں بھی 20 ارب ترقیاتی رکھا گیا ہے جبکہ اسکولوں میں بھینس بندھی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا ہم سے بھینس مانگے گی کہ میٹرک پاس بھینس دینا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ڈاکہ کے بارے میں ان سے زیادہ کوئی بہتر نہیں جانتا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ک ایک تنبو لگا کر کہتے ہیں اسمارٹ لاک ڈاؤن ہے۔ بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے برہان چانڈیو نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کو اگر کسی نے آئین کے بارے میں سکھایا تو وہ پیپلز پارٹی ہے۔اگر ہم اٹھارویں ترمیم پر بات نہ کریں تو بہتر ہے۔کے پی کے میں اگر تحریک انصاف کی حکومت ہے تو ان کو بھی اٹھارویں ترمیم کا فائدہ ہے۔ ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی منگلاشرما نے کہا کہ ہم پر غیر ذمہ داری کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ہم نئے لوگ ہیں مگر قومی اسمبلی میں ایسا ٹرینڈ آپ نے متعارف کرایا ہم تو صرف فالوو کررہے ہیں۔منگلا شرما کا سرکاری ملازمین کی تنخواہ بڑہانے اور ہیلتھ اسٹاف کا رسک الاؤنس بڑہانے پر سندھ حکومت کی تعریف کی۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں تو ایدھی اور چھیپا ہیں مگر صوبے کے دیگر اضلاع میں ایمبولینس تک نہیں ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کی خاتون رکن ثروت فاطمہ رکن نے کہا کہ سندھ میں جہاں اسکول ہیں تو وہاں ٹیچرز نہیں ہوتے ہیں۔وزیر تعلیم کے اپنے حلقے کے اسکول میں جانور باندھے ہوئے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی نصاب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت دیگر انبیا ء نے جتنی جنگیں لڑی ہیں ان کو شامل کیا جائے۔شہر میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی غیر قانونی عمارتیں تعمیر کرارہی ہے۔چھ عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں لیکن ان متاثرین کو متبادل نہیں دیاجاتا ہے۔سندھ حکومت 12 سال میں ایک بس بھی نہیں۔ہم سندھ حکومت کو جتنی بھی شرم دلا دیں مگران کو شرم نہیں آتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن گیان چند اسرانی نے کہا کہ مخالفین کو حق ہے کہ تنقید کریں لیکن تنقید برائے اصلاح کریں، یہ وقت مل کر ساتھ چلنے کا ہے،بجٹ میں تعلیم، صحت اور زراعت کو ترجیحات میں رکھا گیا۔انہوں نے کہاکہ اگر وفاق وزیر اعلیٰ سندھ کی بات مانتا تو ان وبا اتنی شدت اختیار نہ کرتا۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی لاک ڈاؤن شروع ہوا تو بلاول نے ہدایت کی کہ سب نمائندگان اپنے حلقے میں عوام سے روابط میں رہیں۔چیئرمین کے حکم کے بعد سب عوام کے ساتھ رابطے میں رہے۔سرکاری سطح پر راشن بھی ہم نے تقسیم کیے۔میں نے اپنی ذاتی خرچے پر 5,500 ہزار راشن بیگس فرام کیئے ہیں۔ایم کیو ایم کے رکن جاوید حنیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے اس بارے میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کورنا ایمرجینسی میں سندھ حکومت کی کارکردگی پریس کانفرنس اور ٹی وی انٹر ویو تھے۔ جو فنڈ لوگوں کی تنخواہ کاٹا گیا وہ کہاں گیا۔ غریبوں کو راشن نہیں ملا اپنے لوگوں کو صرف راشن بانٹا گیا۔ٹڈی دل کا خاتمہ نہ ہوا نئی گاڑیاں خرید لی گئیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کا بجٹ غیر قانونی ہے۔ آرٹیکل 140 اے کے تحت صوباء فنانس کمیشن لازم ہے۔ پی ٹی اائی کی دعا بھٹو نے کہا کہ حال ہی میں جب وزیر اعظم کراچی کے دورے پر آئے تو ان کے پتلے جلائے گئے یہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی تعلیم نہیں تھی اور جن لوگوں نے یہ کام کیا انہیں علم ہونا چاہیئے کہ یہی کام بلاول چورنگی پر ہوسکتا ہے اور پتلا تبدیل ہونے میں بھی دیر نہیں لگتی۔دعا بھٹو نے اپنی تقریر میں سندھ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوقئے ایوان میں ایسی تصاویر بھی لہرادیں جن میں کتے کے کاٹے کے متاثرین اور ہلاک ہونے والے بچے شامل تھے۔ان کی تقریر میں سرکاری ارکان کی جانب سے مداخلت کی کوش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے نہ بولنے دیا گیا تو پھر دوسرے بھی یہاں اپنی بات نہیں کرسکیں گے۔ پیپلز پارٹی کی شمیم ممتاز نے سندھ کے عوام دوست بجٹ پرسندھ حکومت کو مبارکباد پیش کی ان کی تقریر کے دوران نصرت سحر عباسی نے درمیان میں مداخلت کی کوشش کی تو وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار نے کہا کہ اس طرح یہ ایوان نہیں چلے گا۔اگر ہم نے بھی اسی قسم کا رویہ اختیار کرکے بولنا شور کردیا تو پھر یہ یہاں بات نہیں کرسکیں گی۔اسپیکر آغا سراج درانی نے بھی نصرت سحر عباسی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ صبح سے ایوان کا ماحول خراب کررہی ہیں اب اپنی نشست پر بیٹھ جائیں۔اس موقع پر پی پی کے ارکان نے نصرت سحر عباسی کے رویہ کے خلاف ایوان میں شمیم شیم کے نعرے بھی لگائے۔ایوان میں خاصہ شور شرابہ ہوگیا جس سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ بجٹ پر پی آئی اے کے شاہ نواز جدون کے مختصر اطہار خیال کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ کی دوپہر تک ملتوی کردیا گیا۔

کراچی (نامہ نگار خصوصی)سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران منگل کو حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان لڑائی جھگڑے اور تو تو میں میں ہوتی رہی جس نے ایوان کا ماحول کشیدہ کردیا۔جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کا ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان کلثوم چانڈیو اور شمیم ممتاز سے جھگڑا ہوگیا، خواتین نے ایک دوسرے کو بدعائیں دیں اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی۔خواتین ارکان اسمبلی کے جھگڑے میں وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاؤلہ بھی کود پڑے اور انہوں نے کہا نصرت سحر عباسی نے گزشتہ روز اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہم ڈنڈا دیں گے۔ مکیش کمار نے کہا کہ تم ہوتے کون ہو یہ کہنے والے کہ ہم ڈنڈا دیں گے، ایم کیو ایم کے جاوید حنیف سے صوبائی وزاراء الجھ پڑے اور معاملی ہاتھا پائی تک پہنچتے پہنچتے رہ گیا۔ منگل کوڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا تو عدا کے وقفے کے دوران ہی جی ڈی اے کی نصرت سحر عباسی اور پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان کلثوم چانڈیو اور شمیم ممتاز کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی تھی۔نصرت سحر نے ڈپی اسپیکر سے کہا کہ انہیں کہا گیا ہے کہ مجھے کو بولنے نہ دو مگر یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔پیپلزپارٹی کی خواتین ارکان نے نصرت سحر کے روئیے کے خلاف ایوان میں سخت احتجاج کیا۔اس موقع پر شمیم ممتاز ن اورکلثوم چانڈیو کا نصرت سحر عباسی کے ساتھ جھگڑا شروع ہوگیا جس کے دوران ان خواتین نے ایک دوسرے کو بدعائیں بھی دیں۔ایک موقع پر شمیم ممتاز نے ی نصرت سحر کو جھڑک دیا اور کہا کہ تم خاموش رہو۔ڈپٹی اسپیکر کے روکنے کے باوجود خواتین ارکان آپس میں لڑتی جھگڑتی رہیں اور انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف غیر پارلیمانی ا لفاظ بھی استعمال کئے۔ پیپلز پارٹی کی غزالہ سیال کی تقریر کے دوران نصرت سحرعباسی نے مداخلت کی کوشش کی تو وزیر پارلیمانی امور بھی میدان میں آگئے اور انہوں نے کہا کہ یہ ہاؤس کسی کی ڈکٹیشن پر نہیں چلے گا۔ان کے دو وزیر وفاق میں بیٹھے ہیں یہ باتئین کہ انہوں نے سندھ کے لئے کیا کیا؟ انہوں نے کہا نصرت سحر عباسی نے گزشتہ روز اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہم ڈنڈا دیں گے۔ مکیش کمار نے کہا کہ تم ہوتے کون ہو یہ کہنے والے کہ ہم ڈنڈا دیں گے۔ بجٹ پر عام بحث کے دوران ایم کیوا یم کے رکن اسمبلی جاوید حنیف کی صوبائی وزیر اویس قادر شاہ اور مکیش کمار چاولہ کے ساتھ پہلے نوک جھونک ہوئی اور پھرتلخ کلامی شروع ہوگئی اور بعد میں معاملہ بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچنے لگا تو حکومتی ارکان نے درمیان میں پڑکر بیچ بچاؤ کرایا۔اس جھگڑے میں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی ارکان بھی آپس الجھ پڑے اور اپنی نشستیں چھوڑ کر ایک دوسرے سے لڑنے پر آمادہ نظر آنے لگے تاہم دیگر ارکان نے بیچ میں پڑھ کر معاملے کو ٹھنڈا کردیا