سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کواسپیکرآغاسراج درانی کی صدارت پونے گھنٹے کی تاخیرسے شروع ہوا

سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کواسپیکرآغاسراج درانی کی صدارت پونے گھنٹے کی تاخیرسے شروع ہوا۔ کارروائی کے آغاز میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے ویڈیولنک کے زریعے اجلاس میں شریک ارکان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گھروں میں بیٹھے ارکان اسمبلی ایوان کے تقدس کا خیال نہیں رکھ رہے،انہیں اس حوالے سے ضروری ہدایت جاری کی جائے۔جس پر وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاؤلہ نے کہا کہ کیا کورونا وائرس سے متاثر ارکان کے لئے کرسی پر بیٹھنا ضروری ہے؟آغاسراج نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے پاس جو سہولت ہوگی وہ ہی استعمال کرینگے۔وزیر پارلیمانی امور نے لقمہ دیا کہ ہم ارکان کو پابند تو نہیں کرسکتے کہ وہ اپنے گھر میں کس طرح بیٹھیں۔جس پر قائد حزب اختلاف نے کہا کہ کیا میری تجویز غلط ہے؟اسپیکر بولے کہ آپکی تو ہر تجویز ہی بہت زبردست ہوتی ہے۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ اگر ارکان کو مرضی سے بیٹھنے کی اجازت ہے تو پھر وہ بنیان پہن کر آن لائن بیٹھ جائیں۔

کراچی (نامہ نگار خصوصی) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیر کو خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کے روضہ مبارک کی ازسر نو تعمیرسے متعلق ایک تصیح شدہ قرارداد پیش کی گئی جسے منظور کرلیا گیا۔صوبائی وزیر ناصرحسین شاہ نے گزشتہ قرارداد میں سہوا غلط لفظ پر معذرت کی اورقرارداد سے ام الانبیا ء کا لفظ نکال کر ام الائمہ کا لفظ شامل کردیاگیا۔

کراچی (نامہ نگار خصوصی) سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیر کو جی ی اے کے رکن اسمبلی عارف جتوئی جی ڈی اے
اور اسپیکر آغاسراج درانی کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ کارروائی کے دوران آغا سراج نے نشاندہی کی کہ عارف جتوئی کا ماسک ڈھیلا ہوگیا ہے۔ جس پر وہ بولے جی سرکاری ماسک ہے اس لیے ایسی حالت ہے۔ اسپیکر نے یہ سن کار کہا کہ کیا آپکو نیا ماسک بھجواوں؟ عارف جتوئی نے کہا کہ سرکار کا حکم ہے تو ماسک پہن لیتاہوں ورنہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔

کراچی (نامہ نگار خصوصی) سندھ اسمبلی میں پیر کو دوسرے روز بھی آئندہ مالی سال 2020-21 ء کے صوبائی بجٹ پر عام بحث جاری رہی جس میں حکومت اور اپویزیشن کے ارکان نے بھر پور طریقے سے حصہ لیا بجٹ پر بحث کے دوران جی ڈی اے کی نصرت سحر عباسی اور پیپلز پارٹی کی کلثوم چانڈیو کے درمیان جھڑپ پوگئی جس نے ایوان کا ماحول خراب کردیا۔ پیپلز پارٹی کے ارکن نے وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے اچھا بجٹ پیش کیا مگر ریاست مدینہ کا خواب دکھانے والوں نے عوام کوکوفہ میں دھکیل دیا۔اپوزیشن ارکان نے سندھ کے بجٹ کو عوامی توقعات کے برخلاف قراردیتے ہوئے کہا کہ پی پی ک کرپشن کی وجہ سے سندھ بارہ سال میں بھی ترقی نہ کرسکا۔جی ڈی اے کے رکن اسمبلی عارف مصطفیٰ جتوئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو حکومت پولیو ختم نہیں کرسکی وہ کورونا کیاختم کرسکے گی۔سندھ حکومت کو لاک ڈاون کا بہت شوق ہے لیکن اسپتالوں میں وینٹی لیٹر موجود نہیں ہیں۔وینٹی لیٹرز ہوتے تو سینکڑوں جانیں بچائی جاسکتی۔دس ملین ڈالر کی مشین خریدنے کا مطلب سب جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورکھ ہل کیلیے ہر بجٹ میں فنڈز رکھے جاتے ہیں۔بارہ سال سے گورکھ ہل بنانہیں سکے۔انہوں نے پوچھا کہ کیا گورکھ ہل پر سونے کے ہٹ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو ارب روپے کا راشن کس کو دیا؟جن کو راشن دیا ان کے نام شناختی کارڈ نمبر تو بتائیں۔غریب کے دو ارب روپے کہاں گئے۔انہوں نے کہا کہ وزیروں کیلیے کشتیاں خریدی جارہی ہیں .ٹھارو شاہ میں ڈرینج کی سولہ کروڑ کی اسکیم کیلیے ایک کروڑ روپے مختص کئے۔اس ڈرینج اسکیم کی تکمیل میں تو بارہ سال لگیں گے۔عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم۔کیو ایم کی خاتون رکن رابعہ خاتون نے کہا کہ سندھ حکومت کا بجٹ عوام دوست نہیں ہے۔موجودہ حالات میں تنخواہوں میں اضافہ احس قدم۔ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سال کے دوران کے اسپتالوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا۔شہری حکومت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔اگر صوبائی حکومت مقامی حکومت کو اپنے ساتھ لیکر چلتی تو بہت بہتر ہوتا۔اگر اختیار کو نچلی سطح پر لے جایا جاتا تو صورتحال وہ نہ ہوتا جو ابھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن طارق تالپور نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن بڑھانا اچھا اقدام ہے، ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے پاس وزیر اعلیٰ سے ملنے کا وقت تک نہیں یہ بہت افسوس ناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں وزیر اعظم نے کا بڑا کردار ہے، وزیر اعظم نے ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھر کے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔وزیر اعظم کا سندھ کا رویہ انتہائی افسوسناک عمل ہے۔جی ڈی اے کی رکن نصرت سحر عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں تقریر سے پہلے حلف اٹھاتی ہوں کہ میں نے آج تک اس ایوان میں بولا ہے وہ سچ بولا ہے،اس بجٹ کا بوجھ میں نہیں اٹھاسکتی۔بجٹ کی کتابوں کا پلندہ ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لئے دوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملازمین کیساتھ ہیں انکے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دینگے۔سیسی کے چالیس کروڑ روپے غریب مزدورں کے فنڈ میں فراڈ کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سندھ کیساتھ تھے ساتھ رہیں گے جب کرپٹ حکمران ہونگے تو سندھ کا نقصان ہوگا۔نصرت سحر عباسی نے کہا کہ ایوان میں میرے احتجاج پر اپنے جیالوں کے زریعے مجھے اورمیری ماں کو گالیاں دلوائی گیئں۔ انہوں نے کہا انکے رہنماوں۔کی خواتین بچے پیدا کرنے باہر ملک جاتی ہیں تاکہ وہاں کی نیشنلٹی ملے۔کندھ کوٹ میں خاتون میں بچے کو کچرے میں جنم دیتی ہے۔اللہ کی عدالت میں سندھ کے غریب عوام حکمرانوں کا گریبان ضرور پکڑیں گے۔ نصر ت سحر عابسی نے کہا کہ میں کسی سے نہیں ڈرتی جورات قبر میں ہے وہ ہوگی،مجھے گولی مارنی ہے ماردو۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں اومنی سسٹم چلتاہے۔اگر عذرا پیچوہو کام نہیں کر سکتی تو کیسی اور کو کرسی دیں، اگر وہ آصف علی زرداری کی بہن تو ہم پر کیوں تھوپی گئی۔نصر ت سحر عباسی نے اپنی تقریر میں حکومت سندھ پر کرپشن کے بھی سنگین الزامات لگائے۔ پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی ہیر اسماعیل سو ہو نے اپنی تقریر کے آغاز میں خبردار کیا کہ مجھے اگر کیسی نے ڈسٹرب کہا تو میں یہاں سے اٹھا کر ڈنڈہ ماروں گی۔ان کی اس بات پر اپوزیشن نے شور شرابہ کیا جس پر وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار نے کہا کہ سب کو بات کرنے کا موقع دیا جائے، انہوں نے کہا کہ 66سے 11 ہزار تک کرونا ٹیسٹنگ صلاحیت بڑھانا سندھ حکومت کا کارنامہ ہے، گمبٹ انسٹیوٹ میں سو سے زائد جگر کی پیوندکاری کی گئی،بھارت میں ایک کروڑ تک جگر کی پیوندکاری میں خرچ ہو جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم پر تنقید کی جا رہی ہے کہ سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا حالانکہ ہماری کارکردگی دنیا کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے تھے میں پروٹوکول نہیں لونگا مگر بارہ ہزار کا چیک دینے پر ہیلی کاپٹر پر گئے۔ تحریک انصاف کے رکن بلال غفار رکن نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ یہ ٰ بتائیں کہ وہ کس طرح رینیو کاٹارگٹ پورا کریں گے۔نو ماہ میں صرف اٹھارہ فیصد جمع ہوئے ہیں۔104 ارب کا شارٹ فال ہے۔سندھ کے عوام کو سندھ حکومت کی پرفارمنس معلوم ہونی چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی رکن کلثوم چانڈیو نے کہا کہ سندھ حکومت نے اچھا بجٹ پیش کا ہے۔عوام کو ریاست مدینہ کا خواب دکھایا گیا لیکن انہیں کوفہ میں دھکیل دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ے نظیر کی تصویر کو غریب عوام کے دلوں سے نہیں نکالی جاسکتی ہے۔وفاق کی بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔پی ٹی آئی آئی ایم ایف کا بجٹ نا منظور ہے۔اسٹیل مل کے ملازمین کو بے روزگار کرنا نامنظور ہے۔ کلثوم چانڈیو نے کہا کہ نصرت سحر عباسی کا نام لئے بغیر ان پر تنقید کی اور کہا کہ یہ پرویز مشرف کی باقیات ہے۔جس پر اپوان میں اپوزیشن کی جانب سے شور کیا گیا۔وزیر توانائی امتیاز شیخ نے کہا کہ اپوزیشن کو بات کا موقع دیتے ہیں۔ یہ پھر بھی ایسا کرتے ہیں۔کارروائی کے دوران نصرت سحر عباسی بھی اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئیں اور کلثوم چانڈیو کے بارے میں کہا کہ میں ان کو ایسے نہیں بولنے دوں گی۔ انہوں نے گالی دی ہیں۔ جس پر کلثوم چانڈیو نے کہا کہ اس کو ایون سے باہر نکالو۔نصرت سحر عباسی اور کلثوم ثاندیو کے درمیان خاصی دیر تک تکرار ہوتی رہی اور ڈپٹی اسپیکر بھی ان دنوں کو خاموش کرانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔نصرت نے شور کرتے ہوئے کہا کہ تم۔جیسے گدھے گھوڑوں کے لیے مجھے اللہ نے یہ گلا دیا ہے۔ مکیش کمار چاؤلہ نے کہا کہ اگر ایسا کریں گے تو پھر ہم بھی ایسا کریں گے۔وزیر پارلیمانی امور نے نصرت سحر عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میڈیا پر آگئی ہیں بس کریں۔میری بہن۔ پیپلز پارٹی کی شاہینہ بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہاں سے بہت لوگ ہیں جو اچھل اچھل کر تنقید کرتے تھے۔انہوں نے تو اسٹیل مل کے دس ہزار خاندانوں کے چولہے بند کردیے ہیں جبکہ سندھ حکومت نے غریب عوام کا بجٹ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو بننے کیلیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن سعدیہ جاوید نے کہا کہ خان صاحب کو سہرے سجانے کا بہت شوق ہے،کورونا پھیلانے کا سہرا بھی اپنے سرسجالیاہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے تنخواہوں پنشن میں اضافہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پوسٹر بوائے بتائیں کراچی پیکج کہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ میئر کراچی وسیم اختر خود کہتے ہیں کہ وفاق نے کراچی کیلیے کچھ نہیں دیا۔ ایم کیو ایم کے رکن ندین صدیقی نے کہا کہ دیہی سندھ میں بھی بجٹ لگ جاتاتو ہم خاموش رہتے مگر وہاں کے لوگوں کا حال بھی برا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت سندھ حکومت کو مالیاتی شیئر ملتاہے لیکن وہ بلدیات کو ان کا جائز حصہ دینے کو تیار نہیں۔پیپلز پرٹی کے قاسم سراج سومرو نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال پر تمام لیڈر شپ کو ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا۔اگر لوگ متحد ہوں گے تو یہ ملک آگے چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ جھلیوں کو اپ گریڈ کرنا چاہیئے۔تھر پار کر سے سکھر تک کے صحرائی علاقوں کو پانی کی ترقیاتی اتھارٹی بنائی جائے۔تھر میں اسمارٹ ایگریکلچر متعارف کرانا چاہیے۔تحریک انصاف سنجے گھنگوانی نے کہا کہ چانڈکا اسپتال میں ایکسرے مشین خراب ہے جبکہ سول اسپتال میں ایم آئی آر مشین ناکارہ ہے۔پورے صوبے میں ایک برنس سینٹر کام۔کررہا ہے۔ایمبولینس کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اسپتال کا قیام ضروری ہے۔ اسپتالوں کو اپ گریڈ بھی کیا جائے۔لوگوں کو دور سے آنے میں دشواری ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی عدلیل احمد نے کہا کہ صوبائی بجٹ پر حکمران اشرافیہ کو مبارکباد دیتاہوں۔انہوں نے کہا کہ جٹ کا عوام کی زندگی میں بھتری آتی تو سندھ میں کوئی بھتری نظر آتی زیادہ بجٹ آتاہے تو حکمرانوں۔کے منہ میں زیادہ پانی آتاہے۔ پیپلز پارٹی کے لال چند اکرانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگر کرونا وائرس فلو تھا تو پھر ٹائیگر فور سبنانے کی کیا ضرورت تھی۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ریاض حسین شاہ شیرازی نے کہا کہ ہم سندھ بیراج کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ اس کے بننے سے لوئر سندھ تباہ ہوجائے گا۔کچے کے ساتھ پکے کی زمینں بھی ختم ہو جائیں گی۔انہوں نے کہ کہ 485 کلومیٹر پر مشتمل بیراج پر سندھ حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ضلع ونڈ مل بجلی بنائی جارہی ہے لیکن سی ایس آر کے تحت مقامی ابادی کو مفت بجلی فراہم۔نہیں کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع ٹھٹھہ میں سات سو سے زائد دیہات ہیں لیکن ان کو مستقل نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے ٹھٹھہ ضلع میں میڈیکل کالج کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن نوید انتھونی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صرف یہی کہا ہے گھبرانا نہیں۔
معیشت تباہ ہوگئی یہ کہتے ہیں گھبرانا نہیں جبکہ سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں انسانوں کی نہیں بلکہ گائے بکریوں، اونٹوں کی بات ہوئی۔اب ہم ان کو کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں۔ ایم کیو ایم کے رکن غلام جیلانی نے کہا کہ جناح اسپتال کے تمام وارڈ خالی ہیں مگرکورونا کا ادارہ بھرا ہوا ہے۔لانڈھی کورنگی کے لوگ در بدر ہیں۔یہ لوگ نجی اسپتالوں میں جانے پر مجبور ہیں۔ پانی کی قلت سے کورنگی کربلا بنا ہوا۔ٹینکر مافیا کو پانی کہاں سے ملتا ہے۔ بعدازاں اسپیکر نے اجلاس منگل کی دوپہر تک ملتوی کردیا۔