نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ کی پریس کانفرنس۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ کی پریس کانفرنس۔
صوبائی حکومت کرونا وائرس کو مزاق سمجھ رہی ہے۔
حکومت ابھی تک کنفیوژ ہے، نہیں سمجھ رہی کہ یہ ہیلتھ ایمرجنسی کا ایشو ہے یا ڈیزاہسٹر کا معاملہ ہے۔
بھاری رقم کےحامل ہونے کی وجہ سے اسے ہیلتھ کے ماہرین کی توسط سے ڈیل کرنے کے بجاۓ ڈیزاہسٹر کے اداروں کی توسط سے ڈیل کیا جارہا ہے۔ جوکہ حکومت کی ناپختگی ہے، اسکا خمیازہ عوام کو تباہی کی صورت میں ملے گا۔
حکومت کی نااہلی کے سبب کرونا وائرس پھیل گئی، اگر مکمل لاک ڈائون نہ کی گئی تو اموات کی شرح بڑھ سکتی ہے۔
کرونا وائرس معمولی نہیں عالمی وبا ہے جس کے تدارک کا واحد زریعہ یہ ہے کہ ڈیزاسٹر کے اداروں کے بجاۓ ہیلتھ ماہرین کی توسط سے ڈیل کیا جاۓ ، احتیاطی تدابیر اور مکمل لاک ڈائون کیا جاۓ ۔
پورے صوبہ میں صرف کویٹہ میں ٹیسٹ کی سہولت ہے باقی تمام اضلاع میں نہیں ہے۔
صوبائی حکومت تمام اضلاع یا ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں پی سی آر مشین، موبائل لیب ،کرونا وائرس کی سہولیات اور حفاظتی سامان مہیا کرے۔
ہسپتالوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیئے فوری اقدامات اُٹھائیں۔
ضلع کیچ میں آئسو لیشن وارڈ نان فنکشنل ہے، وینٹی لیٹر موجود نہیں ہیں۔
وینٹی لیٹر کے نام پر تربت میں BIPAP لائے گئے۔
حکومت کی نااہلی کی وجہ سے تربت میں اب تک 7 سینیئر ڈاکٹر اور ان کے فیملی کرونا سے متاثر ہوئے ہیں۔
تربت میں صرف 423 افراد کی سمپلنگ کی گئی جن میں 71 پازیٹیو کیس آئے۔جس کی شرح 18 فیصد بنتی ہے۔
ضلع کیچ کی 9 لاکھ کی آبادی ہے اس حساب سے متاثرہ افراد کی تعدادِ ہوشربا ہوسکتی ہے۔
نامناسب اقدامات کے سبب تربت میں روزانہ 3 سے 4 مشتبہ مریض ہلاک ہورہے ہیں۔
حکومت فوری کام ڈائون کرے، ہر اضلاع یا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں پی سی آر مشین، وینٹی لیٹر سمیت تمام حفاظتی سامان پہنچانے کے ساتھ ڈاکٹروں کی تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔ ہسپتالوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کے علاوہ عوام سے اپیل ہے کہ اپنی حفاظت کی خاطر بغیر ضرورت باہر نہ نکلیں، سنیٹائزر اور ماسک کا استعمال لازمی کریں اور ہاتھ ہمشیہ دھوتے رہیں۔