اختر مینگل کی اہمیت پی ٹی آئی سے پوچھیں…. تحریر: اے حق ۔ لندن

پشتون تحفظ موومنٹ کے پاکستان تحریک انصاف سے علیحدہ ہونے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل سی مچ گئی ہے ۔ اقتدار کی مسند پربےٹھی جماعت کے وزراءو دیگر عہدیداران اختر مینگل صاحب کو منانے کی سعی لاحاصل مےں مصروف ہےں ۔ چند روز قبل بھی پرویز خٹک جو کہ وزیر دفاع ہیں نے ایک مرتبہ پھر پی ٹی ایم کے ساتھ تمام اختلافات پر بات چیت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا تعلق ایک ہی صوبےسے ہے اس لیے ہمیں خیبر پختونخوا کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے سابق فاٹا کو صوبے میں اس لیے ضم کیا گیا تا کہ قبائلی افراد کو مرکزی دھارے میں لایا جاسکے۔ان کا کہنا تھا ان (قبائلی) اضلاع کے عوام تعلیم، صحت کی سہولیات بنیادی مواصلات کے ڈھانچے کے اعتبار سے پیچھے ہیں اس لیے یہ وقت محاذ آرائی کے بجائے مل کر کام کرنے کا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ملک میں بالخصوص خیبر پختونخوا میں سیاسی عدم استحکام سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں قومی اسمبلی کے فلور پر پی ٹی ایم کے حمایت یافتہ آزاد اراکین اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی وفاقی وزرا کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد حکومت نے کچھ شرائط پر پی ٹی ایم کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اس شرط کے ساتھ پی ٹی ایم کو مذاکرات کی دعوت دی تھی کہ وہ صرف پاکستان کے ایجنڈے کی پیروی کریں گے اور اپنی تقاریر میں مسلح افواج کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔پی ٹی ایم کی طرف سے اس پیشکش کاکوئی واضح جواب نہیں آیاہے بلکہ ممبرقومی اسمبلی علی وزیرکی ایک ویڈیوسامنے آئی ہے جس میں انہوں نے نفرت انگیزگفتگوکی ہے اورتعصب کوہوادی ہے پی ٹی ایم کایہ رویہ افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے۔
گزشتہ سال بھی جب انہیں مذاکرات کی دعوت دی گئی تھی توان کی طرف سے مثبت جواب نہیں آیاتھا بلکہ بہانے بناکرفراراختیارکیاتھا پرویزخٹک کی طرف سے ایک مرتبہ پھرپی ٹی ایم کومل بیٹھنے کی پیش کش اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ریاست خیبرپختونخواہ کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے اورضم شدہ قبائلی علاقوں میں امن اورخوشحالی کی خواہاں ہے ،اگرپی ٹی ایم قبائلی اضلاع کے عوام کے ساتھ مخلص ہے توانہیں اس پیش کش کاخیرمقدم کرناچاہیے ، پی ٹی ایم کاالمیہ یہ ہے کہ وہ مذاکرات پریقین نہیں رکھتی مذاکرات ان کے مزاج سے میل نہیں کھاتے ،سیکولراورلبرل انہیں شہہ دے رہے ہیں امریکہ اوریورپی ممالک میں بیٹھے گلالئی اسمعیل اوران جیسے دیسی گورے ریاست مخالف پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں انہیں خطرہ یہ ہے کہ آج اگرمذاکرات کے ذریعے ضم شدہ قبائلی علاقوں کے مسائل حل ہوجاتے ہیں توان کی روزی روٹی ختم ہوجاتی ہے اس لیے یہ گفت وشنیدکے ماحول کوپسندنہیں کرتے انہیں پختونوں کے مسائل کے حل ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ انہیں اپنی دوکانداری کی فکرہے ،یہ دوکانداری تب ہی چلے گی جب بدامنی ہوگی ،خوف ہوگا ،پروپیگنڈہ ہوگا ریاست اورریاستی اداروں کے خلاف الزام تراشیاں ہوں گی ،پی ٹی ایم کاالمیہ یہ بھی ہے کہ یہ قبائلی اضلاع کے مسائل کی درست نشاندہی کرتی ہے مگران کاحل ملک دشمنی یا ریاست مخالف بتاتی ہے جس سے جذباتی نوجوان ریاست مخالف جذبات میں بہہ جاتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کوبھی قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھاناہوں گے اگرپی ٹی آئی کاقبائلی اضلاع کے ساتھ بھی وہ ہی وطیرہ رہاجوملک بھرکے عوام اورملک کے ساتھ ہے توپھران علاقوں میں پی ٹی ایم جیسے کئی گروہ کھڑے ہوجائیں گے جوجھوٹے پروپیگنڈہ کے ذریعے پختون عوام کوگمراہ کریں گے ،حکومت کوان متاثرین کی آبادکاری کے لیے اقدامات اٹھاناہوں گے جوآپریشن سے متاثر ہوئے تھے ورنہ پی ٹی ایم جیسے گروپ ان متاثرین کے نام پراپنی سیاست چمکاتے رہیں گے اوران کی دوکانداری چلتی رہے گی ،واضح رہے کہ پی ٹی ایم سارے قبائلی اضلاع کی یاتمام پشتون کی نمائندہ جماعت نہیں ہے حکومت اورریاست کواس حوالے سے تمام قبائلی اضلاع اودیگرجماعتوں کوبھی اعتمادمیں لیناہوگا۔
قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن ضرب عضب آج سے ٹھیک چھ سال پہلے 15 جون 2014 کو شروع ہواتھا جس کے بعد ملک بھرسے دہشت گردی کاخاتمہ ہواسرکاری عداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ 10 ہزار خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل گئے تھے جن میں سے اب بھی 15 ہزار چھ سو خاندان متاثرین کیمپ بکا خیل میں موجود ہیں۔ ان میں زیادہ تر افغان سرحد کے قریب مداخیل اور دتہ خیل قبائل شامل ہیں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 15 ہزار مکانات تباہ ہوئے جبکہ میران شاہ اور میرعلی کے بازاروں میں 20 ہزار سے زیادہ دوکانیں اور مارکٹیں بھی مکمل طور زمین بوس ہوگئی تھیں۔ حکومت کی طرف سے تباہ شدہ مکانات اور دوکانوں کے مالکان کو مناسب معاوضہ دیا جارہا ہے۔
ایک طرف محسن داوڑیہ کریڈٹ لے رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں یونیورسٹی کاقیام ان کاکارنامہ تودوسری طرف ضم شدہ اضلاع کے فنڈزپرکٹ لگادیاگیاہے مگروہ مسلسل خاموش ہیں حالانکہ یونیورسٹی کاقیام ان کانہیں بلکہ گزشتہ سال وفاقی حکومت کی طرف سے یونیورسٹی کے قیام کااعلان کیاگیاتھا محسن داوڑ نے صرف یہ کیا کہ اسمبلی میں سوال پوچھا کہ شمالی وزیرستان کے یونیورسٹی کا کیا سٹیٹس ہے جس کا حکومت نے جواب دیااس میں اب محسن کو کریڈٹ کیسے جاتاہے؟شمالی وزیرستان میں یونیورسٹی کے قیام کی فزیبلٹی جائزہ 20مارچ 2020کوہائرایجوکیشن کمیشن کے ڈی ڈی ڈبلیوکی جانب سے 7.560ملین روپے کی لاگت سے منظورہواتھا اور پی ایس ڈی پی 2020-21کے لیے 7.560ملین روپے مختص کرنے کی تجویزدی ہے۔
قومی قیادت کوبھی ان علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے وسیع ظرفی کامظاہرہ کرناہوگا این ایف سی ایوارڈ کے تحت یہ طے ہواتھا کہ ہرصوبہ اپنے حصے سے تین فی صدسابق فاٹا کودے گا مگرحیرت ہے کہ سندھ نے امسال یہ تین فیصد دینے سے انکارکردیاہے اس طرح وفاقی حکومت نے خیبرپختونخواہ میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کے فنڈزپر42ارب روپے کاکٹ لگادیاہے مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں سرتاج عزیزکی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کے تحت قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے سالانہ 90ارب روپے مختص کرنے کافیصلہ کیاتھا لیکن موجودہ بجٹ میں قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے 48ارب روپے تجویزکیے گئے ہیں،پی ٹی ایم کی قیادت اس کٹوتی پرخاموش ہے کیوں کہ انہیں قبائلی عوام نہیں اپنے مفادات اورکاروبارعزیزہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے صوبوں سے کہا ہے کہ وہ قومی خزانہ کمیشن (این ایف سی)کے حصص کی مناسبت سے قبائلی علاقوں کی خصوصی ترقی اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے آئندہ سال اپنے اپنے بجٹ میں سے مشترکہ طور پر 110 ارب روپے مختص کریں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے کے نام پر بہت سارے فنڈز خرچ ہو چکے ہیں اور ڈالر وصول ہوئے ہیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں مل سکا ہے جبکہ عدم استحکام کے دشمن قوتیں اس خطے میں بہت متحرک ہیں جس کی قیمت تمام صوبوں کو برداشت کرنا ہوگی۔اسدعمرکاانتباہ نہایت اہم ہے پی ٹی ایم اپنے بیرونی آقاو¿ں کے اشارے پرقبائلی اضلاع میں امن اورخوشحالی کی مخالف ہے اوروہ ایک گھناو¿ناکھیل کھیلنے میں مصروف ہے ریاست کومذاکرات کے ساتھ ساتھ ان بین الاقوامی سازشوں اوران کے ایجنٹوں کابھی قلع قمع کرناہوگا۔