ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار کی وفاقی بجٹ پرپوسٹ پر یس کانفرنس

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر میاں انجم نثار،ذاکریا عثمان، ڈاکٹر محمد ارشد،سلطان رحمان،قیصر خان،محمد علی میاں اور دیگر عہدہداران نے وفاقی بجٹ 2020-21پر پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بجٹ روایتی ہے کوئی ریلیف نہیں دیا گیاہے، بجٹ کاروباری برادری کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔سی این آئی سی کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا۔کوپریٹ اور ٹرن آور ٹیکس کم نہیں کیا گیا ہے۔آر ڈی اوراے سی ڈی کو ختم نہیں کیا گیا۔انکم ٹیکس میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔معیشت کو بہتر کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گے۔ڈی ٹی آر ای سکیم کو سادہ نہیں کیا گیا۔ڈسٹری بیوٹررز کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس اورٹرن اور ٹیکس کی شرح کو کم نہیں کیا گیا۔ایس ایم ایز کیلئے ٹیکس کی شرح کم نہیں کی گئی۔کم از کم ٹیکس 1.5% U/S113(i)(e) اور (2) (c) کو کم نہیں کیا گیا۔انکم ٹیکس سیکشن 131 کے تحت نئی شرط لگائی گئی ہے کہ کمشنرز کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے درخواست گزار کو 10فیصد ڈیپوزٹ جمع کروانا ہو گا۔انکم ٹیکس سیکشن 122(5) کے تحت کمشنر کے دیئے گے غیر ضروری اختیارات متعلقہ فیصلے پر اثر انداز ہو سکتیں جو کاروبار کیلئے سود مند نہیں ہے۔1638ایٹمز پر (اے سی ڈ) ختم کی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ توقع تھی کہ کرونا کے باعث ٹیکسز ختم کر دے جائے گے،مگر ٹیکسز میں کمی نہیں کی گئی۔انہوں نے مزید کہاکہ کرونا وباء کی وجہ سے صنعت و تجارت کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور مزید سامنا کرنا پڑئے گا۔ایف پی سی سی آئی کی دی گئی تجاویز میں سے 35فیصد تجاویز پر عمل کیا گیا ہے۔اکنامی سروے میں کہا گیاتھا کہ ملازمتوں کو بچانا ہے مگر موجودہ بجٹ میں اس کا کوئی تاثر نظر نہیں آیا۔کرونا وباء نے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ٹیکسز کی زیادہ شرح مقامی اور بیرونی سرمایہ کاری کو متاثر کر رہی ہے۔دنیا بھر میں پورٹ پر ڈیمرج چارجز معاف کئے گے ہیں مگر پاکستان میں معاف نہیں کئے گے ہیں۔بیوروکریسی کے اختیارات میں مزید اضافہ کر دیا گیا جو کاروبار کے لیے نقصان دہ ہے۔پچھلے سال زراعت نے معیشت کو سپورٹ کیا تھا مگر اس سال زراعت کا شعبہ ٹڈی دل کی وجہ سے بہت بری طرح متاثر ہوا ہے،بعض علاقوں میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے، ملک میں 18اضلاع متاثر ہو چکے ہیں۔معیشت کو بچانے کے لئے اقدامات کئے جائے ورنہ مسائل مزید بڑھ جائے گے۔زیادہ تر صنعتیں مستقبل میں نہیں چل سکیں گی۔حکومت صنعتوں کی بحالی کے لیے اقدامات کرئے۔انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ انکم ٹیکس کی سلیپ کو کم کیا جائے۔ہمسائیہ ممالک کی نسبت پاکستان میں انکم ٹیکس کی شرح زیادہ ہے۔چین سٹورز ایسوسی ایشن کے ساتھ معاہدہ کرکے عمل نہیں کیا گیا ہے۔پچھلے سال کا ریونیو دٹارگٹ بھی پورا نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہاکہ ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے سیلز ٹیکس زیرو ریٹنگ رجیم کو بحال نہیں کیا گیا۔
کیپشن فوٹو:
ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار،ذاکریا عثمان، ڈاکٹر محمد ارشد،سلطان رحمان،قیصر خان،محمد علی میاں اور دیگر عہدہداران پو سٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔