پٹ فیڈر کینال اور ذیلی شاخوں کی تباہی، ٹیل تک پانی نہ پہنچنے کی اصل وجوہات

پٹ فیڈر کینال اور ذیلی شاخوں کی تباہی، ٹیل تک پانی نہ پہنچنے کی اصل وجوہات

نصیرآباد بلوچستان کا واحد علاقہ ہے جہاں آبپاشی یا نہری نظام ہے۔ یہاں پٹ فیڈر کینال کے نام سے صوبے کی بڑی نہر ہے جس پر لاکھوں ایکڑ اراضیات سیراب ہوتی ہےپٹ فیڈر کینال کا کام سابق صدراور فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان کے دور میں 60کی دہائی میں ہوا پٹ فیڈر کینال ضلع نصیرآباد کے عوام کے لیے جنرل ایوب خان کی جانب سے لازوال تحفہ ثابت ہوا پٹ فیڈر کینال کے قیام سے پہلے ضلع نصیرآباد کی آبادی نہ ہونے کے برابر تھی نصیرآباد کے علاقے میں پٹ فیڈر کینال سے پہلے نہری نظام نہ ہونے کے باعث یہاں انسان تو کیا حیوان اور چرند پرند کا زندہ رہنا بھی ایک معجزہ تھا پٹ فیڈر کینال کے کام مکمل ہونے کے بعدشھیدذوالفقارعلی بھٹونے زرعی اصلاحات کٸے جن کی بدولت غریب کاشتکار زمینوں کے مالک بن گٸے بعد میں زراعت کی ترقی کیلٸے ایک پروجیکٹ چائنہ کی مدد سے شروع کیا گیا جس میں چائینیز انجنیئرز نے پٹ فیڈر کینال کے ذیلی شاخوں کی ڈیزائینگ کرکے کام مکمل کرایا پٹ فیڈر کینال کے ذیلی شاخوں میں سے زمینداروں اور کسانوں کو پانی فراہم کرنے مائینرسسٹم اورسم نالہ متعارف کرایاگیامائینرزاس لئے بنائے گئے کہ شاخ سے ایک ہی سسٹم کے سے برابری کی بنیاد پر پانی نہر کے اندر جائے اور مائینر کے ایریے میں آنے والی تمام زمین کے مالکان زمینداروں کو اپنے وارہ کے مطابق پانی مل سکے اور شاخ کو بھی کوئی نقصان نہ ہواور ٹیل تک بھی پانی باآسانی پہنچ سکے جوکہ کافی عرصے تک کامیابی سے پانی کاسسٹم چلتا رہا پٹ فیڈر کینال کو چلانے والامحکمہ ایریگیشن میں شروع سے لیکر اب تک کئی آفیسران لوکل اور مقام تعینات ہوئے جنھوں نے شروع سے لیکر بڑے عرصے تک کینال کو خوش اسلوبی سے بہتر طریقے سے چلاتے رہے جن میں سید علی محمد شاہ، علی اکبر زہری،محمدابراہیم رند،عبدالستار لاکٹی عبدالحمید مینگل شامل ہیں جن میں سے بعض آفیسران ہونے کے ساتھ ساتھ پٹ فیڈر کینال کے زمیندار بھی رہے ہیں جنھوں نے کینال اوراس کے ذیلی شاخوں کے ہیڈ سے لیکر ٹیل تک ایک بہترین منصوبہ بندی کے تحت پانی پہنچاتے رہے ان آفیسران کے تبادلوں کے بعد بھی کچھ عرصہ پانی ٹیل تک پہنچتارہا مگر اس کے بعدرفتہ رفتہ پٹ فیڈر کینال کے آفیسران تبدیل ہوتے رہے اور پٹ فیڈر کینال اور اس کی ذیلی شاخوں کے لئے کروڑوں کی فنڈنگ کے باوجود کینال اور ذیلی شاخیں سیاسی نذر ہونے لگیں اور ٹیل تک پانی پہنچنا اس لئے مشکل ہوگیا کہ محکمہ ایریگیشن کے آفیسران نے پٹ فیڈر کینال اور اس کی ذیلی شاخوں کو منافع بخش ذریعہ سمجھتے ہوئے کھروچنا شروع کرکے تباہی کے کنارے پہنچاتے ہوئے من پسند زمینداروں کو کھلی چھوٹ دے کرپٹ فیڈر کینال بیرون کے بااثر زمینداروں کو بڑی بڑی پمپنگ مشینوں کے ذریعے اور ذیلی شاخوں کے زمینداروں کو سرکاری ڈیزائن کیئے گئے مائینرکے بجائے ہیڈ کے بااثر زمینداروں کی جانب سے بغیر سیکشن کے غیرقانونی پائپ لائن لگا کر پانی چوری پر آنکھیں بند کرکے اپنی جیبیں گرم کرکے خواب خرگوش ہوتے رہے نصیرآباد میں شروع سے لیکر آج تک جتنے بھی ایم پی اے یا ایم این اے منتخب ہوئے ان کی بھی زمینیں اسی پٹ فیڈر کینال یا اس کی ذیلی شاخوں سے آبادہوتی رہی ہیں یا ہوتی آرہی ہیں پٹ فیڈر کینال اور اس کی ذیلی شاخوں کی بھل صفائی کے لئے سالانہ کروڑوں روپے آئے مگر محکمہ ایریگیشن کے آفیسر نے ملی بھگت کرکے بھاری مشینری کے بجائے برائےنام میسی ٹریکٹر کے ذریعے بھل صفائی کرکے فنڈز کا صفایا کرتی رہی ہےاور پٹ فیڈر کینال سمیت ذیل شاخوں سے گزرنے کے لئے بنائی گئی پلیں اول روز سے اب تک وہی ہیں جن کے لئے کروڑوں روپے آئے صرف ان کی معمولی مرمت کرائی جاتی رہی ہے پٹ فیڈر کینال اور اس کی ذیلی شاخوں کی بھل صفائی ٹھیک نہ ہونے،پٹ فیڈر بیرون میں بڑی بڑی پمپنگ مشینیں ،ڈیلی شاخوں کے ہیڈ کے بااثر زمینداروں کے اوور سائز پائپ سے پانی کی چوری کے سبب ٹیل کے زمینداروں تک پانی نہ پہنچنے کے سبب ان کی زمینیں بنجر میں تبدیل ہونے لگیں تھی کہ نصیرآباد کی موجودہ اور قابل ضلعی انتظامیہ کو اس کا شدت سے احساس ہونے لگا کمشنر نصیرآباد عابدسلیم قریشی کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد حافظ محمدقاسم کاکڑ کی نگرانی میں ان کی ٹیم اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی غلام حسین بھنگر، تحصیلدار بہادرخان کھوسہ نے محکمہ ایریگیشن پٹ فیڈر کینال کے ایکسئین نثار احمد مغیری کے ہمراہ بھاری مشینری کے ذریعے پٹ فیڈر کینال کے بیرون میں لگائی گئی بڑی بڑی پمپنگ مشینوں کو مسمار کرکے اپنے قبضے میں لے اور ذیلی شاخوں کے ٹیل تک پانی پہنچادیا چیف انجنیئر کینالزبلوچستان شیر افگن جو کہ ٹیل تک پانی پہنچانے میں انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کام کرتے ہوئے زمینداروں کی شکایات پر خود پہنچ کر شکایت کا جائزہ لیکر زمیندار کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں سرفہرست رہے ہیں ذیلی شاخوں کے ٹیل تک پانی نہ پہنچنے کی اصل وجہ ہیڈ کے زمینداروں کی ڈبل پالیسی چائینہ پروجیکٹ کے تحت بننے والی مائینرز سے پانی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شاخوں کے بڈ میں اوور سائز کے پائپیں لگا کر پانی حاصل کرنا ہے جس کی ایک واضح مثال پٹ فیڈر کینال سے نکلنے والی ذیلی شاخ، مگسی شاخ جس میں چائینہ پروجیکٹ کے تحت شروع سے آخر تک 10 مائینر تعمیر کیئے گئے تھے مگر اس کے بعد بااثر زمینداروں نے سیاسی اثرورسوخ پر مائینر کے ساتھ ساتھ چھوٹے سائز کے پائپیں منظور کراکے اوور سائز کے پائیپس شاخ کے بڈ میں نصب کرکے پانی کا رخ اپنی زمینوں کی جانب موڑ کر پورا پانی چوری کرکے اپنی زمینوں کو سیراب کرنے میں مصروف رہے اور اس سال کے خریف کے سیزن میں مگسی شاخ کے ٹیل تک کمشنر نصیرآباد عابدسلیم قریشی، ڈپٹی کمشنر نصیرآباد حافظ محمدقاسم کاکڑ چیف انجنیئر کینال شیر افگن ایکسئین پٹ فیڈر کینال نثار احمد مغیری اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی غلام حسین بھنگرکے محنت کی بدولت ٹیل تک پانی پہنچآنے میں کامیاب رہے خریف کا سیزن جولائی کے شروع میں اسٹارٹ ہوگا اور امکان ہے کہ سیزن کے شروع میں پانی کی کھپت میں اضافہ ہوکر پانی کی شارٹیج ہوکر ٹیل تک پانی نہ پہنچے جس کے لئے ضلعی انتظامیہ کو شاخوں میں لگائی گئی غیرقانونی پائیپس کے خلاف آپریشن کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر پٹ فیڈر کینال ٹیل کے زمینداروں کو پانی پہنچانے میں محکمہ ایریگیشن سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاخوں پر لگائے گئے غیرقانونی پائیپس کے خلاف آپریشن کرکے نئے ڈیزائن اور سائزکے مطابق زمینداروں کو پائپ لگا کر پانی پینے کا حق دے تاکہ ٹیل تک
ہرسال باآسانی پانی پہنچ سکے
بشکریہ
تحریر۔۔۔۔ایوب کھوسو