وزیراعظم ریلیف فنڈ کے ایک روپے کا بھی بتایا جائے گا کہ کہاں خرچ ہورہاہے

وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونرز سے بات کرنےکا موقع ملا ہے،پیسہ دینے کا پاکستانی قوم کا جذبہ میں سمجھتا ہوں، اس اسکول میں گیاجہاں سب سے امیرلوگوں کے بچے پڑھتے تھے، آخر میں پیسہ مجھے عام لوگوں نے دیا۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں میں خیرات دینے کا بہت بڑا جذبہ ہے، پاکستانی اللہ اور آخرت کو مانتے ہیں، کسی نے اتنا پیسہ پاکستان میں اکٹھانہیں کیاہوگاجتنا میں نے کیا، کینسراسپتال کے لئے پاکستان میں لوگوں کے پاس گیا، کینسراسپتال کی پاکستان میں تعمیر کا بڑا چیلنج تھا۔

عمران خان نے کہا کہ شوکت خانم اسپتال میں75فیصدمریضوں کا مفت علاج ہوتاہے، جو اسپتال70کروڑ میں بنا تھا،اس کا سالانہ خسارہ12ارب روپے ہے، 75 فیصد مفت علاج ہونے پر سالانہ خسارہ 12ارب ہےان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا پیسہ ٹھیک جگہ جارہاہے،چوری نہیں ہورہا، 2005 کےزلزلے،2010کےسیلاب سےمتاثرہ علاقے دیکھے، دریائے سندھ کے اطراف آبادی دیکھی،پتہ چلا بالاکوٹ کے علاقے متاثر ہوئے، 3 میل تک لوگ گاڑیوں میں متاثرہ افراد کو سامان دینے کیلئے جارہے تھے، جہاں پتہ تھاوہاں لوگ پہنچتےتھےلیکن جہاں نہیں پتہ تھاوہاں کےلوگ بھوکے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کی وجہ سےلاک ڈاؤن ہوا،ایسی دنیانےصورتحال نہیں دیکھی، امریکاجیسےملک میں گاڑیوں میں لوگ خیرات لینے کیلئے کھڑے ہیں، اٹلی میں لوگ بھوکے ہیں ان کوکھانےفراہم کئےجارہے ہیں، میں ان ممالک جیساکبھی یہاں لاک ڈاؤن نہیں ہونے دیتا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دیہاڑی دار کے بچے روز کی کمائی سے ہی کھاناکھاتے ہیں، ہم نے بھی لاک ڈاؤن کردیا،پھر بہت تنقید ہوئی، مودی نے بھارت میں سخت لاک ڈاؤن کیا،وہاں کے لوگ بدحال ہوگئے، صوبے اگر مجھ سے پوچھتے تو میں کبھی ایسالاک ڈاؤن کرنے نہ دیتا۔

انھوں نے کہا کہ مستحقین میں پیسے تقسیم کرنے کیلئےلاڑکانہ گیا، مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ لاڑکانہ میں چھابڑی والے کا کام کیوں بند کردیا گیا، ایک روپے ڈونیشن آئے تو4روپے حکومت خود سے جمع کراتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یورپ اور ووہان سے ہماری صورتحال مختلف تھی، صوبے اگرمجھ سے پوچھتے تو میں کبھی ایسالاک ڈاؤن کرنےنہ دیتا، بڑی تنقید ہوئی لیکن میری بات سن لی۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں سڑکوں پرلوگ سوتے ہیں توکیوں سوتے ہیں، لاہورمیں داتادربار کے اطراف سڑکوں پر لوگ سوئے ہوتے ہیں، یہ ہمارے معاشرے کیلئے شرمناک بات ہے، یہ لوگ شہروں میں کام ڈھونڈنے کے لئے آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسےلوگ دیہاڑی لگاکراپنےبچےپالتے ہیں، ایسے دیہاڑی دار لوگوں کے لئے پناہ گاہیں بنائیں،کھانا فراہم کیا جاتاہے، بڑے اسپتالوں کے باہر مریض کے لواحقین سورہے ہوتےہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہےایسے افرادکیلئے پناہ گاہیں مختلف حصوں میں بناتے رہیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم ریلیف فنڈکے ایک روپے کا بھی بتایاجائے گا کہ کہاں خرچ ہورہاہے، وزیرپناہ گاہ میں جا کران لوگوں کیساتھ کھانا کھائیں اور مسائل پوچھیں، لوگوں کویقین ہونا چاہئےکہ ان کاپیسہ درست جگہ لگ رہاہے، نریند رمودی جیسا کرفیو نہیں لگایا،ہم نے پھر بھی ملک میں کام چلنےدیا، ہم تفصیلات دیں گے کہ لوگوں کاپیسہ کس طرح شفاف طریقے سے خرچ ہورہا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا اگلا مہینہ مشکل ہے، ٹائیگرز فورس کو اب ہاٹ اسپاٹ کی طرف بھیجیں گے ، کوشش ہے اگلے مہینے تک لاک ڈاؤن کے اثرات سے لوگوں کو بچالیں، پہلے سےبیمار افراد کو کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہے۔

اس سے قبل معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا احساس کیش پروگرام کورونا کے تناظرمیں جاری ہے، پروگرام سے 1کروڑ60لاکھ افراد کی مدد کی جائےگی جبکہ احساس پناہ اورلنگرموبائل ایپ کاآغاز کرنے جارہے ہیں

Courtesy Ary News