پاور سیکٹر کو جن سیا ستدانوں اورافسروں نے بربادکیا انھیں سزا دی جائے ۔ 1900 ارب روپے کا گردشی قرضہ عوام سے وصول کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ برآمدی سیکٹر کےلئے بجلی وگیس کے رعایتی نرخ جون کے بعد بھی جاری رکھے جائیں ۔ میاں زاہد حسین

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ، ایف پی سی سی آئی میں بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے توانائی کے شعبہ کی تباہی میں چند سیاستدانوں اورافسروں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے مگر کئی دہائیوں سے اسکی سزا بے گناہ عوام کودی جا رہی ہے ۔ بجلی کو مسلسل مہنگا کرنے کی غلط پالیسی سے ملکی جی ڈی پی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور اب 1900 ارب روپے سے زیادہ کے گردشی قرضوں کا سارا بوجھ بھی صارفین پر ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے جو معیشت کے لئے کرونا وائرس سے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس فیصلہ پر عمل درآمد سے مصنوعات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور عوام بری طرح متاثر ہونگے اس لئے اس پر دوبارہ غور کیا جائے ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ بجٹ میں پہلے ہی محاصل میں زبردست اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے مگر اسکا حل نہیں بتایا گیا جس نے کاروباری برادری کو سراسیمہ کر رکھا ہے کیونکہ وہ اسے منی بجٹ سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ اب گردشی قرضے کا بوجھ پھر عوام پر منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس سے پیداوار اور برآمدات بری طرح متاثر ہونگی اور سینکڑوں کاروبار دیوالیہ ہو جائیں گے ۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ روزانہ تقریباً ایک ارب روپے کی بجلی چوری اور ضائع کی جا رہی ہے جس پر قابو پانے کے بجائے بجلی مہنگی کرنے کا شارٹ کٹ استعمال کیا جا رہا ہے جو ملکی مفادات کے خلاف مگر آئی ایم ایف کی خواہشات کے عین مطابق ہے ۔ عوام پرماضی میں ڈالے گئے سرچارج کی طرح اب ایک نیا سرچارج ڈالا جائے گا جس کے لئے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی ۔ حکومت نے بجٹ میں ہی اس فیصلے کا اعلان کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر بعض قانونی پیچیدگیاں آڑے آ گئیں جسکی وجہ سے فیصلے کو چند دن تک موخر کر دیا گیا ۔ اقتصادی سرگرمیوں میں کمی آنے کی وجہ سے بجلی کی فاضل پیداوار بڑھ گئی ہے جس سے نمٹنے کے لئے حکومت نے نجی بجلی گھر چلانے والے ٹیکسٹائل مل مالکان پر دباءو بڑھا دیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین کو نیشنل گرڈ کی مہنگی بجلی استعمال کرنے پر مجبور کیا جا سکے ۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ برآمدی سیکٹر کےلئے بجلی وگیس کے رعایتی نرخ جون کے بعد بھی جاری رکھے جائیں بصورت دیگر برآمدات کو نا قابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔